کورونا وائرس ویکسین کا امیدوار میں منفی ردعمل، آکسفورڈ نے ٹرائل کا آزمائشی مرحلہ روک دیا
اب تک کوئی بھی ویکسین کلینیکل آزمائش کا مرحلہ مکمل نہیں کر پائی ہے/ عالمی ادارہ صحت
سرینگر/09ستمبر: برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی جانب سے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی آزمائش کے آخری مرحلے کو اْس وقت روکنا پڑا جب اس آزمائش میں شامل ایک امیدوار میں شدید نوعیت کا منفی رد عمل سامنے آیا۔ادھر عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی بھی ویکسین کلینیکل آزمائش کا مرحلہ مکمل نہیں کر پائی ہے۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی اور دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کی جانب سے کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین کی آزمائش کے آخری مرحلے کو اْس وقت روکنا پڑا ۔کمپنی نے آزمائشی مرحلے میں ایک ’معمول کا وقفہ‘ لیا ہے۔اس ویکسین کی آزمائش پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز ہیں اور یہ تصور کیا جاتا ہے کہ مغربی ممالک میں آکسفورڈ اور آسٹرازینیکا کے اشتراک سے ہونے والی آزمائش عالمی طور پر استعمال ہونے والی ویکسین کے لیے ایک مضبوط امیدوار ہے۔یہ ویکسین آزمائش کے دو مراحل سے گزر چکی ہے اور اس وقت اس پر ریسرچ اپنے آخری اور حتمی مرحلے میں ہے جو کہ کچھ ہفتے قبل ہی شروع ہوا تھا۔اس مرحلے میں 30 ہزار افراد شرکت کر رہے ہیں جن کا تعلق برطانیہ، امریکہ، برازیل اور جنوبی افریقہ سے ہے۔عام طور پر کسی بھی ویکسین کی تیاری میں تیسرے مرحلے میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں اور یہ کئی سالوں تک جاری رہتا ہے۔بی بی سی کے میڈیکل ایڈیٹر فرگس والش کے مطابق اس ویکسین کی دنیا بھر میں آزمائش عارضی طور پر روک دی گئی ہے اور واقعے کی آزادانہ طور پر تفتیش جاری ہے۔ ان معلومات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ آزمائش کو دوبارہ کب شروع کیا جائے۔آکسفورڈ یونیورسٹی کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا کہ ‘بڑے پیمانے پر کیے جانے والی آزمائشوں میں بیماریاں سامنے آ سکتی ہیں لیکن ہمیں آزادانہ طور پر اس کا جائزہ لینا ہوگا کہ ہوا کیا ہے۔’یہ دوسرا موقع ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کی کورونا ویکسین کی آزمائش کو روکا گیا ہو۔ دنیا بھر میں کسی بھی دوا کی آزمائش میں ایسا ہونا معمول کی بات ہے۔ اس میں حصہ لینے والے افراد میں سے کوئی بھی اگر بیمار ہو جائے اور ہسپتال میں داخل ہو تو آزمائش کو عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کی بیماری کی وجہ کیا ہے۔خیال کیا جا رہا ہے کہ چند روز میں آزمائش کو دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔دوسری جانب ویکسین تیار کرنے والی نو کمپنیوں نے کورونا وائرس کی ویکسین کی تلاش میں سائنسی اور اخلاقی معیارات برقرار رکھنے کے لیے ایک ‘تاریخی عہد’ کیا ہے۔فائزر اور میرک سمیت ان کمپنیوں نے کہا کہ وہ ریگولیٹری اداروں کی جانب سے منظوری کے لیے صرف تب درخواست دیں گی جب ان کی ویکسینز آزمائش کے تینوں مرحلوں سے بخوبی گزر جائیں گی۔یہ ‘عہد’ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسینز کے محفوظ ہونے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایک ویکسین کو نومبر میں امریکی صدارتی انتخاب سے قبل تیار چاہتے ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے مطابق اب تک کوئی بھی ویکسین کلینیکل آزمائش کا مرحلہ مکمل نہیں کر پائی ہے، جس کی وجہ سے چند سائنسدانوں کو خدشہ ہے کہ ویکسین کی تلاش سیاست کی نذر ہوتی جا رہی ہے جس سے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچ سکتی ہے۔اپنے اس عہد میں نو بائیوفارماسیوٹیکل کمپنیوں نے صدر ٹرمپ کا ذکر نہیں کیا مگر کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کے اقدام سے کسی بھی ویکسین کی تیاری پر ‘عوامی اعتماد یقینی’ بنایا جا سکے گا۔کمپنیوں نے عہد کیا کہ وہ ‘ویکسین لگوانے والے افراد کے تحفظ اور صحت کو ہمیشہ اولین ترجیح’ رکھیں گی۔دیگر دستخط کنندگان میں جونسن اینڈ جونسن، بائیو این ٹیک، گلیکسو سمتھ کلائن، ایسٹرازینیکا، موڈرنا اور نوواویکس شامل ہیں۔
Comments are closed.