پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے ہندو استھاپن

 عدالتِ اعظمیٰ کا تاریخی فیصلہ
پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی عدالت عظمیٰ نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں وہاں کی حکومت کے نام ایک حکمنامے میں کہا ہے کہ وہ وادیٔ نیلم میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک موجود ایک قدیم اور مشہور ہندو مندر ’شاردا‘کے تحفظ کے لئے ہر ممکن اقدامات کرے اور اس کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے یہ حکمنامہ نئی دلی کی ایک ہندو تنظیم ’ Save Sharda Committee کی جانب سے موصولہ ایک عرضداشت پر شنوائی کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حکمنامہ ایک ایسے موقعہ پر سامنے آیا ہے، جب دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر بندوقوں کے دہانے کھلے ہوئے ہیں اور پچھلے کئی ماہ سے بند ہونے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایسے میں AJKکی عدالت عظمیٰ کے اس بیان سے دونوں جانب ایک نئی بحث شروع ہوگئی ہے ، جس کا موضوع محض یہ نہیں کہ ہندوئوں کے اس قدیم مندر کا تحفظ یقینی بنایا جائے بلکہ یہ بھی کہ غیر منقسم ریاست جموں و کشمیر کے مختلف حصوں کو جوڑنے والے سبھی قدیم راستوں کو بھی کھولا جائے  تاکہ دونوں جانب کے عوام آزادی اور آسانی کے ساتھ ایک دوسرے کے یہاں آ، جا سکیں۔
 ’ سیو شاردا کمیٹی‘ کے سرپرست رویندر پنڈتا پچھلے کئی برسوں سے اس تگ و دو میں مصروف ہیں کہ لائن آف کنٹرول کی دوسری جانب وادیٔ نیلم میں واقع اس قدیم ہندو مندر کو ہندو عقیدتمندوں کے لئے کھولا جائے۔ قابلِ ذکر بات ہے کہ قدیم تاریخی حوالہ جات کے مطابق’ شاردا پیٹھ ‘کے نام سے مشہور ہندو دھرم کا یہ مقدس مقام صدیوں سے علم و ہنر اور تعلیم و تربیت کا اہم مرکز رہا ہے۔اس سے بھی اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس مقدس مقام کے تحفظ کے لئے اٹھنے والی آواز کو ریاست بھر کے مسلم طبقے کی جانب سے بھی اتنی ہی حمائت مل رہی ہے، جتنی کہ خود ہندو دھرم کے ماننے والو ں کی جانب سے ۔ جس کا احترام کرتے ہوئے عدالت مذکورہ نے عرضی دہندہ سے کہا ہے کہ وہ دونوں  ملکوں کی حکومتوں کے سامنے اس مقام کے لئے ’یاترا‘ شروع کرنے کی تجویز رکھیں ۔ ایک ایسے موڑ پر جب کہ ایک ہندو تنظیم کی جانب سے اس مقام کے تحفظ کے لئے آواز اٹھی ہے، یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سے قبل سال2014اور2015کے دوران بھی دو مزید شہریوں کی جانب سے اسی عدالت میں دو عرضیاں دائر کی گئی تھیں ۔ اپنے حکمنامے میں عدالتِ عظمیٰ نے ایک کیس زیر عنوان ’رحمت اللہ خان وغیرہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سرکار‘ زیر نمبر 2014-SCR-1358 اور غلام نبی شاہ بنام سرکار و پانچ دیگران، زیر آرڈر نمبر  2015 -SCR -816، جو کہ اس علاقے میں موجود منادر اور گوردواروں کو کھولنے اور بحال کرنے کے حوالے سے تھیں، کا حوالہ بھی دیا ہے۔ سال2014ء میں جب راقم نے اس علاقے کا دورہ کیا تو وہاں کے وزیر آثارِ قدیمہ ، مفتی منصور نے ایک ملاقات کے دوران اس نمائندے کو بتایا تھا کہ اگر کشمیری پنڈت بھائی اس علاقے میں اپنے مقدس مقامات کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں تو ان کا پورے احترام کے ساتھ خیر مقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے اس موقعہ پر کہا تھا ’’ ہم نےپاکستانی زیر انتظام کشمیر‘ میں موجود سبھی مقدس مقامات کی تجدید و مرمت کا کام ہاتھ میں لیا ہے ، ہماری جانب تقریباً 10ایسے معبد موجود ہیں، جن کا تعلق غیر مسلم بھائیوں کے عقائد سے ہے۔ ان میں کچھ گوردوارے بھی شامل ہیں۔ ان کی تجدید و مرمت پچھلی ایک دہائی میں اس وجہ سے بھی نہیں ہوسکی تھی کیونکہ دوسری جانب سے بھارتی فوج ان علاقوں میں بھاری گولہ باری جاری رہی‘‘ انہوں نے اس نمائندے کے دورۂ مظفر آباد کے دوران مزید کہا تھا ’’ ہماری حکومت نے ان مقامات کی تعمیر و تجدید کے لئے 10کروڑ روپئے کی رقم مختص کر رکھی ہے، جو کہ صرف کی جارہی ہے‘‘
حالانکہ اس بات کو اب 13برس گزر چکے ہیں لیکن تب سے اس ضمن میں کوئی خاص کام نہیں ہوا ہے اور وادیٔ نیلم میں ’شاردا‘ گائوں میں واقع  142فٹ طویل اور94.6فٹ چوڑا یہ تاریخی شاردا مندر آج کل محض ایک کھنڈر سے زیادہ کچھ بھی نہیں۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سال2003ء سے سال2007کے دوران کافی بہتر تعلقات رہے لیکن اس دوران بھی اس  ضمن میں کوئی پہل نہیں ہوسکی اور نہ ہی  ان  کے کراس ایل او سی ایجنڈا میں شاردا مندر کی یاترا کوئی جگہ پا سکی۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان ریاست جموں و کشمیر کے تقسیم ہوجانے کے بعد یہ مندر اور اسی طرح کے کئی دیگر غیر مسلم عقیدتی مقامات اپنے عقیدتمندوں اور عبادت سے محروم ہیں۔ مذکورہ مندر اس علاقے میں بہنے والی تین اہم ندیوں دریائے نیلم (کشن گنگا) دریائے مدھومتی اور سورگُن کے سنگم کے قریب تحصیل شاردا میں واقع ہے۔ آثار قدیمہ میں شامل شاردا مندر اور اس سے ملحقہ مقامات، جن میں ’گوتم  کی بیٹھک‘ تہجیاں اور کھیل پاٹ کو انتہائی مقدس مقامات تصور کیا جاتا ہے۔ اسی طرح شاردا مندر، گھنیش گھاٹی، سرسوتی جھیل اورسیری سیلا قلعے کا تذکرہ گیارہویں صدی میںکلہن پنڈت کی لکھی ہوئی کشمیر کی قدیم تاریخ’ راج ترنگنی‘ میں بھی ملتا ہے۔
جہاں تک سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی زبانی تاریخ اور روایات کا تعلق ہے، اس مقام کو بودھ تعلیمی مرکز کے  طورجانا جاتا ہے ، تاہم جہاں تک شاردا مندر کی تعمیر کا تعلق ہے،  یہکشمیر کے جنوبی قصبہ اسلام آباد (اننت ناگ) میں واقع قدیم ہندو مندر مارتنڈ کے ساتھ کافی  ملتا جلتا ہے، جس کا تعلق آٹھویں صدی  (CE) سے ہے ، جس کی تعمیر کشمیر میں راجہ للیتا دتیہ کے دور اقتدار میں ہوئی تھی ۔ شاردا مندر  کا ڈھانچہ اہرام نما شکارے کی شکل میں بنی ہوئی بنیاد پر ابھارے گئے ستونوں اور کمان نما بارادریوں پر کھڑا کیا گیا ہے ، جو کہ قدیم روائتی کشمیری فن تعمیر کا خاصہ ہے۔شاردا مندر کے ساتھ ساتھ اس مقام پر ایک بڑے دروازے کے کھنڈرات بھی موجود ہیں، جو موجودہ شاردا مندر سے بھی کافی پرانا لگتا ہے۔ اور اس بیرونی ڈھانچے کی بھی کافی عرصے سے کوئی تعمیر و تجدید نہیں کی گئی ہے۔ ماہرین فن تعمیر کا کہنا ہے کہ بیرونی دروازے کے کھنڈرات اور اندرونی مندر کے طریقہ تعمیر میں کافی اختلاف موجود ہے اور دونوں الگ الگ دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مقامی محقق رُخسانہ خان ، جنہوں نے اس حوالے سے کافی کام کیا ہے ، کا کہنا ہے ’’ انتہائی قدیم ڈھانچے شاردا مندر، جو ایک بودھ دانشگاہ رہی ہے، کے حوالے سے ہونے والی ایک ’فیلڈ سروے ‘ ، گہری تحقیق اور اس مقام کی کھدائی کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ موجودہ مندر کے ڈھانچے سے قبل بھی وہاں پر ایک بڑا ڈھانچہ پہلے سے موجود تھا ۔ کھدائی کے دوران ملنے والے تعمیری مواد، جس میں تیراکوٹا  نالیاں، اینٹیں، سکے اور برتنوں کی ترکیب  شامل ہے،سے یہ بات  صاف طور پر سامنے آتی ہے کہ یہ مقام مختلف تاریخی ادوار میں گنجان آباد علاقہ رہا ہوگا‘‘
رخسانہ خان مزید لکھتی ہیں:
’’ سلوان بہک اور کرورس ویلی  کا راستہ ، کہ وادیٔ کشمیر کی جانب سے وادیٔ نیلم  کی طرف آتا ہے، دریائیء مدھو متی کے کنارے کنارے براہ راست شاردا وادی میں  داخل ہوتتا ہے ، یہی وہ راستہ ہے، جو چودھویں صدی میں کشمیر کے سُلطان زین العابدین (بڈشاہ) نے شاردا مندر تک پہنچنے کے لئے استعمال کیا تھا‘‘
شاردا مندر کو ’شاردا پیٹھ ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، جس کے بارے میں روایت ہے کہ یہ کسی زمانے میں ایک بہت بڑی دانشگاہ تھی اور شاردا رسم الخط بھی اسی مندر یا دانشگاہ سے منسوب ہے۔ چینی سیاح اور بودھ بھکشو ہیون سانگ لکھتے ہیں کہ کشمیر ایک ایسا مقام تعلیم و تربیت ہے، جہاں بدھ مت کی تعلیمات کا شاردا،برہمی، سنسکرت اور خروشتی رسم الخطوط میں  پر چارکیا جاتا ہے۔ شاردا رسم الخط کشمیر میں ساتویں اور آٹھویں صدی ( CE) میں رائج ہوا اور اس کا بالائی جنوبی ایشیاء میں بکثرت استعمال ہوتا رہا۔ شاردا یعنی وادی نیلم  میں پائے جانے والے پتھر کے کتبے گاندھارا (موجودہ افغانستان) چلاس اور گلگت و  بلتستان کے کتبوں سے کافی مشابہہ مانے جاتے ہیں۔
2005ء کے انتہائی تباہ کُن زلزلے کے بعد اس جگہ کو کافی نقصان پہنچا ، اگرچہ اس کی تھوڑی بہت مرمت کی گئی لیکن ابھی بھی یہ جگہ پوری طرح سے محفوظ نہیں اور اس کو موسم کی  مار کے علاوہ چاروں طرف سے ہونے والی غیر قانونی قبضہ جات سے بھی خطرہ لاحق ہے۔ ان میں سے کچھ ثقافتی مقامات پر فوج کا بھی قبضہ ہے اور فورسز کی موجودگی ، غیر قانونی عوامی قبضہ جات اور اس جگہ سے چند سو میٹر کی دوری پر واقع ایک ہیلی پیڈ کی موجودگی کی وجہ سے بھی ان خطرات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور اس مقدس مقام کے تحفظ اور تعمیر و تجدید میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوگئی ہیں لیکن اس سب کے باوجود مذکورہ مندر ایک اچھی خاصی حالت میں اب تک موجود ہے۔
 اب جبکہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر ‘‘ کی عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کے مطابق اس مندر کے تحفظ کا کام شروع ہورہا ہے، ظاہر ہے کارِ سرکار کافی طویل اور جھنجٹ سے پر ہوہوتا ہے اور اس کے لئے لمبا انتظار کرنا پڑتا ہے، ایسے میں یہ چیز سب سے اہم ہے کہ ان مقامات کی زیارت و سیاحت کے لئے دونوں جانب سے دروازے کھول دیے جائیں۔ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کی جانب سے اس کی زیارت یا یاترا کی مانگ کا تعلق ہے، وہ بھی کسی مخصوص شخص کی جانب سے نہیں بلکہ اگر کھلے دل سے پنڈت برادری کی جانب سے آئے تو اس میں زیادہ اثر ہوگا اور یقیناً وہ اس کام میں سرعت لانے میں معاون بھی ثابت ہوگا۔ ساتھ ہی اس برادری کو چاہیے کہ وہ محض اس ایک مطالبے پر اپنی طاقت آزمائی نہ کرے بلکہ انہیں چاہیے کہ وہ باقی سبھی اعتماد سازی کی کوششوں اور اقدامات کی بھی اسی انداز میں حمایت کریں ،  جن کا تعلق ہزاروں بچھڑے ہوئے لوگوں کو آپس میں ملا نے سے ہے کیونکہ حالات کا سازگار ہونا ہر سطح پر لازمی ہے۔ قابلِ ذکر مثال بات ہے کہ دونوں علاقوں کے درمیان شروع کی گئی بس سروس نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس خلیج کو پورا کرنے میں کافی رول ادا کیا ہے، جو تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی لیکن اب وقت آگیا ہے  اور عوام کو چاہیے کہ وہ حکومتوں کو اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لئے مجبور کریں اور حکومتوں کا انتظار کیے بغیر اپنے طور پر کوششیں تیزکریں۔

Comments are closed.