بجٹ اجلاس:اپوزیشن نےصوبہ جموں میں اقلیتوں کوہراساں کرنے کا لگایاالزام، احتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا
جموں :کٹھوعہ میں آٹھ سالہ معصوم بچی کے قتل کے بعد رسانہ گاﺅں جہاں مسلم آباد ی آباد ہے ،کی واٹر سپلائی کاٹ دی گئی ہے ،یہ دعویٰ جمعرات کو قانون ساز اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید رانا نے لگایا۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ اقلیتوں کو سانبا ،جموں اور کٹھوعہ میں غنڈے ہراساں کررہے ہیں ۔ اس دوران حزب اختلاف نے حزب اقتدار پرسڑکوں پر تار کول بچھانے میں امتیازبرتنے کا الزام لگایا اور ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا۔
جموں سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق قانون ساز اسمبلی میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید رانا نے الزام عائد کیا کہ صوبہ جموں میں اقلیتوں کو نہ صرف ہراساں کیا جارہا ہے بلکہ مسلم آبادی کو پینے کے پانی سے بھی محروم کیا جارہا ہے ۔
نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید رانا نے وقفہ سوالات کے دوران یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سانبا ،جموں اور کٹھوعہ میں اقلیتوں کو غنڈے ہراساں کررہے ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہاتھ پر ہاتھ درے بیٹھے ہیں ۔
ممبر اسمبلی مینڈھر جاوید رانا نے الزام عائد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ کٹھوعہ ایک مسلم آبادی والے گاﺅں رسانہ میں آٹھ سالہ آصفہ بانو نامی معصوم بچی کے قتل کے بعد واٹر کی سپلائی کاٹ دی گئی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سماج دشمن عناصر نے مذکورہ علاقے میں اقلیتی طبقے کے لوگوں کو پینے کے پانی سے محروم کردیا ہے کیو نکہ سماج دشمن عناصر نے پانی کی سپلائی ہی کاٹ دی ہے ۔نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی نے مانگ کی ہے کہ علاقے میں فوراً سے بیشتر پانی کی سپلائی بحال کی جانی چاہئے ۔یاد رہے کہ آزاد ممبر اسمبلی انجینئر رشید نے بھی سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ معاملہ اٹھایا تھا ۔
ادھر ایوان ِ اسمبلی میں اُس وقت ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کے مناظر دیکھنے کو ملے جب اپوزیشن نے حزب اقتدار پرسڑکوں پر تار کول بچھانے میں امتیازبرتنے کا الزام لگایا اور ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق دوران وقفہ سوالات روڈس اینڈ بلڈنگ کے ریاستی وزیر نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی عید گاہ مبارک گل کے سوال کا جواب دے رہے تھے ،کہ اپوزیشن کے تمام ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور الزام لگایا کہ سڑکوں پر تار کول بچھانے کے حوالے سے امتیاز برتا جارہا ہے ۔
نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایا کہ ’حزب ِ اقتدار کے ممبران کے حلقوں میں سڑکوں پر تار کول بچھایا جاتا ہے جبکہ اپوزیشن کے ممبران اسمبلی کے حلقوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔
ممبر اسمبلی الطاف احمد وانی نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپیل کی کہ وہ ذاتی طور پر اِس معاملے کا نوٹس لیں اور امتیازی سلوک کو ختم کرائے ۔روڈس اینڈ بلڈنگس کے ریاستی وزیر نعیم اختر ایوان میں اسے قبل موجود تھے ،جنہوں نے بتایا کہ مانگ کے مطابق سڑکوں پر تار کول بچھایا جاتا ہے ۔تاہم نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے ممبران اِس جواب سے مطمئن نہیں ہوئے اور ایوان ِ چاہ میں کود پڑے ،جس دوران اپوزیشن ممبران نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کی ۔
این سی لیڈر عبدالمجید لامی نے نیم اختر سے سیدھے مخاطب ہوکر کہا ’آپ جھوٹ بول رہے ہو‘۔اپوزیشن ممبران نے ’امتیازی سلوک نہیں چلے گا ،بندر بانٹ بند کرو اور بیر بل کو بند کرو‘کے نعرے لگائے ،جس دوران یہاں شور شرابہ بپا ہوا ۔اپوزیشن لیڈر عمر عبداللہ سمیت تمام ممبران نے احتجاجاً ایوان سے واک آﺅٹ کیا ۔
Comments are closed.