انسدادکورپشن مہم میں ریاستی ویجی لنس آرگنائزیشن کومشکلات
سری نگر: ”انسدادکورپشن مہم میں ریاستی ویجی لنس آرگنائزیشن کومشکلات“ درپیش ہیں کیونکہ” راشی اورکورپٹ سرکاری اہلکاروں کیخلاف تفتیشی و تحقیقاتی عمل میں حکام اورمحکمہ جات حائل “نظرآتے ہیں ۔اسبات کااندازہ باآسانی ان اعدادوشماریامعلومات سے لگایاجاسکتاہے کہ گزشتہ37مہینوں کے دوران جموں وکشمیرمیں سینکڑوں سرکاری افسر، انجینئر،تحصیلدار،پٹواری،کلرک اور دوسرے ملازم ویجی لنس شکنجے میں پھنس گئے ،اوراُن کیخلاف 235 کیس درج کئے گئے لیکن ان میں سے صرف ایک کیس میں ملزمان کیخلاف عدالت میں چالان پیش کیاگیاہے۔کشمیر نیوزسروس کے مطابق سرکاری محکمہ جات میں بدعنوانی کے عمل یاارتکاب کی روکتھام کیلئے مخصوص قانون یعنی انسدادیاروکتھام کورپشن (ترمیمی ) ایکٹ،2006کے تحت سرکاری انتظامیہ میں مختلف نوعیت کی بدعنوانیوں بشمول رشوت ستانی ،مالی خردبردوبے ضابطگیوں ،عہدوں یاپوزیشن کے غلط استعمال اورسفارش یاطرفداری کی بنیادپرسرکاری محکموں میں غیرقانونی بھرتیوں کی روکتھام کی غرض سے کئی متعلقہ سیکشن یادفعات کوسخت بنایاگیاتاکہ ریاستی ویجی لنس تنظیم کواپنی منصبی ذمہ داری نبھانے میں آسانی پیداہوجائے ۔لیکن ویجی لنس کے ٹریک ریکارڈسے صاف ظاہرہوتاہے کہ سرکاری محکموں میں کورپشن ،رشوت ستانی اورمالی خردبردوغیرہ کی روکتھام میں تنظیم اوراسے وابستہ افسروں واہلکاروں کومشکلات درپیش ہیں ۔ریاستی ویجی لنس آرگنائزیشن کی آفیشل ویب سائٹ پردستیاب معلومات کے مطابق تنظیم کی ٹیموں نے گزشتہ37مہینوں کے دوران کورپٹ سرکاری افسروں ،انجینئروں ،تحصیلداروں ،پٹواریوں ،کلرکوں اوردیگرملازموں کیخلاف کل 235کیسوں کااندراج عمل میں لایالیکن حیران کن طورپران میں سے صرف ایک عددکیس میں ہی ملزمان کیخلاف انسدادکورپشن کی ایک عدالت میں چالان پیش کیاگیاہے جبکہ باقی 234کیس ہفتوں ،مہینوں اوربرسوں سے زیرتحقیقات یاتفتیش پڑے ہوئے ہیں ۔دستیاب معلومات کے مطابق ریاستی ویجی لنس تنظیم نے جنوری2015سے جنوری2018تک جموں صوبہ میں سرکاری اہلکاروں کیخلاف مختلف نوعیت کی بدعنوانیوں بشمول رشوت ستانی ،مالی خردبردوبے ضابطگیوں ،عہدوں یاپوزیشن کے غلط استعمال،سفارش یاطرفداری کی بنیادپرسرکاری محکموں میں غیرقانونی بھرتیوں نیزسرکاری ریکارڈمیں قلمزنی کے سلسلے میںکل122کیس درج کئے ،جن میں سے سال2015میں 43،سال 2016میں 31، سال2017 میں 46 اور رواں برس یعنی 2018میں 2کیسوں کااندراج عمل میں لایاگیالیکن حیران کن طورپرکسی بھی ایک کیس میں ابتک کسی عدالت میں ملزمان کیخلاف چالان پیش نہیں کیاگیاہے۔اسی طرح سے ویجی لنس آرگنائزیشن نے کشمیروادی میں مختلف نوعیت کی بدعنوانیوں کاارتکاب کرنے والے سرکاری اہلکاروں کیخلاف جنوری2015سے جنوری2018تک113کیسوں کااندراج عمل میں لایا،جن میں سال2015میں 55،سال 2016میں 23، سال2017 میں 33 اور رواں برس یعنی 2018میں 2کیسوں کااندراج عمل میں لایاگیا۔ریاستی ویجی لنس کی کشمیرشاخ نے ایک کیس میں ملزمان کیخلاف انسدادکورپشن کی عدالت میں چالان پیش کیاہے۔ویجی لنس کے ذرائع نے مذکورہ بالااعدادوشماریامعلومات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ راشی اورکورپٹ سرکاری اہلکاروں کیخلاف تحقیقات مکمل کرنے میں حکام اورمحکمہ جات کاعدم تعاون ایک بڑامسئلہ اوربنیادی رکاﺅٹ بنی ہوئی ہے کیونکہ جب بھی کسی سرکاری ملازم یاافسروغیرہ کیخلاف رشوت ستانی یابدعنوانی سے جڑاکوئی کیس درج کرکے اُسکے خلاف ثبوت وشواہداکٹھاکرنے کاعمل شروع کیاجاتاہے توراشی یاکورپٹ اہلکاریاافسرکے متعلقہ محکمہ کے ساتھی کوئی تعاون نہیں دیتے ،اسلئے تحقیقات کے عمل میں بارباررکاوٹ پیداہوجاتی ہے ۔ویجی لنس کے ایک افسرنے نام ظاہرنہ کرنے کی شرط پربتایاکہ ہم جب کسی سرکاری اہلکارکورشوت لیتے رنگے ہاتھوں پکڑتے ہیں یاکسی سرکاری افسر،انجینئریاملازم کی جانب سے کی گئی کسی بھی نوعیت کی بدعنوانی سے متعلق شکایت ملنے کے بعداپنی جانب سے کارروائی شروع کرتے ہیں توسرکاری افسروں کاعدم تعاون تحقیقات میں حائل ہوجاتاہے ،اوریوں تحقیقات لٹکتی رہتی ہے۔انہوں نے ریاستی ویجی لنس تنظیم کوبناءدانتوں والاشیرTooth-less Tigerمانتے ہوئے کہاکہ جب تک تنظیم کوزیادہ سے زیادہ اختیارات تفویض نہیں کئے جائیں گے اورانسدادکورپشن کے قوانین کوزیادہ سخت نہیں بنایاجائیگاتب تک یوں ہی کورپشن کیسوں کے آگے نہ صرف یہ کہ’زیرتحقیقات‘کابورڈآویزاں نظرآئے گابلکہ سرکاری محکموں میں مختلف طرزکی بدعنوانی کاقلع قمع بھی نہیں ہوگا۔
Comments are closed.