ہند و پاک لیڈران تلخ بیان بازی سے گریز کریں: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سرینگر//ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری چپقلش اور الفاظی جنگ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دونوں ممالک سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کیخلاف تلخ بیان بازی سے گریز کرنے کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر جاری کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائیں۔
اپنی رہائش گاہ پر پارٹی لیڈران ، عہدیداروں اور عوامی وفود کیساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جس طرح سے گذشتہ کچھ عرصے سے دونوں ممالک کے لیڈران ایک دوسرے کیخلاف سخت بیانات جاری کررہے ہیں، وہ جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کررہے ہیں۔ دونوں ممالک کے لیڈران کو بالغ النظری سے کام لیکر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھ لینا چاہئے کیونکہ آپسی چپقلش سے دونوں ممالک کو زبردست مالی اور جانی نقصان اُٹھانا پڑ رہا ہے۔
اُس پار بھی فوجی مارے جارہے ہیں، اِس پار بھی فوجی مر رہے ہیں، اُس پاس بھی عام شہری گولہ بار کا شکار ہورہا ہے اور اِس پار کا رہنے والا بھی عتاب میں مبتلا ہے۔ سرحدوں پر جاری گولہ باری سے کسی کی جیت نہیں ہورہی ہے، بس قیمتی انسانی جانوں کا اتلاف ہورہا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تلخیوں اور رنجشوں کا خمیازہ ہمیشہ کشمیری قوم کو ہی بھگتنا پڑا ہے اور آج بھی یہی ہورہا ہے۔
دونوں پڑوسیوں کے درمیاں کڑواہٹ کے نتیجے میں سرحدوں پر گن گرج کا سما ہے اور آر پار سرحدی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ سرحدوں کے نزدیک رہنے والے لوگوں کو ہر وقت اپنے سروں پر موت کا سایہ منڈلاتا نظر آرہاہے اور ایسے میں اُن کی زندگیاں بھی عذاب بن کر رہ گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر لوگ اپنی زندگیاں بچانے کیلئے اپنے گھروں، کھیتوں، مویشیوں ،دیگر املاک اور زندگی بھر کی کمائی کو چھوڑ کر ہجرت کررہے ہیں۔
انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے اپیل کی کہ فوراً سے پیش تر اس تشویشناک صورتحال پر بریک لگائیں اور 2003کے جنگ بندی معاہدے پر سختی سے عمل کریں۔ انہوں نے دونوں ملکوں کے سیاسی رہنماﺅں اور فوجی سربراہوں سے اپیل کی کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور چھوٹی سی تلخیوں اور رنجشوں کو جنگ کا سبب نہ بنائیں کیونکہ دونوں ممالک ماضی میں 4جنگیں لڑ چکے ہیں اور ان جنگوں میں کسی کا بھی فائدہ نہیں ہوا بلکہ ان میں صرف اور صرف قیمتی جانوں کا اتلاف ہوا اور تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔
Comments are closed.