راجوری:حد متارکہ پر آتشی گولہ باری جاری،71تعلیمی ادارے بند

راجوری:صوبہ جموں میں حد متارکہ پر کشیدگی اور تناﺅ کی صورتھال برقرار ہے ،جس دوران برصغیر کی دو ایٹمی طاقتوں کی افواج کے درمیان دوبارہ آتشی گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔آر پار فائرنگ اور ماٹر شلنگ کے نتیجے میں سرحدی علاقوں میں 71تعلیمی اداروں کو احتیاطی طور پر تاحکم ثانی بند کرنے کا فیصلہ لیا گیا ۔

اطلاعات کے مطابق راجوری کے نوشہرہ علاقے کے لام اور پکھرنی سیکٹروں میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان جمعرات کی صبح7بجکر45منٹ پر فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔دفاعی ترجمان نے بتایا کہ صوبہ جموں کے راجوری ضلعے کے نوشہرہ سیکٹر میں پاکستانی فوج نے لام اور پکھرنی میں واقع بھارتی فوج کی اگلی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے فائرنگ کی اور ماٹر گولے داغے ۔

دفاعی ترجمان نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے کی گئی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا بھر پور جواب دیا گیا ۔آر پار شلنگ کے نتیجے میں سرحدی آبادی میں کافی اضطرابی کیفیت پائی جارہی ہے ۔ادھر انتظامیہ نے سرحدی علاقوں میں احتیاطی اقدامات کے تحت تا حکم ثانی 71تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا ۔حکام کا کہنا ہے کہ اسکولی بچوں کے تحفظ کو مدنظر رکھ کر یہ اقدامات اٹھائے گئے ۔

یاد رہے کہ حالیہ آتشی گولہ باری کے نتیجے میں کئی فورسز اہلکاروں سمیت14افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے ۔ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ترک سکونت اختیار کی ۔ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے حالیہ دنوں جموں جاری بجٹ اجلاس کے دوران کہا تھا کہ لائن آف کنٹرول پر صورتحال انتہائی ابتر ہے ۔

Comments are closed.