ویڈیو: شوپیان میں پھر غم واندوہ کی لہر،زخمی معصوم لڑکا جانبر نہ ہوسکا

سرینگر:شوپیان میں جمعرات کی صبح اُس غم واندوہ کی لہر دوڑ گئی جب چھئے گنڈ شوپیان میں گزشتہ ہفتہ بارودی مواد پھٹنے سے زخمی ہونے والا 10سالہ معصوم لڑکا صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زندگی کی جنگ ہار گیا ۔معصوم کی نماز جنازہ میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ،جس دوران یہاں جذباتی اور وقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔24سے27فروری تک جنوبی ضلع شوپیان میںپیش آنے والے مختلف واقعات میں شہری ہلاکتوں کی تعداد5تک پہنچ گئی ۔ ادھر شوپیان اور پلوامہ میں مسلسل آٹھویں روز بھی شہری ہلاکتوں کے خلاف ہڑتال سے معمولات ِ زندگی متاثر ہو کر رہ گئے ۔

اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے چھئے گنڈ شوپیان میں بارودی سُرنگ کے ایک سماعت شکن دھماکے میں زخمی ہونے والا 10سالہ معصوم لڑکا مشرف فیاض ولد ولد فیاض احمد نجار صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زیر علاج رہنے کے دوران جانبر نہ ہوسکا ۔

مشرف فیاض 25جنوری کو چھئے گنڈ شوپیان میں جھڑپ کے مقام پر اُس وقت بارودی دھماکے میں زخمی ہوا تھا جب یہاں جنگجوﺅں اور فورسز کے مابین ہوئی جھڑپ میں تباہ شدہ مکان کے ملبے کو ہٹا یا جارہا تھا ۔کمسن مشرف 6روز تک صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ کے انتہائی نگہداشت والے وارڈ (آئی سی یو) میں زیر علاج رہنے کے بعد بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات کو زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا ۔

رپورٹس کے مطابق مشرف فیاض کے آبائی گاﺅں دت مدور میں جمعرات کی صبح اُس وقت غم واندوہ کی لہر دوڑ گئی ،جب علی الصبح علاقے میں یہ خبر پھیلی کہ زخمی کمسن نوجوان نے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں زندگی کی آخری سانس لی ۔معصوم کی میت جمعرات کی صبح 7بجکر15پر پہنچا ئی گئی ۔معصوم کی نماز جنازہ آبائی گاﺅں میں ادا کی گئی ،جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔کمسن جاں بحق نوجوان کے آخری سفر میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور جذباتی مناظر وفلک شگاف نعروں کے بیچ معصوم کی میت کو سپرد لحد کیا گیا۔

کیگام شوپیان کے ایک پولیس افسر نے کمسن لڑکے کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کی صبح زخمی کمسن لڑکا زندگی کی جنگ ہار گیا ۔یاد رہے کہ24جنوری کو چھئے گنڈ آڈوشوپیان میں جنگجوﺅں اور فوج وفورسز کے درمیان ہوئی جھڑپ میں دو مقامی جنگجو نوجوان جاں بحق ہوئے تھے جبکہ انکاﺅنٹر مخالف مظاہروں کے دوران 17سالہ نوجوان شاکر احمد میر جاں بحق اور دو کمسن لڑکیاں زخمی ہوئی تھیں ،جنکی حالت صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں ہنوز نازک بتائی جارہی ہے ۔

پولیس نے اس واقعہ سے متعلق پہلے یہ بیان دے رکھا ہے کہ جنگجوﺅں اور فوج وفورسز کے درمیان گولیوں کے تبادلے کے دوران شاکر ازجان اور دو دیگر لڑکیاں زخمی ہوئیں ۔27جنوری کو گنہ پورہ شوپیان میں فوج کی فائرنگ سے 20سالہ جاوید احمد بٹ ساکنہ بالپورہ اور 24سالہ سہیل احمد ساکنہ راولپورہ شوپیان موقعے پر ہی جاں بحق ہوئے جبکہ بدھ کو اس فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والا ایک اور نوجوان رئیس احمد گنائی ساکنہ نارپورہ زندگی کی جنگ ہار گیا ،اس طرح شوپیان میں24سے27فروری تک پیش آنے والے مختلف واقعات میں کمسن سمیت5عام شہری ازجان ہوئے ۔

شوپیان میں شہری ہلاکتوں پر قانون ساز اسمبلی میں ہنگامہ ہوا ،جس دوران اپوزیشن کے اسرار پر یہاں شوپیان ہلاکتوں پر بحث بھی ہوئی ۔اپوزیشن نے سرکار پر کئی الزامات لگائے جبکہ ریاست کی خاتون وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے بحث کو سمیٹتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ تحقیقاتی عمل کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا ۔تاہم سابق وزیر اعلیٰ نے فوج کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور مجسٹریل انکوائری کے احکامات صادر کرنے پر سوال اٹھا تھا۔

پولیس نے گنہ پورہ شوپیان فائرنگ واقعے کے حوالے سے فوج کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی ہے جبکہ فوج کا موقف ہے کہ اپنے دفاع میں گولی چلانی پڑی ۔فوج نے بدھ کے روز پولیس کے سامنے فائرنگ کے حوالے سے اپنا موقف رکھا اور میڈیا رپورٹس کے مطابق فوج نے بھی اس واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کرایا ہے ۔فوج کا کہنا ہے کہ200سے250افراد پر مشتمل ایک ہجوم نے فوج کے ایک افسر کی لنچنگ اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی تھی ،اور دفاع میں فوج کو گولی چلانی پڑی۔

دریں اثناءشوپیان میں 25جنوری سے ہڑتال جاری ہے اور امن وقانون کی صورتحال برقر ار رکھنے کےلئے یہاں موبائیل انٹر نیٹ خدمات منقطع ہیں ۔ معلوم ہوا ہے کہ جمعرات کو مسلسل آٹھویں روز بھی شوپیان اور پلوامہ میں ہڑتال رہی ۔

تفصیلات کے مطابق جڑواں اضلاع کے مرکزی قصبوں کے علاوہ دیگر کئی علاقوں میں جمعرات کو دکانات ،کاروباری ادارے اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ۔ہڑتال کے باعث پلوامہ اور شوپیان میں ہو کا عالم دیکھنے کو مل رہا ہے ۔شوپیان اور پلوامہ میں صورتحال ہنوز کشیدہ اور پُر تناﺅ بنی ہوئی ہے ۔

امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کےلئے دونوں اضلاع کے حساس علاقوں میں سیکورٹی کے کڑے انتظامات کئے گئے ہیں جبکہ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خدشات کے پیش نظر اضافی اہلکاروں کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے ۔

Comments are closed.