نیشنل میڈیا صورتحال کا استحصال نہ کرے:انجینئر رشید
کپوارہ:عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے نئی دلی پر جموں کشمیر میں موت اور تباہی کے کھیل کو جاری رکھنے میں اپنا مفاد دیکھنے کا الزام لگاتے ہوئے سنجونی کیمپ پر ہوئے حملے میں فوج کے کشمیری اہلکاروں کی ہلاکت کو سیاسی فائدے کے استعمال کرنے سے خبردار کیا ہے۔انجینئر رشید نے یہ باتیںہائہامہ اور میدان پورہ لولاب میں مہلوک فوجی اہلکاروں،حبیب اللہ قریشی اور محمد اشرف،کے گھر تعزتی مجالس سے خطاب کے دوران کہیں۔
انجینئر رشید نے نیشنل میڈیا کی جانب سے کئے جارہے پروپیگنڈہ کے ذرئعہ مہلوک فوجیوں کے جنازہ میں لوگوں کی بھاری تعداد کی شرکت کو ایک الگ رنگ دیکر پیش کرنے اور اسے ذہن کی تبدیلی بتانے کو مسترد کیا اور کہا کہ میڈیا کا ایک طبقہ چیزوں کو اپنے رنگ میں رنگ کر کشمیر کی صورتحال کو من پسند معنیٰ پہنانے کے فراق میں رہتا آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیریوں نے کبھی بھی تشدد نہیں چاہا ہے بلکہ ان پر ہمیشہ ہی تشدد ٹھونسے اور انہیں بد امنی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری قوم تشدد کو پسند نہیں کرتی ہے لیکن اسے ان حالات سے دوچار کیا جاتا رہا ہے کہ جہاں بعض اوقات انہیں اپنی بات مطلوبہ کانوں تک پہنچانے کیلئے نہ چاہتے ہوئے بھی تشدد کا راستہ اختیار کرنا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی بھی مر جائے کشمیری عوام بحیثیت انسان اور بحیثیت مسلمان کے درد محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نیشنل میڈیا ہی ہے کہ جو سنجونی میں ہلاک ہوئے مقامی فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کو کچھ اس طرح سے پیش کرتا ہے کہ جس سے خود کشمیری سماج میں ابہام پیدا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان ہلاکتوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر ان مقامی جوانوں کی جگہ غیر کشمیری بھی ہلاک ہوئے ہوتے تو شائد کشمیریوں کی اکثریت کا ردعمل اور احساسات وہی ہوتے کہ جو مقامی فوجیوں کی ہلاکت پر ظاہر ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان فوجیوں کی آخری رسومات میں بھاری تعداد میں لوگوں کی شرکت کو اپنے ہی معنیٰ پہنانے کی کوشش کرنے والوں کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیئے کہ یہ کشمیریت اور مذہبی فرائض کا احساس ہے کہ جس نے ان لوگوں کو مہلوک فوجیوں کے جنازے میں شرکت پر آمادہ کیا نہ کہ سرکاری ایجنسیوں کی طرح کہ جو مارے جانے والے ملی ٹینٹوں کو نہ صرف خاموشی سے دور کہیں لیجاکر زمین برد کرتے ہیں بلکہ انکی آخری رسومات بھی ٹھیک سے انجام نہیں دی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی مذہبی رسومات اور کشمیریت سے متعلق جانکاری رکھنے والا کوئی عام شخص بھی جانتا ہے کہ فوجیوں کے جنازوں میں لوگوں کی شرکت کو الگ ہی معنیٰ پہنانا محض ایک بیوقوفی کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنے مفادات کیلئے چیزوں کو من پسند رنگ میں پیش کرنے والے میڈیا کو یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ مہلوک فوجی اہلکار حبیب اللہ قریشی کا گاو¿ں ان بد نصیب علاقوں میں شامل ہے کہ جہاں تقریباََ اڈھائی سو خاندانوں کو سرکاری فورسز نے نوے کی دہائی کی ابتداءمیں ہجرت کرنے پر مجبور کردیا تھا اور وہ لوگ تب ہی سے کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں جس پر کوئی ایک لفظ بھی نہیں بولتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مہلوک فوجیوں کی لاشوں کو ترنگے میں لپیٹنے سے نہ ہی وہ زندہ ہوسکتے ہیں اور نہ انکے خاندانوں کو ہی کوئی راحت پہنچ سکتی ہے بلکہ جب تک نہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے موت اور تباہی کا گندہ کھیل جاری رہے گا اور بے گناہوں کے جنازے اٹھتے رہیں گے۔مہلوک فوجیوں کے اہل خانہ کے سمیت تعزیتی مجالس میں موجود لوگوں کے سامنے مسئلہ کشمیر کے التوا میں رہنے کے مضر اثرات بیان کرکے انجینئر رشید نے ان سبھی سمیت یہ عزم دہرایا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کیلئے رائے شماری کیلئے کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
Comments are closed.