جموں وکشمیر: محبوبہ مفتی حکومت نے ’اردو کونسل‘ تشکیل دے دی
سری نگر،:: (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر میں محبوبہ مفتی کی قیادت والی حکومت نے ریاست کی سرکاری زبان ’اردو‘ کی ترقی و ترویج کے لئے ’جموں وکشمیر کونسل برائے فروغ اردو زبان‘ تشکیل دے دی ہے۔ محترمہ مفتی نے جمعہ کے روز مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اردو زبان و ادب کی مایہ ناز شخصیت داغ دہلوی سے منسوب شعر ’اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ، سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے‘ سے آغاز کرتے ہوئے لکھا ’ہماری حکومت نے جموں وکشمیر کونسل برائے فروغ اردو زبان کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ کونسل نہ صرف اردو زبان کو زندہ بلکہ اس کی ترقی و ترویج کے لئے کام کرے گی‘۔ واضح رہے کہ ریاستی وزیر برائے خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے رواں برس جنوری کے اوائل میں قانون ساز اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے ریاست میں اردو کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا ’اردو نہ صرف ریاست کی سرکاری زبان ہے جو یہاں کے تمام خطوں میں بولی جاتی ہے بلکہ یہ برصغیر ہند کے ثقافتی ورثہ کا ایک وسیع خزانہ ہے جسے عرف عام میں گنگا جمنی تہذیب کہا جاتا ہے۔ گذشتہ سال حکومت نے اردو زبان کی ترویج کے لئے ایک کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا مگر اسے وقت پر عملی جامہ پہنایا نہیں جاسکا۔ اس سال مجوزہ کونسل کسی مزید لیت و لعل کے بغیر تشکیل دی جائے گی۔ میں نے اس غرض کے لئے دو کروڑ روپے بجٹ میں مخصوص رکھے ہیں‘۔ دریں اثنا ریاست میں اعلیٰ تعلیم محکمہ کے پرنسپل سکریٹری ڈاکٹر اصغر حسن سامون نے جمعہ کے روز اردو کونسل کی تشکیل کے حوالے سے باضابطہ حکم نامہ جاری کردیا۔ حکم نامے جس کی ایک کاپی یو این آئی کے پاس ہے، میں کہا گیا ہے ’بجٹ تقریر میں اعلان کئے جانے والے جموں وکشمیر اسٹیٹ کونسل برائے فروغ اردو زبان کی تشکیل کو منظوری دی جارہی ہے‘۔ کونسل میں ممبران کی تعداد 39 رکھی گئی ہے۔ ریاستی وزیر تعلیم سید محمد الطاف بخاری کونسل کے چیئرمین مقرر کئے گئے ہیں جبکہ ریاست کی تمام مرکزی و ریاستی یونیوسٹیوں کے وائس چانسلروں کو بطور اراکین منتخب کیا گیا ہے۔ ریاست کی ادبی شخصیات و محققین بشمول پروفیسر حامد کشمیری، پروفیسر محمد زمان آزردہ ، پروفیسر نذیر احمد ملک، پروفیسر نور محمد شاہ، پروفیسر احمد قدوس جاوید، پروفیسر ظہور الدین ، ولی محمد اسیر، فاروق مظطر، خالد بشیر احمد اور روزنامہ کشمیر اعظمیٰ کے جاوید آذر کو بھی بطور اراکین منتخب کیا گیا ہے۔ دریں اثنا اردو زبان کے شیدائیوں نے حکومت کے ریاست میں اردو کونسل تشکیل دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ راقف مخدومی نامی ایک ٹویٹر صارف نے وزیر اعلیٰ کے ٹویٹ پر لکھا ’بہت ہی اچھا فیصلہ۔ کشمیر میں اردو زبان کی ترقی کے لئے یہ ایک اچھا اور قابل تعریف فیصلہ ہے‘۔ یو اےن آئی
Comments are closed.