کشمیر شاہراہ مسلسل چوتھے روز بھی بند رہی ،وادی میں اشیاءضروریہ کی قلت
سرینگر:سرینگر ۔جموں شاہراہ جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی پسیاں ،چٹانیں اور مٹی کے تودے گر آنے کے سبب بند رہی ۔شاہراہ بند رہنے کے سبب سینکڑوں مال بردارومسافر بردار گاڑیاں درماندہ ہوکر رہ گئیں ۔ادھر وادی کشمیر میں اشیاءضروریہ کی قلت شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے جبکہ ذخیرہ اندوزوں نے چیزوں کی مصنوعی قلت پیدا کرکے عام صارفین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کا عمل شروع کردیا ہے جس پر عوامی حلقے شدید برہمی کا اظہار کررہے ہیں ۔
سری نگر ۔جموں شاہراہ کے مختلف مقامات پر پسیاں ،چٹانیں اور مٹی کے تودے گر آئیں جسکی وجہ سے شاہراہ پر ٹریفک کی آوا جاہی کو احیتاطاً بند رکھی ۔جمعرات کو مسلسل چوتھے روز بھی وادی کشمیر کا بیرون دنیا سے زمینی رابط منقع ہو کررہ گیا ۔
شاہراہ پر سینکڑوں مال بردار ومسافر بردار گاڑیاں درما ندہ ہو کر رہ گئیں ۔ٹریفک حکام کے مطابق نامواق موسمی صورتحال کے سبب بیٹری چشمہ کے مقام پر پسیاں ،چٹانیں اور مٹی کے تودے گر آئے جسکے نتیجے میں شاہراہ پر ٹریفک کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔
ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ جواہر ٹنل کے آر پار شاہراہ کے مختلف مقامات پر 2ہزار سے زیادہ مال بردار ومسافر گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئیں اور اِن میں سوار ہزاروں مسافر بھی شاہراہ پر درماندہ ہیں ۔
ذرائع نے بتایا کہ کچھ مسافروں نے گاڑیاں چھوڑ کر اپنی اپنی منزل مقصود کی جانب جانے کےلئے پیدل سفر شروع کردیا جبکہ شاہراہ پر دیگر درماندہ مسافروں کا کہنا ہے کہ شدید سردی میں اُنہیں سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے جبکہ شاہراہ پر درماندہ مسافروں کا الزا م ہے کہ ہوٹل اور دکاندار اُن سے اضافی رقومات وصول کرتے ہیں ۔
وادی سے تعلق رکھنے والے مسافروں نے الزام عائد کیا کہ ایک تو اُنکے پیسے ختم ہورہے ہیں ،دوسری جانب متبادل انتظامات نہ ہونے کے سبب وہ ذہنی کوفت کا سامنا ہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ بارڈر روڈس آرگنائزیشن کا عملہ شاہراہ سے رکاوٹیں ہٹانے کے لئے مصروف ِ عمل ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ جمعرات کو بعد دوپہر شاہراہ پر ٹریفک بحال ہونے کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیکن کی جانب سے ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی شاہراہ پر ٹریفک کی آوا جاہی بحال کردی جائیگی ۔تاہم انہوں نے مسافروں کےلئے ایڈوائزی جاری کی ہے کہ شاہراہ پر سفر کرنے سے قبل سرینگر او ر جموں میں قائم ٹریفک پولیس کنٹرول رومزسے رابط قائم کیا جائے ۔
ادھر وادی کشمیر میں اشیاءضروریہ کی قلت شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے جبکہ ذخیرہ اندوزوں نے چیزوں کی مصنوعی قلت پیدا کرکے عام صارفین کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنے کا عمل شروع کردیا ہے جس پر عوامی حلقے شدید برہمی کا اظہار کررہے ہیں ۔
47سالہ غلام رسول نامی شہری نے بتایا کہ اشیاءضروریہ قلت شدت کے ساتھ محسوس کی جارہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سبزیوں کی قیمتیں دُگنی ہوگئی ہے ،یہاں پوچھنے والا کوئی نہیں ۔ایک اور شہری محمد مقول نے بتایا’یہاں کہتے لینا ہے ،تو لیجاﺅ ،نہیں آگے بڑھو‘۔
یاد رہے کہ سرینگر ۔جموں شاہراہ واحد زمینی رابط ہے جو کشمیر کو بیرون دنیا سے جوڑتا ہے ۔گوکہ شاہراہ پر چنانی۔ناشری ٹنل تعمیر کی گئی ،تاہم اسکے باوجود شاہراہ آئے روز پسیاں ،چٹانیں اور مٹی کے تودے گرآنے کے سبب بند رہتی ہے جبکہ اسکی خستہ حالی کو دور کرنے کے سرکاری دعوے سراب ثابت ہوررہے ہیں ۔
Comments are closed.