والدین بچوں کی شفقت سے محروم کیوں؟

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں وہاں کی حکومت کے نام ایک حکمنامے میں کہا ہے کہ وہ وادیٔ نیلم میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک موجود ایک قدیم اور مشہور ہندو مندر ’شاردا‘کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے یہ حکمنامہ نئی دلی کی ایک ہندو تنظیم ’ Save Sharda Committee کی جانب سے موصولہ ایک عرضداشت پر شنوائی کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حکمنامہ ایک ایسے موقعہ پر سامنے آیا ہے، جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر بندوقوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں اور پچھلے کئی ماہ سے بند ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایسے میں AJKکی عدالت عظمیٰ کے اس بیان سے دونوں جانب ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے ، جس کا موضوع محض یہ نہیں کہ ہندوئوں کے اس قدیم مندر کا تحفظ یقینی بنایا جائے بلکہ یہ بھی کہ غیر منقسم ریاست جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کو جوڑنے والے سبھی قدیم راستوں کو بھی کھولا جائے  تاکہ دونوں جانب کے عوام آزادی اور آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کے یہاں آ، جا سکیں۔
 ’ سیو شاردا کمیٹی‘ کے سرپرست رویندر پنڈتا پچھلے کئی برسوں سے اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب وادیٔ نیلم میں واقع اس قدیم ہندو مندر کو ہندو عقیدتمندوں کے لئے کھولا جائے۔ قابلِ ذکر بات ہے کہ قدیم تاریخی حوالہ جات کے مطابق’ شاردا پیٹھ ‘کے نام سے مشہور ہندو دھرم کا یہ مقدس مقام صدیوں سے علم و ہنر اور تعلیم و تربیت کا اہم مرکز رہا ہے۔اس سے بھی اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقدس مقام کے تحفظ کے لئے اٹھنے والی آواز کو ریاست بھر کے مسلم طبقے کی جانب سے بھی اتنی ہی حمائت مل رہی ہے، جتنی کہ خود ہندو دھرم کے ماننے والو ں کی جانب سے ۔ جس کا احترام کرتے ہوئے عدالت مذکورہ نے عرضی دہندہ سے کہا ہے کہ وہ دونوں  ملکوں کی حکومتوں کے سامنے اس مقام کے لئے ’یاترا‘ شروع کرنے کی تجویز رکھیں ۔ ایک ایسے موڑ پر جب کہ ایک ہندو تنظیم کی جانب سے اس مقام کے تحفظ کے لئے آواز اٹھی ہے، یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سے قبل سال2014اور2015کے دوران بھی دو مزید شہریوں کی جانب سے اسی عدالت میں دو عرضیاں دائر کی گئی تھیں ۔ اپنے حکمنامے میں عدالتِ عظمیٰ نے ایک کیس زیر عنوان ’رحمت اللہ خان وغیرہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سرکار‘ زیر نمبر 2014-SCR-1358 اور غلام نبی شاہ بنام سرکار و پانچ دیگران، زیر آرڈر نمبر  2015 -SCR -816، جو کہ اس علاقے میں موجود منادر اور گوردواروں کو کھولنے اور بحال کرنے کے حوالے سے تھیں، کا حوالہ بھی دیا ہے۔ سال2014ء میں جب راقم نے اس علاقے کا دورہ کیا تو وہاں کے وزیر آثارِ قدیمہ ، مفتی منصور نے ایک ملاقات کے دوران اس نمائندے کو بتایا تھا کہ اگر کشمیری پنڈت بھائی اس علاقے میں اپنے مقدس مقامات کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کا پورے احترام کے ساتھ خیر مقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقعہ پر کہا تھا ’’ ہم نےپاکستانی زیر انتظام کشمیر‘ میں موجود سبھی مقدس مقامات کی تجدید و مرمت کا کام ہاتھ میں لیا ہے ، ہماری جانب تقریباً 10ایسے معبد موجود ہیں، جن کا تعلق غیر مسلم بھائیوں کے عقائد سے ہے۔ ان میں کچھ گوردوارے بھی شامل ہیں۔ ان کی تجدید و مرمت پچھلی ایک دہائی میں اس وجہ سے بھی نہیں ہوسکی تھی کیونکہ دوسری جانب سے بھارتی فوج ان علاقوں میں بھاری گولہ باری جاری رہی‘‘ انہوں نے اس نمائندے کے دورۂ مظفر آباد کے دوران مزید کہا تھا ’’ ہماری حکومت نے ان مقامات کی تعمیر و تجدید کے لئے 10کروڑ روپئے کی رقم مختص کر رکھی ہے، جو کہ صرف کی جارہی ہے‘‘
حالانکہ اس بات کو اب 13برس گزر چکے ہیں لیکن تب سے اس ضمن میں کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے اور وادیٔ نیلم میں ’شاردا‘ گائوں میں واقع  142فٹ طویل اور94.6فٹ چوڑا یہ تاریخی شاردا مندر آج کل محض ایک کھنڈر سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سال2003ء سے سال2007کے دوران کافی بہتر تعلقات رہے لیکن اس دوران بھی اس  ضمن میں کوئی پہل نہیں ہوسکی اور نہ ہی  ان  کے کراس ایل او سی ایجنڈا میں شاردا مندر کی یاترا کوئی جگہ پا سکی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ریاست جموں و کشمیر کے تقسیم ہوجانے کے بعد یہ مندر اور اسی طرح کے کئی دیگر غیر مسلم عقیدتی مقامات اپنے عقیدتمندوں اور عبادت سے محروم ہیں۔ مذکورہ مندر اس علاقے میں بہنے والی تین اہم ندیوں دریائے نیلم (کشن گنگا) دریائے مدھومتی اور سورگُن کے سنگم کے قریب تحصیل شاردا میں واقع ہے۔ آثار قدیمہ میں شامل شاردا مندر اور اس سے ملحقہ مقامات، جن میں ’گوتم  کی بیٹھک‘ تہجیاں اور کھیل پاٹ کو انتہائی مقدس مقامات تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شاردا مندر، گھنیش گھاٹی، سرسوتی جھیل اورسیری سیلا قلعے کا تذکرہ گیارہویں صدی میںکلہن پنڈت کی لکھی ہوئی کشمیر کی قدیم تاریخ’ راج ترنگنی‘ میں بھی ملتا ہے۔
جہاں تک سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی زبانی تاریخ اور روایات کا تعلق ہے، اس مقام کو بودھ تعلیمی مرکز کے  طورجانا جاتا ہے ، تاہم جہاں تک شاردا مندر کی تعمیر کا تعلق ہے،  یہکشمیر کے جنوبی قصبہ اسلام آباد (اننت ناگ) میں واقع قدیم ہندو مندر مارتنڈ کے ساتھ کافی  ملتا جلتا ہے، جس کا تعلق آٹھویں صدی  (CE) سے ہے ، جس کی تعمیر کشمیر میں راجہ للیتا دتیہ کے دور اقتدار میں ہوئی تھی ۔ شاردا مندر  کا ڈھانچہ اہرام نما شکارے کی شکل میں بنی ہوئی بنیاد پر ابھارے گئے ستونوں اور کمان نما بارادریوں پر کھڑا کیا گیا ہے ، جو کہ قدیم روائتی کشمیری فن تعمیر کا خاصہ ہے۔شاردا مندر کے ساتھ ساتھ اس مقام پر ایک بڑے دروازے کے کھنڈرات بھی موجود ہیں، جو موجودہ شاردا مندر سے بھی کافی پرانا لگتا ہے۔ اور اس بیرونی ڈھانچے کی بھی کافی عرصے سے کوئی تعمیر و تجدید نہیں کی گئی ہے۔ ماہرین فن تعمیر کا کہنا ہے کہ بیرونی دروازے کے کھنڈرات اور اندرونی مندر کے طریقہ تعمیر میں کافی اختلاف موجود ہے اور دونوں الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مقامی محقق رُخسانہ خان ، جنہوں نے اس حوالے سے کافی کام کیا ہے ، کا کہنا ہے ’’ انتہائی قدیم ڈھانچے شاردا مندر، جو ایک بودھ دانشگاہ رہی ہے، کے حوالے سے ہونے والی ایک ’فیلڈ سروے ‘ ، گہری تحقیق اور اس مقام کی کھدائی کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ موجودہ مندر کے ڈھانچے سے قبل بھی وہاں پر ایک بڑا ڈھانچہ پہلے سے موجود تھا ۔ کھدائی کے دوران ملنے والے تعمیری مواد، جس میں تیراکوٹا  نالیاں، اینٹیں، سکے اور برتنوں کی ترکیب  شامل ہے،سے یہ بات  صاف طور پر سامنے آتی ہے کہ یہ مقام مختلف تاریخی ادوار میں گنجان آباد علاقہ رہا ہوگا‘‘
رخسانہ خان مزید لکھتی ہیں:
’’ سلوان بہک اور کرورس ویلی  کا راستہ ، کہ وادیٔ کشمیر کی جانب سے وادیٔ نیلم  کی طرف آتا ہے، دریائیء مدھو متی کے کنارے کنارے براہ راست شاردا وادی میں  داخل ہوتتا ہے ، یہی وہ راستہ ہے، جو چودھویں صدی میں کشمیر کے سُلطان زین العابدین (بڈشاہ) نے شاردا مندر تک پہنچنے کے لئے استعمال کیا تھا‘‘
شاردا مندر کو ’شاردا پیٹھ ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کسی زمانے میں ایک بہت بڑی دانشگاہ تھی اور شاردا رسم الخط بھی اسی مندر یا دانشگاہ سے منسوب ہے۔ چینی سیاح اور بودھ بھکشو ہیون سانگ لکھتے ہیں کہ کشمیر ایک ایسا مقام تعلیم و تربیت ہے، جہاں بدھ مت کی تعلیمات کا شاردا،برہمی، سنسکرت اور خروشتی رسم الخطوط میں  پر چارکیا جاتا ہے۔ شاردا رسم الخط کشمیر میں ساتویں اور آٹھویں صدی ( CE) میں رائج ہوا اور اس کا بالائی جنوبی ایشیاء میں بکثرت استعمال ہوتا رہا۔ شاردا یعنی وادی نیلم  میں پائے جانے والے پتھر کے کتبے گاندھارا (موجودہ افغانستان) چلاس اور گلگت و  بلتستان کے کتبوں سے کافی مشابہہ مانے جاتے ہیں۔
2005ء کے انتہائی تباہ کُن زلزلے کے بعد اس جگہ کو کافی نقصان پہنچا ، اگرچہ اس کی تھوڑی بہت مرمت کی گئی لیکن ابھی بھی یہ جگہ پوری طرح سے محفوظ نہیں اور اس کو موسم کی  مار کے علاوہ چاروں طرف سے ہونے والی غیر قانونی قبضہ جات سے بھی خطرہ لاحق ہے۔ ان میں سے کچھ ثقافتی مقامات پر فوج کا بھی قبضہ ہے اور فورسز کی موجودگی ، غیر قانونی عوامی قبضہ جات اور اس جگہ سے چند سو میٹر کی دوری پر واقع ایک ہیلی پیڈ کی موجودگی کی وجہ سے بھی ان خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اس مقدس مقام کے تحفظ اور تعمیر و تجدید میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں لیکن اس سب کے باوجود مذکورہ مندر ایک اچھی خاصی حالت میں اب تک موجود ہے۔
 اب جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر ‘‘ کی عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کے مطابق اس مندر کے تحفظ کا کام شروع ہورہا ہے، ظاہر ہے کارِ سرکار کافی طویل اور جھنجٹ سے پر ہوہوتا ہے اور اس کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے، ایسے میں یہ چیز سب سے اہم ہے کہ ان مقامات کی زیارت و سیاحت کے لئے دونوں جانب سے دروازے کھول دیے جائیں۔ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کی جانب سے اس کی زیارت یا یاترا کی مانگ کا تعلق ہے، وہ بھی کسی مخصوص شخص کی جانب سے نہیں بلکہ اگر کھلے دل سے پنڈت برادری کی جانب سے آئے تو اس میں زیادہ اثر ہوگا اور یقیناً وہ اس کام میں سرعت لانے میں معاون بھی ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی اس برادری کو چاہیے کہ وہ محض اس ایک مطالبے پر اپنی طاقت آزمائی نہ کرے بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ باقی سبھی اعتماد سازی کی کوششوں اور اقدامات کی بھی اسی انداز میں حمایت کریں ،  جن کا تعلق ہزاروں بچھڑے ہوئے لوگوں کو آپس میں ملا نے سے ہے کیونکہ حالات کا سازگار ہونا ہر سطح پر لازمی ہے۔ قابلِ ذکر مثال بات ہے کہ دونوں علاقوں کے درمیان شروع کی گئی بس سروس نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس خلیج کو پورا کرنے میں کافی رول ادا کیا ہے، جو تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی لیکن اب وقت آگیا ہے  اور عوام کو چاہیے کہ وہ حکومتوں کو اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے مجبور کریں اور حکومتوں کا انتظار کیے بغیر اپنے طور پر کوششیں تیزکریں۔
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں وہاں کی حکومت کے نام ایک حکمنامے میں کہا ہے کہ وہ وادیٔ نیلم میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک موجود ایک قدیم اور مشہور ہندو مندر ’شاردا‘کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے یہ حکمنامہ نئی دلی کی ایک ہندو تنظیم ’ Save Sharda Committee کی جانب سے موصولہ ایک عرضداشت پر شنوائی کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حکمنامہ ایک ایسے موقعہ پر سامنے آیا ہے، جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر بندوقوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں اور پچھلے کئی ماہ سے بند ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایسے میں AJKکی عدالت عظمیٰ کے اس بیان سے دونوں جانب ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے ، جس کا موضوع محض یہ نہیں کہ ہندوئوں کے اس قدیم مندر کا تحفظ یقینی بنایا جائے بلکہ یہ بھی کہ غیر منقسم ریاست جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کو جوڑنے والے سبھی قدیم راستوں کو بھی کھولا جائے  تاکہ دونوں جانب کے عوام آزادی اور آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کے یہاں آ، جا سکیں۔
 ’ سیو شاردا کمیٹی‘ کے سرپرست رویندر پنڈتا پچھلے کئی برسوں سے اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب وادیٔ نیلم میں واقع اس قدیم ہندو مندر کو ہندو عقیدتمندوں کے لئے کھولا جائے۔ قابلِ ذکر بات ہے کہ قدیم تاریخی حوالہ جات کے مطابق’ شاردا پیٹھ ‘کے نام سے مشہور ہندو دھرم کا یہ مقدس مقام صدیوں سے علم و ہنر اور تعلیم و تربیت کا اہم مرکز رہا ہے۔اس سے بھی اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقدس مقام کے تحفظ کے لئے اٹھنے والی آواز کو ریاست بھر کے مسلم طبقے کی جانب سے بھی اتنی ہی حمائت مل رہی ہے، جتنی کہ خود ہندو دھرم کے ماننے والو ں کی جانب سے ۔ جس کا احترام کرتے ہوئے عدالت مذکورہ نے عرضی دہندہ سے کہا ہے کہ وہ دونوں  ملکوں کی حکومتوں کے سامنے اس مقام کے لئے ’یاترا‘ شروع کرنے کی تجویز رکھیں ۔ ایک ایسے موڑ پر جب کہ ایک ہندو تنظیم کی جانب سے اس مقام کے تحفظ کے لئے آواز اٹھی ہے، یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سے قبل سال2014اور2015کے دوران بھی دو مزید شہریوں کی جانب سے اسی عدالت میں دو عرضیاں دائر کی گئی تھیں ۔ اپنے حکمنامے میں عدالتِ عظمیٰ نے ایک کیس زیر عنوان ’رحمت اللہ خان وغیرہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سرکار‘ زیر نمبر 2014-SCR-1358 اور غلام نبی شاہ بنام سرکار و پانچ دیگران، زیر آرڈر نمبر  2015 -SCR -816، جو کہ اس علاقے میں موجود منادر اور گوردواروں کو کھولنے اور بحال کرنے کے حوالے سے تھیں، کا حوالہ بھی دیا ہے۔ سال2014ء میں جب راقم نے اس علاقے کا دورہ کیا تو وہاں کے وزیر آثارِ قدیمہ ، مفتی منصور نے ایک ملاقات کے دوران اس نمائندے کو بتایا تھا کہ اگر کشمیری پنڈت بھائی اس علاقے میں اپنے مقدس مقامات کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کا پورے احترام کے ساتھ خیر مقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقعہ پر کہا تھا ’’ ہم نےپاکستانی زیر انتظام کشمیر‘ میں موجود سبھی مقدس مقامات کی تجدید و مرمت کا کام ہاتھ میں لیا ہے ، ہماری جانب تقریباً 10ایسے معبد موجود ہیں، جن کا تعلق غیر مسلم بھائیوں کے عقائد سے ہے۔ ان میں کچھ گوردوارے بھی شامل ہیں۔ ان کی تجدید و مرمت پچھلی ایک دہائی میں اس وجہ سے بھی نہیں ہوسکی تھی کیونکہ دوسری جانب سے بھارتی فوج ان علاقوں میں بھاری گولہ باری جاری رہی‘‘ انہوں نے اس نمائندے کے دورۂ مظفر آباد کے دوران مزید کہا تھا ’’ ہماری حکومت نے ان مقامات کی تعمیر و تجدید کے لئے 10کروڑ روپئے کی رقم مختص کر رکھی ہے، جو کہ صرف کی جارہی ہے‘‘
حالانکہ اس بات کو اب 13برس گزر چکے ہیں لیکن تب سے اس ضمن میں کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے اور وادیٔ نیلم میں ’شاردا‘ گائوں میں واقع  142فٹ طویل اور94.6فٹ چوڑا یہ تاریخی شاردا مندر آج کل محض ایک کھنڈر سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سال2003ء سے سال2007کے دوران کافی بہتر تعلقات رہے لیکن اس دوران بھی اس  ضمن میں کوئی پہل نہیں ہوسکی اور نہ ہی  ان  کے کراس ایل او سی ایجنڈا میں شاردا مندر کی یاترا کوئی جگہ پا سکی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ریاست جموں و کشمیر کے تقسیم ہوجانے کے بعد یہ مندر اور اسی طرح کے کئی دیگر غیر مسلم عقیدتی مقامات اپنے عقیدتمندوں اور عبادت سے محروم ہیں۔ مذکورہ مندر اس علاقے میں بہنے والی تین اہم ندیوں دریائے نیلم (کشن گنگا) دریائے مدھومتی اور سورگُن کے سنگم کے قریب تحصیل شاردا میں واقع ہے۔ آثار قدیمہ میں شامل شاردا مندر اور اس سے ملحقہ مقامات، جن میں ’گوتم  کی بیٹھک‘ تہجیاں اور کھیل پاٹ کو انتہائی مقدس مقامات تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شاردا مندر، گھنیش گھاٹی، سرسوتی جھیل اورسیری سیلا قلعے کا تذکرہ گیارہویں صدی میںکلہن پنڈت کی لکھی ہوئی کشمیر کی قدیم تاریخ’ راج ترنگنی‘ میں بھی ملتا ہے۔
جہاں تک سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی زبانی تاریخ اور روایات کا تعلق ہے، اس مقام کو بودھ تعلیمی مرکز کے  طورجانا جاتا ہے ، تاہم جہاں تک شاردا مندر کی تعمیر کا تعلق ہے،  یہکشمیر کے جنوبی قصبہ اسلام آباد (اننت ناگ) میں واقع قدیم ہندو مندر مارتنڈ کے ساتھ کافی  ملتا جلتا ہے، جس کا تعلق آٹھویں صدی  (CE) سے ہے ، جس کی تعمیر کشمیر میں راجہ للیتا دتیہ کے دور اقتدار میں ہوئی تھی ۔ شاردا مندر  کا ڈھانچہ اہرام نما شکارے کی شکل میں بنی ہوئی بنیاد پر ابھارے گئے ستونوں اور کمان نما بارادریوں پر کھڑا کیا گیا ہے ، جو کہ قدیم روائتی کشمیری فن تعمیر کا خاصہ ہے۔شاردا مندر کے ساتھ ساتھ اس مقام پر ایک بڑے دروازے کے کھنڈرات بھی موجود ہیں، جو موجودہ شاردا مندر سے بھی کافی پرانا لگتا ہے۔ اور اس بیرونی ڈھانچے کی بھی کافی عرصے سے کوئی تعمیر و تجدید نہیں کی گئی ہے۔ ماہرین فن تعمیر کا کہنا ہے کہ بیرونی دروازے کے کھنڈرات اور اندرونی مندر کے طریقہ تعمیر میں کافی اختلاف موجود ہے اور دونوں الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مقامی محقق رُخسانہ خان ، جنہوں نے اس حوالے سے کافی کام کیا ہے ، کا کہنا ہے ’’ انتہائی قدیم ڈھانچے شاردا مندر، جو ایک بودھ دانشگاہ رہی ہے، کے حوالے سے ہونے والی ایک ’فیلڈ سروے ‘ ، گہری تحقیق اور اس مقام کی کھدائی کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ موجودہ مندر کے ڈھانچے سے قبل بھی وہاں پر ایک بڑا ڈھانچہ پہلے سے موجود تھا ۔ کھدائی کے دوران ملنے والے تعمیری مواد، جس میں تیراکوٹا  نالیاں، اینٹیں، سکے اور برتنوں کی ترکیب  شامل ہے،سے یہ بات  صاف طور پر سامنے آتی ہے کہ یہ مقام مختلف تاریخی ادوار میں گنجان آباد علاقہ رہا ہوگا‘‘
رخسانہ خان مزید لکھتی ہیں:
’’ سلوان بہک اور کرورس ویلی  کا راستہ ، کہ وادیٔ کشمیر کی جانب سے وادیٔ نیلم  کی طرف آتا ہے، دریائیء مدھو متی کے کنارے کنارے براہ راست شاردا وادی میں  داخل ہوتتا ہے ، یہی وہ راستہ ہے، جو چودھویں صدی میں کشمیر کے سُلطان زین العابدین (بڈشاہ) نے شاردا مندر تک پہنچنے کے لئے استعمال کیا تھا‘‘
شاردا مندر کو ’شاردا پیٹھ ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کسی زمانے میں ایک بہت بڑی دانشگاہ تھی اور شاردا رسم الخط بھی اسی مندر یا دانشگاہ سے منسوب ہے۔ چینی سیاح اور بودھ بھکشو ہیون سانگ لکھتے ہیں کہ کشمیر ایک ایسا مقام تعلیم و تربیت ہے، جہاں بدھ مت کی تعلیمات کا شاردا،برہمی، سنسکرت اور خروشتی رسم الخطوط میں  پر چارکیا جاتا ہے۔ شاردا رسم الخط کشمیر میں ساتویں اور آٹھویں صدی ( CE) میں رائج ہوا اور اس کا بالائی جنوبی ایشیاء میں بکثرت استعمال ہوتا رہا۔ شاردا یعنی وادی نیلم  میں پائے جانے والے پتھر کے کتبے گاندھارا (موجودہ افغانستان) چلاس اور گلگت و  بلتستان کے کتبوں سے کافی مشابہہ مانے جاتے ہیں۔
2005ء کے انتہائی تباہ کُن زلزلے کے بعد اس جگہ کو کافی نقصان پہنچا ، اگرچہ اس کی تھوڑی بہت مرمت کی گئی لیکن ابھی بھی یہ جگہ پوری طرح سے محفوظ نہیں اور اس کو موسم کی  مار کے علاوہ چاروں طرف سے ہونے والی غیر قانونی قبضہ جات سے بھی خطرہ لاحق ہے۔ ان میں سے کچھ ثقافتی مقامات پر فوج کا بھی قبضہ ہے اور فورسز کی موجودگی ، غیر قانونی عوامی قبضہ جات اور اس جگہ سے چند سو میٹر کی دوری پر واقع ایک ہیلی پیڈ کی موجودگی کی وجہ سے بھی ان خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اس مقدس مقام کے تحفظ اور تعمیر و تجدید میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں لیکن اس سب کے باوجود مذکورہ مندر ایک اچھی خاصی حالت میں اب تک موجود ہے۔
 اب جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر ‘‘ کی عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کے مطابق اس مندر کے تحفظ کا کام شروع ہورہا ہے، ظاہر ہے کارِ سرکار کافی طویل اور جھنجٹ سے پر ہوہوتا ہے اور اس کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے، ایسے میں یہ چیز سب سے اہم ہے کہ ان مقامات کی زیارت و سیاحت کے لئے دونوں جانب سے دروازے کھول دیے جائیں۔ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کی جانب سے اس کی زیارت یا یاترا کی مانگ کا تعلق ہے، وہ بھی کسی مخصوص شخص کی جانب سے نہیں بلکہ اگر کھلے دل سے پنڈت برادری کی جانب سے آئے تو اس میں زیادہ اثر ہوگا اور یقیناً وہ اس کام میں سرعت لانے میں معاون بھی ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی اس برادری کو چاہیے کہ وہ محض اس ایک مطالبے پر اپنی طاقت آزمائی نہ کرے بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ باقی سبھی اعتماد سازی کی کوششوں اور اقدامات کی بھی اسی انداز میں حمایت کریں ،  جن کا تعلق ہزاروں بچھڑے ہوئے لوگوں کو آپس میں ملا نے سے ہے کیونکہ حالات کا سازگار ہونا ہر سطح پر لازمی ہے۔ قابلِ ذکر مثال بات ہے کہ دونوں علاقوں کے درمیان شروع کی گئی بس سروس نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس خلیج کو پورا کرنے میں کافی رول ادا کیا ہے، جو تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی لیکن اب وقت آگیا ہے  اور عوام کو چاہیے کہ وہ حکومتوں کو اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے مجبور کریں اور حکومتوں کا انتظار کیے بغیر اپنے طور پر کوششیں تیزکریں۔
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہیں کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرواور اگر تمہارے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے میں پہونچ جائیں تو ان کے سامنے کبھی بھی اُف تک نہ کرنااور نہ ان سے خوب ادب سے بات کرنا اور ان کے سامنے شفقت سے انکساری کے ساتھ جھکے رہنا اور یوں دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت فرمائیں جیسے انہوں نے میرے بچپن میں مجھ پر رحمت فرمائی ہے۔اسلام اولاد کو حکم دیتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نرمی و تواضع ، خاکساری و انکساری سے پیش آئیں۔ان کے ساتھ احترام و محبت کا برتاؤ کریں،اگر انہیں کسی بات پر غصہ آجائے تو اسے برداشت کی عادت ڈالیں۔رسول اللہؐ کا قول ہے کہ بڑا بد بخت ہے وہ شخص جو اپنے والدین کا بڑھاپا پائیں اور پھر انہیں خوش کر کے ان کی دعاؤں سے اپنے آپ کو جنت کا مستحق نہ بنا لے۔اللہ تعالیٰ نے سورہ بنی اسرائیل کی اِس آیت میں اپنی اطاعت اور بندگی کے حکم کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ نیکی و حسن سلوک کا بھی حکم دیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت نہایت ضروری اور اطاعت کی حامل ہے۔پاک پروردگار متعدد مقامات پر اپنی توحید و عبادت کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ والدین کے ساتھ اچھا برتاؤکرنے کی تاکید کرتا ہے جس سے والدین کی اطاعت ،ان کی خدمت اور ان کے ادب و احترام کی اہمیت واضع ہوجاتی ہے۔سورہ عنکبوت میں خداوند عالم ہر ایک انسان کو نصیحت کرتا ہے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ایک شخص نے رسول اللہؐ کی خدمت میں آکر دریافت کیا کہ میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے؟آپؐ نے فرمایا تمہاری ماں۔اس شخص نے پوچھا پھر کون ؟ آپؐ نے فرمایا تمہاری ماں۔اس شخص نے جب تیسری مرتبہ پوچھا پھر کون ؟ رسول اللہ ؐ نے پھر سے جواب دیا کہ تمہاری ماں۔اس شخص نے جب چوتھی مرتبہ سوال کیاکہ ماں کے بعد حسن سلوک کا زیادہ مستحق کون ہے؟ تو رسولِ خداؐ نے ارشاد فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح بخاری)حدیث شریف میں ماں کو خدمت گزاری و حسن سلوک میں تین درجہ زیادہ فضیلت دئیں جانے کی حکمت یہ ہے کہ ماں چونکہ تین ایسے مراحل طے کرتی ہے جس میں باپ شریک نہیں ہوتا۔حمل کا مرحلہ،ولادت کا مرحلہ اور رضاعت کا مرحلہ اسی وجہ سے ماں کے حق خدمت و سلوک کو باپ سے تین درجہ زیادہ بتلایا گیا اور باپ کو جنت کے دروازوں میں سے ایک بہترین دروازہ قرار دیا گیا۔قرآن و حدیث کی روشنی میں امتِ مسلمہ کا اتفاق ہے کہ والدین کی نافرمانی بہت بڑا گناہ ہے۔والدین کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے لہٰذا ہم پر فرض ہے کہ والدین کی فرمابرداری میں ہم کوئی کسر باقی نہ رکھیں۔ہمیں چاہئے کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک رواں رکھیں خصوصًا اگر وہ بوڑھے ہوجائیں تو ان کی تمام ضروریات کا خیال اسی طرح رکھیں جس طرح وہ ہمارے بچپن میں ہمارے لئے رکھ رہے تھے۔اگر وہ کوئی بات بھول جائیں تو بجائے اسکے کہ ہم ناک منہ پر چڑھا کریا ان کی کسی بھی بات کو برا مان کر ان کی دلجوئی کریں ہمیںیہ ذہن میں رکھنا ہوگاکہ جب ہم خود بچے تھے اور ایک ایک بات کو ان سے پوچھتے اور کہتے تھے مگر انہوں نے کبھی بھی ان باتوں کو برا محسوس نہیں کیا ۔اگر والدین ضعیف العمری کی وجہ سے چل پھر نہ سکے اور قدم اٹھانے کی ان میں سکت نہ رہے تو ہمیں ان کا سہارا بننا چاہئے،والدین کا دل کبھی نہ دکھائیں اور جب بھی ان سے گفتگوں کریں تو نرم لہجے میں ان سے بات کرنے کی عادت ڈالیں ۔قرآنِ کریم نے بار بار انسان کو آگاہ کیا کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آوٌاسی میں ہماری کامیابی ہے۔والدین کی اطاعت و فرمابرداری  اپنے بیوی بچوں سے بھی زیادہ مقدم ہے۔ماں کی خدمت گزاری اور اطاعت سے ہی جنت کی راہ ملتی ہے۔جس سے ماں خوش ہو وہ ہر مصیبت سے کوسوں دور رہتا ہے ماں کی خدمت میں جنت کی ضمانت ہے ۔کامیابی اور خوشنودی کی کنجی ماں کی فرمابرداری ہے اور جس نے بھی ماں کا احترام کیا اس نے اللہ کے فرمان کا احترام کیا ۔ماں کا پیار دنیا کے تمام دکھوں ،غموں اور رنجشوں اور مصیبتوں کے لئے ایک بہتر اور عظیم نسخہ نجات ہے ۔ماں جب اپنے بچے کے لئے دعا کرتی ہے تو ماں کی دعا اور اللہ تعالیٰ کے بیچ کوئی پردہ نہیں ہے اس لئے ماں کی دعا جلد ہی قبول ہوتی ہے۔ایک مشہور واقعہ ہے شاید آپ نے بھی سنا ہوگاکہ ایک شخص شادی کے بعد اپنی بیوی کے بہکاوے میں آکر اپنے والدین کو بہت پریشان کرتا تھا جس دوران اس کے والد کا انتقال ہوگیا اور اس کی والدہ زندہ تھی۔ایک دن اچانک وہ شخص بیمار ہوگیا اور زبردست تکلیف کے باوجود بھی اس کی روح نہیں نکل رہی تھی ۔اس کی تکلیف دیکھ کر سب لوگ پریشان تھے ۔آخر میں اس شخص کی اہلیہ رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حالات بیان کی۔رسول اللہؐ نے کہا کہ شائد اس نے اپنے والد کو بہت تنگ کیا ہو جس وجہ سے ایسا ہورہا ہے۔رسول اللہؐ نے اس کی والدہ کو بلا کر کہا کہ آپ اپنے بیٹے کو معاف کرے لیکن وہ کسی بھی طرح تیار نہیں ہوئی ۔رسول اللہؐ کے کہنے کے باوجود بھی اس شخص کواپنی ماں نے اس وجہ سے معاف نہیں کیا کیوں کہ اس نے اپنے والدین کو بہت زیادہ تنگ کیا تھا اور آخر میں آپؐ نے کہا کہ لکڑیاں جمع کرو اور اس شخص کو اس پر رکھ کر جلا دوکیوں کہ جہنم کی آگ سے بہتر دنیا کی آگ ہے ۔یہ سن کر اس شخص کی ماں چلائی اور کہنے لگی کہ میرے بیٹے کو نہ جلاوٌمیں معاف کردونگی اور فورًا اس عورت نے اپنے بیٹے کو معاف کر دیااور اس شخص کی روح نکل گئی ۔جو ماں اپنی بری اولاد کے لئے بھی اس قدر رحم دل ہوسکتی ہے اس سے بڑھ کر ماں کی محبت کا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے۔بقولِ شاعر
نہیں آسان تھا دنیا میں مشکلوں سے بچنا
یہ ماں کی دعا کا ہے اثر کہ میں ستارا ہوگیا
ہم پر فرض ہے کہ بڑھاپے میں والدین کا سہارا بنے ۔اگر وہ بیمار ہوجائیں تو ان کی عیادت کریں ،ان کے علاج کے لئے وسائل بروئے کار لائیں کیوں کہ جب ہم دنیا میں والدین کے محتاج تھے تو انہوں نے اپنا تمام وقت صرف اور صرف ہماری دیکھ بھال کے لئے ہی وقف رکھا ۔ہمیں قرآنِ کریم کی اس ہدایت کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے جس میں والدین کے سامنے عاجزی اور انکساری پر تاکید کی گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ان تمام کوتاہیوں سے توبہ کرے جو ہم نے جانے انجانے میں اپنے والدین کو کسی بھی طرح کا دکھ پہونچا کر مول لی ہے۔امام رضاؐ فرماتے ہیں کہ اگر آپ کے والدین حق کی پیروی کرنے والے نہ ہو تب بھی آپ پر فرض ہے کہ ان کی دل جوئی کرے اور ان کو خوش رکھے،رسول اللہؐ فرماتے ہیں کہ ہر گناہ سے جتنا چاہئے اور جب چاہئے اللہ تعالیٰ معاف کر دیتا ہے لیکن ماں باپ کی نافرمانی کے گناہ کا مواخذدنیا ہی سے شروع ہوجاتا ہے اور اسے معاف نہیں کیا جا تا۔اولاد کو چاہئے کہ اپنے والدین کی بے انتہاں عزت اور اطاعت شعاری کرے ۔جو لوگ والدین کی قدر سے آگاہ ہیں اور انہیں جنت تک پہونچنے کا وسیلہ سمجھتے ہیں وہ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سب سے زیادہ خوش قسمت انسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔

Comments are closed.