سائنسدانوں کا تجزیہ :موسمیاتی تبدیلی کے سبب 32 لاکھ ٹن دودھ کی پیداوار گھٹے گی
نئی دہلی :موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور درجہ حرارت میں اضافہ سے صرف زرعی شعبے پر ہی نہیں بلکہ دودھ دینے والے جانوروں پر بھی اس کے منفی اثرات پڑیں گے جس کی وجہ سے دودھ کی پیداوار میں 2020 تک 32 لاکھ ٹن کی کمی ہونے کا اندازہ ہے ۔
سائنسی جائزوں میں کہا گیا ہے کہ درجہ حرارت میں ہو رہے اضافہ کی وجہ سے گائے اور بھینس کے دودھ دینے کی صلاحیت پر منفی اثر پڑے گا جس سے اگلے دو سال میں دودھ کی پیداوارمیں 32 لاکھ ٹن تک کی کمی آ سکتی ہے ۔ دودھ کی موجودہ قیمت سے یہ نقصان سالانہ 5000 کروڑ روپے سے زیادہ ہو سکتا ہے ۔
ماحول میں آنے والی تبدیلی کا سب سے زیادہ اثر کریکٹر ہائبرڈ گایوں پر ہوگا جن میں ‘جرسی’ اور ‘ھالسٹین فزیشین’ شامل ہیں۔ اس کے بعد اس کا اثر بھینس پر ہو گا۔ ماحولیات میں تبدیلی کی وجہ سے جانوروں کا نہ صرف تولیدی عمل متاثر ہوگا بلکہ دودھ کی پیداوار بھی کم ہو جائے گی۔
کریکٹر ہائبرڈ گایوں میں گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت کم ہونے کے ساتھ ہی بیماریوں کے خلاف قوت مزاحمت بھی کم ہوتی ہے ۔اس سے ان کے سب سے زیادہ متاثرہونے کااندیشہ ہے ۔ ملک میں کریکٹر ہائبرڈ گایوں کی تعداد تقریبا چار کروڑ ہے ۔وزارت زراعت کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تقریبا 19 کروڑ گائیں ہیں جن میں سے 20 فیصد غیر ملکی نسل کی جبکہ 80 فیصد دیسی نسل کی گائیں ہیں۔ملک میں مجموعی دودھ کی پیداوار میں غیر ملکی نسل کی گایوں کا حصہ 80 فیصد ہے جبکہ دیسی نسل کی 20 فیصد ہے ۔
حکومت نے 2020-21 تک 27.5 کروڑ ٹن دودھ کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا ہے ۔ ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے اور یہاں فی شخص 355 گرام دودھ دستیاب ہے ۔ لیکن دودھ دینے والے جانوروں کی پیداوار دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے ۔ دنیا میں ددھ دینے والے جانوروں کی سالانہ اوسط پیداواری 2206 کلو گرام ہے جبکہ ہندوستان میں 1698 کلو گرام ہی ہے ۔ دیسی نسل کی گایوں میں قدرتی گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے جس کی وجہ سے وہ موسمیاتی تبدیلی کے دبا¶ سامنا کرنے کی اہل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان کی جسمانی ساخت ایسی ہے جس سے ان میں بیماری کے خلاف مزاحمت بھی زیادہ ہے ۔ اس کے ساتھ ہی ان میں جراثیمی کیڑوں کے حملے کو برداشت کرنے کی طاقت زیادہ ہے ۔
امریکہ، آسٹریلیا، برازیل جیسے ممالک نے اپنی گایوں کو درجہ حرارت میں اضافہ سے بچانے کے اقدامات کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر تحقیقی کام شروع کیا ہے ۔اس کے لیے انہوں نے ہندوستانی نسل کی گائیں درآمد کی ہے اور ان پر مسلسل تحقیق کر رہے ہیں۔ اس سے ان ممالک کے دودھ دینے والے جانوروں کے دودھ دینے صلاحیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کو دیکھتے ہوئے ملک میں 40 دیسی نسل کی گایوں اور 13 نسل کی بھینسوں کے سائنسی طریقے سے تحفظ اوراس کے فروغ کے لئے ‘راشٹریہ گﺅ کل مشن’ چلایا جا رہا ہے ۔ اس پروگرام کے تحت جانوروں کے جینیاتی بہتری پر خصوصی زور دیا جا رہا ہے ۔یو این آئی
مودی نے سشما کو دی سالگرہ کی مبارک باد
نئی دہلی، 14 فروری (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے آج وزیر خارجہ سشما سوراج کو ان کی سالگرہ پر مبارک باد دی۔ مسٹر مودی نے ٹوئٹ کر کے کہا ” سشما سوراج جی کو سالگرہ کی مبارک باد۔ وزیر خارجہ کے طور پر انہوں نے خود کو ایک بہترین رہنما کے طور پر ثابت کیا ہے ۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کوخدوخال دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ان کی سرگرمی اور رحمدلی کی فطرت نے انہیں عالمی سطح پر ہندوستانیوں کے درمیان مقبول بنا دیا۔ میں ان کیلئے دراز· عمر اور اچھی صحت کیلئے دعا گو ہوں”۔یو این آئی
Comments are closed.