ستائیس گھنٹوں کے بعد کرن نگر سرینگر معرکہ آرائی ختم ،دو جنگجو ازجان

سرینگر:کرن نگر سرینگر میں سی آر پی ایف کیمپ پر ہوئے حملے کے بعد جنگجوﺅں اور فورسز کے مابین شروع ہوئی خونین معرکہ آرائی ستائیس گھنٹوں کے بعد اختتام پذیر ہوئی ۔پولیس وفورسز حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ دو جنگجو ازجان ہوئے ،جنہوں نے ایک زیر تعمیر پختہ عمارت میں پناہ لی تھی ۔

اطلاعات کے مطابق کرن نگر سرینگر میں سوموار کی صبح اُس وقت خونین معرکہ آرائی شروع ہوئی جب علی الصبح دو مسلح جنگجوﺅں نے علاقے میں قائم سی آر پی ایف کیمپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی ۔پولیس حکام کا کہنا تھا کہ 23بٹالین سی آر پی ایف کیمپ پر جنگجوﺅں نے فدائن حملے کا منصوبہ بنایا تھا ،تاہم چوکس سنتری نے اس کوشش کو ناکام بنادیا ۔

کیمپ کی حفاظت پر معمور ایک اہلکار نے پیر کی علی الصبح مشکوک نقل وحرکت دیکھی ،جسکی بعد مذکورہ اہلکار نے ہوا میں گولیوں کے کئی راﺅنڈ چلائے ،جنگجوﺅں نے فرار ہونے کے دوران کیمپ کے نزدیک زیر تعمیر ایک پختہ کئی منزلہ عمارت میں پناہ لی اور پیر کی صبح10بجے سے یہاں فورسز اور جنگجوﺅں کے درمیان شدید گولیوں کا تبادلہ ہوا،جو رات دیر تک جاری رہا ۔

جنگجوﺅں اور فورسز کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والی جھڑپ کے کرن نگر اور اسکے مضافاتی علاقے گولیوں کی گن گرج اور دھماکوں سے لرز اٹھے ۔معرکہ آرائی کے دوران یہاں تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔نوجوانوں نے فورسز کے جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی اور فورسز پر پتھراﺅ کیا ۔جوابی کارروائی کے دوران پولیس وفورسز نے مشتعل مظاہرین کو تتربتر کرنے کےلئے ٹیر گیس شلنگ کی ۔

اس کے بعد اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی اور جائے جھڑپ کے گرد ونواح کو سیل کرکے عام لوگوں کی نقل وحرکت پر پابندیاں عائد کی ۔ادھر منگلوار کی صبح فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن دو بارہ شروع کردیا جبکہ شہر خاص میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کےلئے کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئیں ۔

خبر رساں ادارے جی این ایس کے مطابق ایس ایس پی سرینگر امتیاز اسماعیل پرے نے بتایا کہ منگل کی صبح زیر تعمیر عمارت میں پناہ لئے ہوئے جنگجوﺅں اور فورسز کے مابین دوبارہ گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ طرفین کے مابین گولیوں کے تبادلے میں دو جنگجو ازجان ہوئے ۔ان کا کہناتھا کہ دونوں جاں بحق جنگجوﺅں کی نعشیں برآمد کی گئیں اور دواے کے47رائفلیں بھی برآمد کی گئیں۔تاہم علاقے میں تلاشی کارروائی جاری ہے ۔

ایس ایس پی سرینگر کا کہنا ہے کہ فورسز اہلکار عمارت کے ہر ایک کمرے میں جاکر کلیئرنس کا کام انجام دےتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جاں بحق جنگجوﺅں کی شناخت کا عمل شروع کیا گیا ۔خبر رساں ادارے جی این ایس کے مطابق ایک بیان میں لشکر طیبہ نے اس حملے کی ذمہ داری لی تھی ۔

کرن نگر جھڑپ میں سی آر پی ایف اہلکار مجاہد خان ساکنہ بہار ہلاک اور ایک ایس او جی اہلکار شوٹ آﺅٹ میں زخمی ہوا تھا ۔اس دوران سرینگر میں تیز رفتار والی انٹر نیٹ خدمات معطل کی گئیں ۔دریں شہر خاص میں نوجوانوں کے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کےلئے کرفیو جیسی پابند یاں اور بندشیں عائد کی گئیں ۔

Comments are closed.