ایوان اسمبلی میں صدر اسپتال حملے کی گونج سنائی دی

جموں،نئی دہلی/۷،فروری / ” اسمبلی میں صدراسپتال حملے کی گونج“کے بیچ اپوزیشن ارکان نے کہاکہ لشکرجنگجوکافراراور2پولیس اہلکاروں کاازجان ہوناناقص سیکورٹی کانتیجہ ہے ۔ریاستی اسمبلی میں اپوزیشن اورحکمران اتحادکے ممبران نے اس واقعے کی جامع تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے ریاستی سرکارسے وضاحت طلب کی ۔پارلیمانی امورکے وزیرعبدالرحمان ویری نے ارکان اسمبلی کی تشویش کیساتھ اتفاق کرتے ہوئے ایوان کوبتایاکہ واقعے سے متعلق پولیس تھانہ کرن نگرمیں ایف آئی آردرج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔انہوںنے بتایاکہ تحقیقات اورچھان بین کے بعدہی سیکورٹی خامی کاتعین کیاجاسکتاہے۔کشمیر نیوزسروس کے مطابق بدھ کی صبح جب ریاستی اسمبلی کے ایوان زیریں کی کارروائی شروع ہوئی تواپوزیشن کے کئی اراکین نے ایوان میں صدراسپتال سرینگرمیں ہوئے جنگجوئیانہ حملے کامعاملہ اُٹھاتے ہوئے کہاکہ یہ بات بڑی تشویشناک ہے کہ جنگجوﺅں نے دن دہاڑے حملہ کرکے2پولیس اہلکاروں کی جان لینے کیساتھ ساتھ ایک ایسے خطرناک جنگجوکوبھی چھڑاکراپنے ساتھ لے لیاجوسال2014میں گرفتارہواتھا۔ممبراسمبلی خانیارعلی محمدساگرنے قانون سازاسمبلی میں یہ معاملہ اُٹھاتے ہوئے کہاکہ شہرسرینگرمیں ہوایہ جنگجوئیانہ حملہ بڑی سیکورٹی خامی کانتیجہ ہے۔انہوں نے کہاکہ اس واقعے کی جامع تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے سرکارسے اسبارے میں تفصیلی بیان دینے کوکہا۔علی محمدساگرکاکہناتھاکہ صدراسپتال ہمیشہ بیماروں اوراُنکے رشتہ داروں سے کھچاکھچ بھرارہتاہے ،اوراس بڑے سرکاری اسپتال میں اس نوعیت کاجنگجوئیانہ حملہ ایک سنگین معاملہ ہے ،جس سے سرکارکوبڑی سنجیدگی کیساتھ لیناچاہئے ۔انہوں نے مانگ کی سرکاکواسبات کی انکوائری کرانی چاہئے کہ یہ جنگجوئیانہ حملہ کیسے ہوا۔اس دوران ممبراسمبلی کولگام محمدیوسف تاریگامی نے صدراسپتال حملے کوسنگین قراردیتے ہوئے کہاکہ کہیں نہ کہیں کوئی سیکورٹی خامی رہی ہے جواس نوعیت کاحملہ کیاگیا۔محمدیوسف تاریگامی،کانگریس کے جی ایم سروری ،ممبراسمبلی خانصاحب حکیم محمدیاسین اورحکمرا ن جماعت پی ڈی پی کے ممبراسمبلی کرناہ راجہ منظورنے بھی ایوان میں صدراسپتال واقعے پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے آئندہ ایسے جنگجوئیانہ حملوں کوناکام بنانے کیلئے پختہ سیکورٹی اقدامات روبہ عمل لانے پرزوردیا۔اپوزیشن ارکان نے صدراسپتال حملے کوسیکورٹی خامی سے تعبیرکرتے ہوئے مانگ کی کہ اس ہلاکت خیزاورتشویشناک معاملے کی جامع تحقیقات عمل میں لائی جائے ۔اس دوران حکیم یاسین نے کہاکہ صدر اسپتال میں ہوئی جنگجوئیانہ کارروائی سے ظاہرہوتاہے کہ کشمیروادی میں سیکورٹی صورتحال کس حدتک خراب ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ جنگجوئیانہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیاگیاجب ریاستی سرکارپنچایتی الیکشن کرانے کی بات کررہی ہے۔کے این ایس نمائندے کے مطابق سرکارکی جانب سے ایوان میں جواب دیتے ہوئے پارلیمانی امورکے وزیرعبدالرحمان ویری نے کہاکہ وہ ممبران کی تشویش کیساتھ اتفاق کرتے ہیں ۔انہوں نے ایوان کومنگل کی صبح رونماہوئے جنگجوئیانہ حملے اورا سدوران 2پولیس اہلکاروں کے ازجان ہونے نیزایک گرفتارلشکرکمانڈرکے فرارہوجانے کاذکرکرتے ہوئے ایوان کوبتایاکہ اس واقعے سے متعلق پولیس تھانہ کرن نگرمیں ایف آئی آردرج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے۔سینئروزیرعبدالرحمان ویری نے بتایاکہ تحقیقات اورچھان بین کے بعدہی یہ بات واضح ہوجائیگی کہ کہیں کوئی سیکورٹی خامی تھی کہ نہیں ۔

Comments are closed.