فوج کا پونچھ میں ایل او سی پر دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ

جموں: فوج نے جمعرات کو جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے مینڈھر سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ۔ دفاعی ترجمان نے جمعرات کی صبح یہاں بتایا ’مینڈھر کے عام علاقہ میں تعینات مستعد فوجیوں نے کچھ مشتبہ نقل وحرکت دیکھی گئی‘۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد طرفین کے مابین گولہ باری کا مختصر تبادلہ ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں تلاشیاں جاری ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق دراندازی کی کوشش کرنے والے جنگجوو¿ں کی تعداد 5 تھی۔ پونچھ میں ایل او سی پر دراندازی کی کوشش ناکام بنانے کا یہ دعویٰ فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل دیوراج انبو کے اس دعوے کہ ’ایل او سی کے دوسری طرف لانچنگ پیڈس پر قریب 300 جنگجو بھارتی حدود میں دراندازی کرنے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے ہیں‘ کے محض ایک روز بعد کیا گیا ہے۔

فوجی کمانڈر نے بدھ کے روز ادھم پور میں شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’لائن آف کنٹرول کے دوسری طرف بھارت میں دراندازی کے لئے قریب 300 جنگجو بیٹھے ہوئے ہیں‘۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاکستانی فوج جموں وکشمیر میں حملوں کی منصوبہ بندی میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے۔ ان کا کہا تھا ’جموں وکشمیر میں حملوں کی منصوبہ بندی میں پاکستانی فوج کا راست کردار ہے‘۔ شمالی کمان کے فوجی کمانڈر نے کہا تھا ’ہمیں تین چیزوں پر اپنی توجہ مرکوز کرنی ہے۔

اول دراندازی کو روکنا، دوم اندرونی علاقوں میں پہلے سے موجود قوم دشمنوں (جنگجوو¿ں) کو ہلاک کرنا اور سوم خطہ میں سرگرم انتہا پسند عناصر کو گرفتار کرنا‘۔ رواں برس کے گذشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران جموں میں ایل او سی اور بین الاقوامی سرحد پر شدید کشیدگی دیکھی گئی جس دوران قریب 20 شہری و فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ریاستی حکومت کے مطابق پاکستان کی طرف سے گذشتہ تین برسوں کے دوران 829 مرتبہ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی۔ تین برس کے اس عرصے کے دوران ریاست بھر میں 41 عام شہری اور 55 سیکورٹی فورس اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں۔

یہ معلومات ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 6 فروری کو قانون ساز کونسل میں ایم ایل سی نریش کمار گپتا کے ایک تحریری سوال کے جواب میں منکشف کیں۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1999 ءکے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ یو اےن آئی

Comments are closed.