بھارت کی عدلیہ سے حصولِ انصاف کی توقع نہیں:مشترکہ مزاحمتی قیادت

سرینگر:: مشتر کہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمدیاسین ملک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بدقسمتی سے کشمیری عوام کےلئے بھارت کی عدلیہ بھی بھارت کی انتظامیہ اور قانون سازیہ سے مختلف نہیں ہے اور اس کا مظاہرہ گذشتہ تین دہائیوں میں بار باردیکھنے کو ملا ہے۔

ایک تحریری بیان میں انہوں نے کہا کشمیر میں روزانہ ہورہی ہلاکتوں جن میں جوان، بزرگ، عورتیں ، بچے اور دودھ پلانے والی مائیں شامل ہیں کی ہلاکت کے بارے میں حصول انصاف کی توقع نہیں ۔ فوج اور فورسز جن کو افسپا کے تحت اپنی کارروائیوں کےلئے مکمل قانونی تحفظ حاصل ہیں کسی بھی جوابدہی سے بے خوف ہوکر ایسی کارروائیوں میں ملوث ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کشمیر میں تعینات آٹھ لاک کی فوج کو کشمیری عوام اور یہاں کی سرزمین پر زبردستی کا قبضہ قائم رکھنے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے فوج اور فورسز کو مختلف قوانین کے تحت بے لگام اختیارات دئےے گئے ہیںجس کے نتیجے میں آج تک ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیریوں کوگولیوں اور پیلٹوں کے ذریعے حول، گاﺅ کدل، سوپور، کپوارہ اور ہندوارہ میں کئے گئے قتل عام ، حراستی گمشدگیوں یا پھر احتجاجی مظاہروں یا گھر گھر تلاشیوں کے دوران نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔

قائدین نے کہا آج تک ان واقعات میں ملوث کبھی کسی مجرم کےخلاف کارروائی نہیں کی گئی اگر چہ عوامی غم وغصہ کو ٹھنڈا کرنے کےلئے متعدد بار ان واقعات کی تحقیقات کےلئے نام نہاد تحقیقاتی کمیشن قائم کئے گئے تاہم ابھی تک کسی مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کبھی کبھار جب نشانہ بنا کر فورسز کے ذریعے کسی نہتے شہری کی ہلاکت بلکل واضح طریقے سے سامنے آجاتی ہے جیسا کہ 18 جنوری2018 کو شوپیاں میں تین نوجوان لڑکو ں کی سر میں گولی مار کر بڑی بے دردی سے ہلاکت کے بعد انتظامیہ کو مجبورہو کر ایف آئی آر درج کرنا پڑا توشور و غوغا مچایا جاتا ہے کہ فورسز کے خلاف کیوں کارروائی کی گئی اور سوال کھڑے کئے گئے کہ کیا اس سے فورسز کی حوصلہ شکنی نہیں ہوگی؟

قائدین نے کہا جانب دار اور جارحانہ بھارتی میڈیا نے ملوث اہلکاروں کی طرف داری میں اتنا شور و ہنگامہ مچایا کہ ان نوجوانوں جن کو دن ڈھاڑے بے دردی سے قتل کیا گیا کا بنیادی حق برائے زندگی یعنی(Right to Life) اور ان کے خون ناحق کے انصاف کا معاملہ اس شور میںڈوب کر رہ گیا۔عدلیہ بھی ملوثین کو بچانے کےلئے آگے آگئی اور ان ہلاکتوں کے بارے میں کسی قسم کی تحقیقات پر روک لگادی۔ قائدین نے کہاان حالات میں ہلاک کئے گئے ان نوجوانوں کے بے دریغ قتل پر حصول انصاف کی توقع رکھنا فضول ہے۔

متحدہ مزاحمتی قیادت نے کہا ہے کہ جموں کشمیر کے عوام کی سیاسی جد وجہد عالمی سطح پر تسلیم شدہ حق خود ارادیت کے اصول کی بنیاد پر اپنا مستقبل تعین کرنے کےلئے جاری ہے ۔ کسی بھی سطح کی ناانصافی ، ظلم وتشدد یا وحشیانہ طاقت کے استعمال کے ذریعے عوام کو اس حق سے دستبردار نہیں کیا جاسکتابلکہ ظلم و زیادتی میں اضافہ سے یہ جذبہ مزید ابھر کر سامنے آئیگا۔انہوں نے کہا تنازعہ کشمیر کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ انصاف کے اصولوں اور قائدوں کے مطابق حل ہی اس خطے میں امن قائم کرنے اور قتل و غارت کو بند کرنے کاواحد ذریعہ ہے۔

Comments are closed.