انسانی ڈھال معاملہ، جموں وکشمیر حکومت کا فاروق ڈار کو معاوضہ ادا کرنے سے انکار 

جموں، یکم فروری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس اپریل میں فوج کی طرف سے انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کئے گئے فاروق احمد ڈار کو سفارش کردہ معاوضہ اس لئے نہیں دیا گیا کیونکہ ریاست حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر و جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے فاروق ڈار کو معاوضہ ادا نہ کرنے پر ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو مسٹر ساگر کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سٹیٹ ہومن رائٹس کمیشن نے ڈار کے حق میں 10 لاکھ روپے کے معاوضے کی سفارش کی ہے۔ حکومت نے اپنے جواب میں کہا ’ہومن رائٹس کمیشن کی سفارشات پر بااختیار کمیٹی نے اس کی 28 ویں میٹنگ میں غور وخوض کیا اور یہ محسوس کیا گیاکہ ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکتا کیونکہ درخواست گزار کی جانب سے ریاستی حکومت یا اس کے کسی ادارے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد نہیں کیا گیا ہے‘۔ حکومتی جواب میں کہا گیا ’کمیشن نے اپنی سفارشات میں محسوس کیا تھا کہ فوج اس کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے‘۔ حکومت نے کہا ہے کہ فاروق ڈار کو انسانی ڈھال بنانے کے معاملے میں پولیس تھانہ بیروہ میں آر پی سی کی 342، 367 اور 506 دفعات کے تحت ایف آئی آر درج ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ریاستی ہیومن رائٹس کمیشن نے گذشتہ برس 10 جولائی کو ریاستی حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کے رہائشی فاروق احمد ڈار جسے فوجی میجر لیٹول گوگوئی نے گذشتہ برس کے 9 اپریل کو اپنی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر کم از کم دس گاو ¿ں گھمایا تھا، کو دس لاکھ روپے بطور معاوضہ ادا کرے۔ کمیشن نے کہا تھا کہ انسانی ڈھال بنانے کے واقعہ کا از خود نوٹس لینے کے علاوہ انٹرنیشنل فورم فار جسٹس اینڈ ہومن رائٹس کے چیئرمین محمد احسان انتونے واقعہ کے حوالے سے کمیشن میں کیس درج کیا تھا۔ تاہم ریاستی کمیشن برائے انسانی حقوق نے یہ کہتے ہوئے فوج کو ہدایت جاری کرنے سے انکار کیا تھا کہ ’فوج کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے‘۔ کمیشن نے کہا تھا کہ ایک مہذب سماج میں ایک انسان کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ خیال رہے کہ فوجی جیپ کے بونٹ سے باندھے گئے نوجوان فاروق احمد ڈار کی تصویر اور ویڈیو سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر عمر عبداللہ نے 14 اپریل 2017 کو اپنے ٹویٹر کھاتے پر پوسٹ کی تھی۔ فوج نے مذکورہ نوجوان جو کہ ضلع بڈگام کے ژھل براس آری زال بیروہ کا رہنے والا ہے، کو 9 اپریل 2017 کے دن سری نگر کی پارلیمانی نشست پر پولنگ کے دوران انسانی ڈھال بناکر اپنی جیپ کے ساتھ باندھ دیا تھا ۔ فوج نے فاروق جس نے اپنے حق رائے دہی کا بھی استعمال کیا تھا، کواپنے گاڑیوں کے قافلے کو پتھراو ¿ سے بچانے کے لئے اپنی جیپ کے ساتھ باندھا تھا۔ فوجی جیپ کے ساتھ باندھے گئے نوجوان فاروق کی تصویر اور ویڈیو نے وادی بھر میں شدید غصے اور ناراضگی کی لہر پیدا کی تھی۔ اہلیان وادی نے فوج کی اس حرکت کو بدترین انسانی حقوق کی پامالی قرار دیا تھا۔ تاہم لوگوں کی ناراضگی اور غصے میں اس وقت اضافہ ہوا تھا جب فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے فاروق ڈار کو فوجی جیپ سے باندھنے کے مرتکب میجر لیٹول گوگوئی کو توصیفی سند سے نوازا۔ یو اےن آئی

Comments are closed.