ہیرتھ کے تہوار پر کشمیری مسلمانوں کی کمی شدت سے محسوس کرتے ہیں: کشمیری پنڈتوں کے تاثرات

جموں، :کشمیری پنڈتوں کے سب سے بڑے اور محبوب تہوار ’ہیرتھ‘ کی چار دنوں تک جاری رہنے والی روایتی تقریبات منگل کے روز سے شروع ہوگئی ہیں۔ اس تہوار کو ہندوستان، پڑوسی ممالک بشمول پاکستان میں مقیم ہندو برادری ’مہا شیوراتری ‘ کے نام سے مناتی ہے۔ ہندو مذہب کے مطابق یہ تہوار بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کی شادی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ معروف کشمیری صحافی اور ای ٹی وی کے گروپ ایڈیٹر راجیش رینہ جو جنوبی ہندوستان کے شہر حیدرآباد میں رہائش اختیار کرچکے ہیں، کا ہیرتھ کے موقع پر کہنا ہے ’شیوراتری جسے کشمیری میں ہیرتھ کہتے ہیں، کشمیری پنڈتوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ اس تہوار کے موقع پر ہمیں اپنے مادر وطن، کشمیری پڑوسیوں اور دوستوں کی بے حد کمی محسوس ہورہی ہے۔ ہیرتھ کے اگلے روز کو سلام کے طور پر منایا جاتا ہے اور وہ (کشمیری پڑوسی اور دوست) سلام کے موقع پر ہمارے گھر آکر ہمیں اس دن کی مبارکباد پیش کرتے تھے‘۔
انہوں کہا ’ہم آج بھی ہیرتھ کے بعد آنے والے دن کو سلام کے طور پر مناتے ہیں، لیکن یہاں ہمیں کوئی پڑوسی یا دوست اس موقع پر مبارکباد پیش نہیں کرتا ہے۔ وہ دن کہاں گئے ہیں؟‘۔ مسٹر رینہ کے مطابق ہیرتھ کے موقع پر کشمیر میں برف باری کا ہونا نیک شگون ہے۔ ان کا کہنا ہے ’کشمیر میں تازہ برف باری ہوئی ہے۔ اس کا شیوراتری تہوار کے موقع پر ہونا نیک شگون ہے۔ جب جبار خان نے کشمیری پنڈتوں کو شیوراتری کا تہوار موسم گرما میں منانے پر مجبور کیا تھا، تو تب گرما کے موسم میں بھی برف باری ہوئی تھی‘۔ منگل کو ہیرتھ کے پہلے دن سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بالخصوص فیس بک پر کشمیری مسلمانوں اور مہاجر کشمیری پنڈتوں کی سینکڑوں جذباتی تحریریں دیکھنے کو ملیں جن میں کشمیری مسلمانوں نے اپنی پنڈت برادری کو کشمیر واپس لوٹنے کی دعوتیں دی ہیں جبکہ کشمیری پنڈتوں نے ہیرتھ سے متعلق کشمیر کی یادیں تازہ کی ہیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ 

Comments are closed.