سری نگر میں احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر پابندیاں نافذ
سری نگر: کشمیر انتظامیہ نے منگل کے روز سری نگر کے آٹھ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں لوگوں کی آزادانہ نقل وحرکت پر قدغنیں عائد کر رکھیں۔ یہ قدغنیں شہر کے کرن نگر میں جنگجوو¿ں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان 12 فروری کی صبح چھڑنے والے تصادم کے پیش نظر عائد کی گئی تھیں۔ ظاہری طور پر انتظامیہ کو خدشہ تھا کہ شہر میں جنگجوو¿ں کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوسکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز کی اپ لوڈنگ کو روکنے کے لئے شہر میں تیز رفتار والی تھری جی اور فور جی موبائیل انٹرنیٹ خدمات پیر کو دوپہر کے وقت منقطع کی گئی تھیں۔ کشمیر انتظامیہ نے مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کو کسی بھی احتجاجی جلسہ، جلوس یا ریلی کا حصہ بننے سے روکنے کے لئے مسلسل تھانہ یا خانہ نظربند رکھا ہے۔
مسلح تصادم کے مقام کرن نگر کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل رکھا گیا۔ واضح رہے کہ پیر کو بعض نوجوانوں نے مسلح تصادم کے مقام پر آزادی حامی نعرے بازی کی جن کو منتشر کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پابندی والے علاقوں میں منگل کو تمام دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شہر کے آٹھ پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج، رعناواری، خانیار، صفا کدل ، مائسمہ ، کرال کڈھ اور کرن نگر کے تحت آنے والے علاقوں میں احتیاطی اقدامات کے طور پر دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ضلع مجسٹریٹ سری نگر کے احکامات پر ان پابندیوں کا طلاق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کے لئے عمل میں لایا گیاہے۔ تاہم انتظامیہ کے دفعہ 144 کے تحت پابندیوں کے اطلاق کے برخلاف پائین شہر کی صورتحال منگل کی صبح سے ہی بالکل مختلف نظر آئی۔ مقامی شہریوں نے بتایا کہ منگل کی صبح لوگوں کو یہ کہتے ہوئے اپنے گھروں تک ہی محدود رہنے کے لئے کہا گیا کہ علاقہ میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جاچکا ہے۔ پائین شہر میں پابندیوں کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی غیرمعمولی نفری تعینات رہی۔
نوہٹہ میں واقع تاریخی جامع مسجد کے گردونواح میں سیکورٹی فورسز کی ایک بڑی تعداد کو تعینات دیکھا گیا۔ یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے منگل کی صبح پائین شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ بیشتر سڑکوں بالخصوص نالہ مار روڑ کو خانیار سے لیکر قمرواری تک خارداروں تاروں سے سیل کردیا گیا تھا۔ صفا کدل سے براستہ عیدگاہ شیر کشمیر انسٹی چیوٹ آف میڈیکل سائنسز کو جانے والی سڑک کو تاہم ایمبولینس اور بیماروں کی نقل وحرکت کے لئے کھلا رکھا گیا تھا۔
ادھر سیول لائنز میں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے گڑھ مانے جانے والے مائسمہ کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو منگل کی صبح سیل کیا گیا تھا۔ مائسمہ اور اس سے ملحقہ علاقوں بشمول بڈشاہ چوک، تاریخی لال چوک اور ککر بازار میں سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔ کرن نگر میں احتجاجیوں کو ایک جگہ جمع ہونے سے روکنے کے لئے سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے تھے۔ تاہم شری مہاراجہ ہری سنگھ اسپتال جانے والوں کو متبادل راستوں سے جانے کی اجازت دی جارہی تھی۔
ایک سیکورٹی عہدیدار نے بتایا ’پابندیوں کا خالص مقصد شہر میں امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنا تھا‘۔ اس دوران حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ’ڈاون ٹاون میں ایک بار پھر کرفیو اور پابندیاں نافذ کی گئیں۔ میرے سمیت قیادت کو مستقل طور پر نظربند رکھا گیا ہے۔ جابرانہ اقدامات سے مزید بداعتمادی اور بغاوت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا‘۔ یو اےن آئی
Comments are closed.