کشمیر میں خون خرابہ روکنے کیلئے پاکستان سے مذاکرات ضروری: محبوبہ مفتی
جموں:جموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ریاست میں خون خرابہ روکنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی پرزور وکالت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں جانتی ہوں کہ مجھے اینٹی نیشنل قرار دیا جائے گا، لیکن یہ برحق ہے کہ جنگ کوئی آپشن نہیں ہے۔ محترمہ مفتی نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی وکالت جموں کے سنجوان ملٹری اسٹیشن اور سری نگر کے کرن نگر میں جنگجویانہ حملوں کے پس منظر میں کی ہے۔ انہوں نے پیر کے روز مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ’خون خرابہ روکنے کے لئے پاکستان کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں ۔ میں جانتی ہوں کہ آج رات منعقد کئے جانے والے ٹیلی ویژن مباحثوں میں مجھے اینٹی نیشنل قرار دیا جائے گا، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جموں وکشمیر کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ ہمیں بات کرنی ہوگی۔ جنگ آپشن نہیں ہے‘۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے 8 فروری کو کہا کہ ریاست میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر مزید جانی نقصان کو ٹالنے کے لئے بات چیت ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بات ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے کرشنا گاٹھی سیکٹر میں پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں ایک خاتون کی موت واقع ہوجانے کے واقعہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہی تھی۔ محترمہ مفتی نے کہا تھا ’پونچھ میں ایل او سی پر سرحد پار فائرنگ سے ایک 45 سالہ خاتون کی موت واقع ہوجانے کے بارے میں جان کر دکھ ہوا ہے۔ ہمیں مزید ہلاکتوں کو ٹالنے کے لئے بات چیت شروع کرنی چاہیے‘۔ رواں برس کے42 دنوں کے دوران سرحدوں پر شدید کشیدگی دیکھی گئی جس دوران 20 شہری و فوجی اہلکار جاں بحق ہوئے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان 1999 ءکے تنازعے کے بعد سنہ 2003 میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا۔ تاہم جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود سرحدوں پر فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔ یو اےن آئی
Comments are closed.