او آئی سی رابطہ گروپ ملاقات، جمو ں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال

بھارت نئے ڈومیسائل قواعد کے ذریعہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی کو منظم طریقے سے انجینئرنگ میں مصروف /قریشی

سرینگر/21ستمبر// جموں و کشمیر کے ممبروں پر او آئی سی رابطہ گروپ نے کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے ملاقات کی۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی درخواست پر جموں و کشمیر پر او آئی سی رابطہ گروپ کے ممبران نے نیویارک میں غیر رسمی ملاقات کی جس میں جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر منیر اکرم اور سعودی عرب ، نائجر اور آذربائیجان کے مستقل نمائندوں نے شرکت کی۔ او آئی سی سکریٹری جنرل کی نمائندگی اقوام متحدہ میں او آئی سی آبزرور مشن کے مستقل نمائندے ، سفیر آگشین مہدیئیف نے کی۔رابطہ گروپ کے ممبران نے جموں و کشمیر، کنٹرول لائن پر انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی صورتحال میں تناؤ میں حالیہ پیشرفتوں کا جائزہ لیا۔پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود نے خصوصی پیغام میں کہا کہ ‘‘ہندوستان میں آر ایس ایس- بی جے پی حکومت ایسی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہیں جسے یہ حکمران ‘‘حتمی حل’’ سمجھتے ہیں۔شاہ محمود نے کہا کہ یہ نئے ڈومیسائل قواعد کے ذریعہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلی کو منظم طریقے سے انجینئرنگ میں مصروف ہیں، 1.6 ملین ڈومیسائل سرٹیفکیٹ (مارچ سے) جاری کرنے کا مقصد کشمیر کی آبادی کو ایک مسلم اکثریت سے ہندو اکثریتی علاقے میں تبدیل کرنا تھا۔او آئی سی کے اصولی موقف کی توثیق کرتے ہوئے رابطہ گروپ کے تمام ارکان نے جموں و کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی بھارت کی طرف سے جاری خلاف ورزیوں پر بات کی اور گہری تشویش کا اظہار کیا۔ سی این آئی

Comments are closed.