سرحدوں پرجنگ جیسی صورتحال تشوشناک:آرپارکے دانشور

سری نگر: سرحدوں پرجنگ جیسی صورتحال کوتشوشناک قراردیتے ہوئے آرپارکے دانشوروں اورسیول سوسائٹی کارکنوں نے ہندوپاک وزرائے اعظم سے مخاصمت کی راہ ترک کرکے مفاہمت کی راہ اپنانے کی اپیل کی ہے۔انہوں نے حدمتارکہ پرجاری کشیدگی کوبڑی تباہی کاپیش خیمہ قراردیتے ہوئے نریندرامودی اور شاہدخانقان عباسی پرزوردیاہے کہ سیزفائرمعاہدے کی عمل آوری اوراحترام کویقینی بنایاجائے۔ منقسم ریاست جموں وکشمیرکے سرکردہ دانشوروں ،صحافیوں ،قلمکاروں ،سابق سفارتکاروں،سیاسی لیڈروں اورٹریڈلیڈران نے ہندوپاک کے وزرائے اعظم سے سرحدی وسفارتی کشیدگی ختم کرکے تنازعہ کشمیرکوپُرامن طورپرحل کرنے کیلئے مذاکراتی عمل بحال کرنے کی پُرزوراپیل کی ہے۔چودھری لطیف اکبر،ریٹائرڈجسٹس حسنین مسعودی ،صدیق واحد،نیرجامتو،فاروق نازکی ،میرخالد،بدری رینہ،صحافی شجاع بخاری،خاتون صحافی انورادھابھسین ،صحافی ارشادمحمود،ڈاکٹرنتیش کول،غلام مرتضیٰ،جسٹس سیدشریف حسین بخاری،ریٹائرڈائرمارشل کپل کاک،ڈاکٹرتوقیرگیلانی،عبدالخالق واسی،شکیل قلندر،ڈاکٹرمبین شاہ ،عارف کمال اورشاہین کوثرنے وزیراعظم ہندنریندرامودی اوراُنکے پاکستانی ہم منصب شاہدخانقان عباسی کے نام ایک توجہ طلب اپیل جاری کرتے ہوئے جموں وکشمیرمیں دونوں اطراف سے جنگ بندی معاہدے کی عمل آوری اوراحترام کویقینی بنانے کی درخواست کی ہے ۔انہوں نے اپنی اپیل میں خبردارکیاہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جاری سفارتی کشیدگی اورسرحدی ٹکراﺅ کاسب سے زیادہ خمیازہ اورنقصان جموں وکشمیرکے دونوں حصوں میں رہنے والے عال شہریوں کواُٹھاناپڑرہاہے ۔آرپارکی سیول سوسائٹیز سے وابستہ سرکردہ دانشوروں ،صحافیوں ،قلمکاروں ،سابق سفارتکاروں،سیاسی لیڈروں اورٹریڈلیڈران نے ہندوپاک وزرائے اعظم کوخبردارکیاہے کہ لائن آف کنٹرول پرجاری ٹکراﺅکے نتیجے میں صورتحال کسی بھی وقت خطرناک موڑلے سکتی ہے۔انہوں نے کہاہے کہ اگربھارت اورپاکستان کے مابین جموں وکشمیرکوتقسیم کرنے والی حدمتارکہ پرکشیدگی جاری رہتی ہے تواسکے نتیجے میں پورے جنوب ایشیائی خطے میں امن وامان اورسلامتی کوسنگین خطرہ لاحق ہوسکتاہے۔آرپارکی سرکردہ شخصیات نے کہاہے کہ سرحدی کشیدگی کے طول پکڑجانے کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف رہنے والے عام شہریوں کی مشکلات میں مزیداضافہ ہوجائیگا۔انہوں نے مزیدکہاکہ سرحدی ٹکراﺅکے طول پکڑجانے کے نتیجے میں منقسم ریاست کے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہونے کیساتھ ساتھ دونوںاطراف لوگوں میں تشویش ،عدم تحفظ کی لہراورخوف وہراس بڑھ جائیگا۔آرپارکے دانشوروں نے نریندرامودی اور شاہدخانقان عباسی کی توجہ اس تلخ حقیقت کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی ہے کہ دونوں ملکوں میں کچھ عناصرجنگی ذہن رکھتے ہیں ،اورموجودہ صورتحال میں ایسے شدت پسندلوگوں کے بیانات نہ صرف جلتی پرتیل کاکام کررہے ہیں بلکہ اُنکے بیانات کی وجہ سے آرپارریاستی عوام میں سخت تشویش پیداہوچکی ہے۔اپنی توجہ دلاﺅ یاتوجہ طلب اپیل میں آرپارکے دانشوروں اوردیگرامن پسندشخصیات نے کہاہے کہ ہندوپاک کے درمیان سرحدی ٹکراﺅکی صورتحال اورسفارتی کشیدگی کافائدہ اُٹھاتے ہوئے دونوں ملکوں میں موجودشدت پسنداورامن مخالف عناصر صورتحال کومزیدبگاڑنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ،اسلئے دونوں ملکوں کی قیادت کوموجودہ نازک صورتحال کافوری ادراک کرتے نیزہوش کے ناخن لیتے ہوئے جنگ جیسی صورتحال پرقاباپانے کی کوشش شروع کردینی چاہئے ۔انہوں نے ہندوپاک وزرائے اعظم سے جاری صورتحال کوختم کرنے کیلئے سیزفائرمعاہدے کی عمل آوری اوراحترام کویقینی بنانے کی اپیل کرتے ہوئے تعطل کے شکارمذاکراتی عمل کوبحال کرنے کی صلاح بھی دی ہے ۔

Comments are closed.