ریلوے بجٹ میں پانچ فیصد اضافہ کا اعلان

نئی دہلی، یکم فروری ( یو این آئی) ریلوے میں سیکورٹی کو مضبوط کرنے اور مسافروں کی مراعات کو بہتر بنانے کے لئے حکومت نے مالی سال 2018-19 کے لئے بجٹ الاٹمنٹ پانچ فیصد بڑھا کر ایک لاکھ 48 ہزار 528 کروڑ روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے پارلیمنٹ میں آج عام بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 12 ہزار نئے ویگن خریدے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مسافروں کی سہولت کے لئے 3160کوچ اور 700 انجن بھی خریدے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2017-18 میں ریلوے کا سرمایہ کاری خرچ ایک لاکھ 41 ہزار کروڑ روپے اور مالی سال 2016-17 میں ایک لاکھ 31 ہزار کروڑ روپے تھا۔مسٹر جیٹلی نے بجٹ تقریر میں ریلوے میں سرمایہ خرچ کے لئے ایک کروڑ 48 ہزار 528 کروڑ روپے مختص کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریلوے کی سیکورٹی کوزیادہ ترجیح دی جائے گی اور دو سال میں 4267 بغیر پائلٹ ریلوے کراسنگ کو ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے رواں مالی سال میں 3600 کلو میٹر ٹریک کی تجدید کاری کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی میں مضافاتی ریل سروس کو بہتر بنانے اور 90 کلومیٹر کو دوہرا کرنےکے لئے 11 ہزار کروڑ روپے اور 1600 کلو میٹر راستے کے اپ گریڈ اور ایلیویٹیڈکاریڈور کے لئے 40 ہزار کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے بنگلور سب اربن ریل سروس کو اپ گریڈ کرنے کیلئے 1700 کروڑ روپے کے منصوبہ کی بھی تجویز پیش کی۔
وزیر خزانہ نے تمام ٹرینوں اور ریلوے اسٹیشنوں کو وائی فائی پر مشتمل بنانے، 25 ہزار مسافروں کے ٹریفک والے ریلوے اسٹیشنوں پر خود کار سیڑھیاں لگانے اور 600 ریلوے اسٹیشنوں کی مرمت اور تزئین کاری کا بھی اعلان کیا۔

Comments are closed.