کشمیری نوجوانوں میں عسکریت کا بڑھتا رجحان قابل ِ تشویش:فوج
سرینگر:کشمیری نوجوانوں کے اندر عسکریت کے بڑھتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوج کی شمالی کمان کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل دیو راج انبونے دعویٰ کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا استعمال نوجوانوں کو بڑے پیمانے پر عسکری صفوں میں شامل کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہورہا ہے۔انہوں نے بندوق اٹھانے والوں کو متنبہ کیا اور کہا کہ حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور جیش محمد نامی جنگجو تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں ۔سینئر فوجی کمانڈر نے یہ بھی بتایا کہ اوڑی حملے کے بعد فوجی کیمپوں کی حفاظت پر364کروڑ روپے صرف کئے گئے ہیں اور یہ عمل ملک بھر میں جاری ہے۔
جموں کے ادھم پور علاقے میں قائم فوج کی ناردرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف لیفٹنٹ جنرل دیوراج انبو نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس کے دوران سنجوان فدائین حملے کے تناظر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ریاست بالخصوص وادی کشمیر کے سیکورٹی منظر نامے کے تعلق سے نامہ نگاروں کی طرف سے پوچھے گئے کئی اہم سوالوں کے جواب دئے۔انہوں نے کہا کہ سنجوان حملہ بقول ان کے دشمن کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔اس ضمن میں ان کا کہنا تھا”دشمن بوکھلاہٹ کا شکار ہے اورسافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہا ہے، جب یہ لوگ سرحدوں پر ناکام ہوگئے تو کیمپوں پر حملہ کرنے لگے“۔
ایک سوال کے جواب میں شمالی کمان کے سربراہ نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کشمیری نوجوانوں کا عسکریت کی جانب بڑھتا ہوا رجحان ایک تشویشناک امر ہے۔ان کا کہنا تھا”جی ہاں!نوجوانوں کا عسکری صفوں میں شامل ہونا باعث تشویش ہے،اس رجحا ن پر قابو پانے کی اشد ضرورت ہے“۔لیفٹنٹ جنرل دیو راج انبو نے بتایا”سال2017میں ہم نے جنگجوقیادت پر توجہ مرکوز کی اور اس کا صفایا کردیا ، ان ہمیں اس بات کی طرف توجہ دینی چاہئے“۔کے ایم ا ین کے مطابق ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقامی نوجوانوں کے عسکری صفوں میں شامل ہونے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں اور ان میں سوشل میڈیاکا استعمال سب سے زیادہ مدد گار ثابت ہورہا ہے۔
ان کا کہنا تھا”سوشل میڈیا بھی عسکری سرگرمیوں میں اضافے کےلئے ذمہ دار ہے، اس کی مدد سے نوجوانوں کو وسیع پیمانے پر عسکریت کی جانب مائل کیا جارہا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بہت جلد اس پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہئے“۔وادی کے اندر عسکری تنظیموں کی سرگرمیوں کے بارے میں فوجی کمانڈر نے کہا کہ حزب المجاہدین، لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسی تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں۔ سینئر فوجی کمانڈر نے سخت الفاظ میں کہا کہ عسکریت کا راستہ اختیار کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔ اس بارے میںشمالی کمان کے کمانڈر نے کہا” یہ تنظیمیں ایک دوسرے کے ساتھ ملی ہوئی ہیں ، یہ لوگ ایک تنظیم سے دوسری تنظیم میں شامل ہونے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لیکن جو کوئی بھی شخص بندوق اٹھائے گا اور ملک کے خلاف ہوگا، وہ ایک جنگجو ہے اوراسکے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا“۔
سنجوان جیسے حملوں کو روکنے اور فوجی تنصیبات کی حفاظت سے متعلق ایک سوال کے جواب میں لیفٹنٹ جنرل انبو نے کہا کہ ستمبر2016میں اوڑی فوجی کیمپ پر جنگجوﺅں کے حملے کے بعد ملک بھر میں موجود بڑے فوجی کیمپوں اور چھوٹے یونٹوں کےلئے حفاظتی انتظامات کا درجہ بڑھانے پر364کروڑ روپے کی رقم صرف کی گئی ہے۔اس ضمن میں انہوں نے کہا”یہ عمل پورے ملک میں جاری ہے لیکن فوری طور پر ایسا کرنا بہت مشکل ہے ، ہم اس پر پہلے سے ہی کام کررہے ہیں اور ہمارے پاس مختلف فنڈس بھی دستیاب ہیں کیونکہ یہ ہم سب کےلئے باعث تشویش ہے ، ہمیں دشمن کو دراندازوں کو اِس پار دھکیلنے سے روکنا ہوگا“۔انہوں نے کہا کہ اندرون ریاست کے ساتھ ساتھ سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کےلئے ہر طرح کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ لیفٹنٹ جنرل انبو نے حیدر آباد کے ممبر پارلیمنٹ کا نام لئے بغیر ان کے بیان پر شدید رد عمل ظاہر کیا اور کہا “جو لوگ ایسے بیان دیتے ہیں، وہ فوج کو اچھی طرح سے نہیں جانتے“۔
Comments are closed.