چار ہفتوں بعد جامع مسجد سرینگر میں نماز ِ جمعہ ادا،میر واعظ نے کیا خطاب

سرینگر حریت (ع)کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے حکومت کی جانب سے بار بار تاریخی جامع مسجد سرینگراور دوسری مساجد میں کرفیو اور قدقنوں کے باعث نماز جمعہ کی ادائیگی کو روکنے کی کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کیا ہے کہ آج مسلسل تین جمعہ کے بعد جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے ریاست کے حکمرانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اپنے آقاﺅں کے زیر اثراپنے کو مسلمان کہنے والے حلیفوں کو ہم یاد دلانا چاہتے ہے کہ اسلام میں مسجدصرف انفرادی نہیں بلکہ اصل میں اجتماعی عبادت کی جگہ ہے ۔یہ مسلمانوں کا اجتماعی مرکز ہے جہاں نماز اور دیگر مواقعہ پر مسلمان جمع ہو کر ان کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہےں اور خطبہ ئ¿ جمعہ میں یہی مسائل و مشکلات سامنے آتے ہیں اور قران و سنت کی روشنی میں ان کے حل کا تذکرہ ہوتا ہے۔ میرواعظ نے کہ کہ خاص طور سے گذشتہ30 برسوں سے کشمیر کے عوام کو زبردست ظلم و تشدد اور حقوق بشمول انسانی و مذہبی حقوق کی پامالی کے مسائل تنازعہ کشمیر کے70 سال سے عدم حل اور جابرانہ قبضے کی وجہ سے درپیش ہےں۔ میرواعظ نے کہا کہ مسلمانوں کو بزور طاقت مساجد خاص طورپر جامع مسجد میں نماز جمعہ کے فرض کی ادائیگی سے روک کر ان کو اپنے مسائل اور اپنی آرا و غم و غصے کے اظہاراورمسئلہ کشمیر کے پُر امن حل کے مطالبہ پر بھی پابندی عائد کرنا مذکورہ حلیفوں کے دوغلے پن کی انتہا کو اظہار کرتا ہے۔حد یہ ہے کہ عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی پردہ پوشی کےلئے رہنماﺅں اور دانشوروں کو اس کلیدی مسئلہ کی وجہ سے ہو رہے انسانی جانوں کے زیاں اور ظلم و تشدد پر آواز اٹھانے کےلئے مورود الزام ٹھرایا جاتا ہے۔میرواعظ نے کہا جو عوام کو اس طرح کے پروپگنڈہ سے گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہےں انہیں یہ ذہن نشین کرنا چاہے کہ اس طرح کے پروپگنڈہ یامساجد میں نماز وں پر پابندی اور اجتماعی اظہار و احتجاج کے تمام راستوں پر رکاوتیں کھڑی کرنے سے مسئلہ کشمیر ختم نہیں ہوگا۔ جناب میرواعظ نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کے حل کا جائز مطابہ تسلیم نہیں کیا جاتا مساجد بشمول جامع مسجد کے ممبر و محراب سے یہ مطالبہ سامنے آتا رہے گا ۔میرواعظ نے کہا یہ انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اس مسئلے کی وجہ سے روزانہ ہر طرف قیمتی انسانوں جانوں کے زیاںکے ساتھ ساتھ مشکلات و مصائب مسلسل جاری ہےں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے بشرطیکہ سخت گیرانہ روش اورموجودہ (Status Quo) کوترک کرکے مثبت سوچ و حقائق کے اعتراف اور انصاف کو موقعہ دیا جائے تاکہ اس مسئلے کا حل ہو اورمسلسل خون ریزی کا خاتمہ ہوسکے۔ میرواعظ نے کہا جیسا کہ گذشتہ70 سال کے تجربہ سے ظاہر ہے کہ مسئلہ کشمیر کے کسی فوجی حل کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہےںاور ہندوستان و پاکستان کی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کے بعدان کے لئے موجودہ Status Quo کو باہمی اعتماد کے فقدان اور سرحدوں پر لگاتارگولہ باری کی وجہ سے قائم رکھنا انتہائی مشکل بن گیا ہے۔ ان حالات میںکسی بھی وقت ایک تباہ کن جنگ کا آغاز ہوسکتا ہے لہذا یہ سب کے مفاد میں ہے کہ ہندوستان اور پاکستان بالغ نظری اور سمجھداری کا مظاہرہ کرکے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حق خود ارادیت کے اصول کی بنیاد پر یاپھر ہندوستان پاکستان اور کشمیری عوام کے مابین نتیجہ خیز اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے حل کریں جو اس پورے خطے کے عوام کے بہترین مفاد میں ہوگا۔ دریں اثناءمیرواعظ نے صورہ اسپتال جاکر لبریشن فرنٹ کے علیل چیئرمین محمد یاسین ملک کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کےلئے دعا کی۔

Comments are closed.