مشن کشمیر کا پانچواں مرحلہ، مذاکرات کار دنیشور شرما پھر وارد کشمیر
شوپیاں کا دورہ کیا ،12عوامی وفد سے ملاقات کی ،مذاکرات کےلئے سنجیدہ
سرےنگر/ 22 فروری مشن کشمیر کیلئے موجودہ مرکزی سرکار کی جانب سے نامزد مذاکرات کار دنیشور شرما نے آج پہاڑی ضلع شوپیان کا دورہ کرکے یہاں سرکٹ ہاوس میں مختلف وفود سے ملاقات کی ا۔اطلاعات کے مطابق سابق انٹیلی جنس چیف اور مرکزی سرکار کی طرف سے نامزد مذاکرات کار دنیشور شرما نے آج پہاڑی ضلع شوپیان کا دورہ کرکے ضلع کے قریبا 12 نمائندے وفود سے ملاقات کی۔ایک سرکاری عہددار کے مطابق دنیشور شرما ٹھیک ایک بجے قصبہ شوپیاں پہنچے اور اسکے بعد انہوں نے سرکٹ ہاوس شوپیاں میں قیام کیا۔ذرائع کے مطابق اپنے اس دورے کے دوران مرکزی نامزد مذاکرت کار نے مختلف طبقہ ہائے مکتب سے تعلق رکھنے والے عوامی وفود سے ملاقات کی۔سرکاری ذرائع کے مطابق عوامی وفود جن میں زیادہ تر گوجر بکروال طبقے سے تعلق رکھتے تھے نے بنیادی سہولیات جن میں بجلی پانی اور سڑکوں کی خستہ حالی اور انتظامیہ کی جانب سے انہیں نظر انداز کئے جانے والے مطالبات شامل ہے دنیشور شرما کے سامنے رکھے۔ادھر قصبہ شوپیاں کے کسی بھی ہ وفد نے مرکزی سرکار کے نامزد مذاکرات کار سے ملاقات نہیں کی ہے۔قصبہ شوپیاں کے ایک تاجر نے یہ کہہ کر اس کی شوپیاں آمد کو۔فضول مشق قرار دیکر کہا کہ ایک طرف مرکزی سرکار نام نہاد مذاکرات کا ڈھونگ رچاتی ہے تو دوسری طرف جن لوگوں کے ساتھ انہیں ملاقات کرنی تھی انہیں ٹہاڈ جیل میں مقید رکھا گیا ہے۔اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس تاجر نے کہا کہ قصبہ کے گناہ پورہ میں ابھی 6شہریوں کا خون سڑکوں پر ہی بچھا ہیں اور ہم کیسے اس خون کا سودا کرکے اس ثالثی کا حصہ بنیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا بھارتی سرکار سے ایک ہی مطالبہ ہے وہ یہ کہ کشمیریوں کو اپنے واحد حق "حق خود ارادیت کا موقعہ دیا جائے” اور اسی عمل آوری سے پورے برصغیر میں امن کا قیام ممکن ہوگا۔
Comments are closed.