نیٹ عمر کی بالائی حد:سپریم کورٹ نے طلبا کی عرضی مسترد کردی
نئی دہلی، 23 فروری (یو این آئی) سپریم کورٹ نے آج ان طالب علموں کی عرضی مسترد کردی جو چاہتے تھے کہ عدالت عظمی 2018 کے نیشنل الیجی بلیٹی اینڈ انٹرینس ٹسٹ (نیٹ) میں ان کا حصہ لینے کے حق میں ہدایت جاری کرے ۔ جسٹس آدرش کمار گوئل کی سربراہی والی ایک ڈویژن بنچ نے سی بی ایس ای کے اس فیصلے میں مداخلت سے انکار کردیا جس کے تحت 2018 کے نیٹ امتحانات میں عام زمرے کے طلب علموں کے لئے عمر کی بالائی حد 25 سال مقرر کی گئی ہے ۔ عدالت نے طلبا کی عرضی کو ناقابل اعتنا قرار دیا۔ طلبا نے سی بی ایس ای کے فیصلے پر اعتراض کیا تھا۔ داخلے کا نوٹی فکیشن 9 فروری کو جاری کیا گیا تھا جس میں معمولی تبدیلی کی گئی تھی جس کے مطابق امیدواروں کے لئے 31 دسمبر 2018 کو یا اس سے پہلے 17 سال کا ہوجانا چاہیے تھا۔ عمر کی بالائی حد عام زمرے کے لئے 25 سال مقرر کی گئی ۔ درج فہرست ذات و قبائل اور دیگر پسماندہ طبقات کے علاوہ با انداز دیگر اہل زمرے کے امیدواروں کے لئے 5 سال کی چھوٹ دی گئی۔ 6 مئی 2018 کو 25 سال یا اس سے کم عمر کے امیدوار ہی نیٹ 2018 امتحانات کے لئے درخواست دینے کے اہل قرار دیئے گئے ۔ یو این آئی۔
Comments are closed.