کنن پوشپورہ سانحہ برصغیر کی تاریخ کا دردناک باب:میرواعظ

سرینگر:: حریت کانفرنس (ع )کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے ۷۲ سال قبل کنن پوشپورہ میں پیش آئے المناک سانحہ کو برصغیر کی تاریخ کا وہ دردناک باب قرار دیاجب رات کے اندھیرے میں بھارتی درندہ صفت فوجیوں نے مکانوں میں گھس کر کشمیر کی درجنوں غیور ماﺅں اور بہنوںکو اپنی بربیت کا نشانہ بنایا اور ۸ سال سے لیکر ۰۶ سال تک کی خواتین کے دامن عصمت کو تار تار کیا۔
مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ مہذب دنیا میں اس طرح کے وحشتناک واقعہ کی مثال نہیں ملتی اور اس واقعہ میں ملوث مجرمین کو سزا دینا تو دور کی بات آج تک نہ کسی ملزم کی نہ تو گرفتاری عمل میں آئی اور نہ جمہوریت اور انسانی قدروں کی پاسداری کا دعویٰ کرنے والی بھارتی حکومتوں نے اس انسانی سانحہ کی تحقیقات کرنے کا گوارا کیا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم ان عفت مآب ماﺅں اور بیٹیوں کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کو ”Brave Hearts of Kashmir “قرار دیتے ہوئے انہیں یقین دلاتی ہے کہ ان کی عزت و ناموس کشمیریوں کے دلوں میں محفوظ ہے ۔
میرواعظ نے کہا کہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ بھارت کے وہ لوگ جو انسانی ہمدردی ،رواداری اور عدل و انصاف کی باتیں کرتے ہیں انہوں نے بھی آج تک اس واقعہ پر لب کشائی کی زحمت گوارا نہیں کی ۔
میرواعظ نے کہا کہ کنن پوشپورہ کی کہانی ایک بار پھر گزشتہ دنوں کٹھوعہ میں دہرائی گئی جب ۸ سالہ آصفہ کو وحشتناک طریقے سے بربریت کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ اس وحشیانہ قتل کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی اور ہندو ایکتا منچ کے لوگ بھارت کا جھنڈا لیکر قاتل کے حق میں مظاہرے کرنے لگی ۔
میرواعظ نے کہا کہ کمسن آصفہ کے شرمناک واقعہ کو مذہب یا ذات پات کے عینک سے دیکھنے کے بجائے انسانی نکتہ نظر سے دیکھا جانا چاہئے اور اگر آصفہ کسی دوسرے مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتی تو کیا اس کے قاتلوں کے حق میں بھی اسی طرح مظاہرے ہوتے؟۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے کسی مہذب سماج میں اس طرح کے المناک واقعات کی کوئی گنجائش نہیں اور جولوگ عدل و انصاف اور انسانی قدروں پر یقین رکھتے ہیں انہیں بلا لحاظ مذہب و ملت اس واقعہ کی مذمت کرنے اور قاتلوںکو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔
میرواعظ نے کہا کہ یہ واقعہ اگر جموںوکشمیر کے بجائے بھارت کے کسی دوسرے حصے میں ہوتا تو صورتحال اس سے مختلف ہوتی ۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں پر افسوس ہے جو اس مسئلہ پر سیاست کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے بعد کٹھوعہ کی گجر برادری کو ڈرایا دھمکایا جارہا ہے اور ان کے ساتھ بائیکاٹ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔ ہم جموںکے مسلمانوں کو یقین دلاتے ہیں کہ انہیں تن تنہا نہیں چھوڑا جائیگا اور جامع مسجد کے منبر و محراب سے ان کے ساتھ ہورہی ناانصافی کےخلاف آواز بلند ہوتی رہے گی۔
میرواعظ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ گجر برادری کے لوگوںکو حکومت ہر طرح کا تحفظ فراہم کرے اور اس انسانیت سوز واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملزم کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے فوری اور راست اقدامات اٹھائے۔

Comments are closed.