بابری مسجد کے انہدام کی 25 ویں برسی پر ریاست بھر میں ہائی الرٹ
لکھنو /۔ آج بابری مسجد کی شہادت کی 25 ویں برسی کے پیش نظر ہندوستان بھر بالخصوص اترپردیش میں سخت ترین سکیورٹی انتظامات کئے گئے ہیں۔ایودھیا میں مسمار کی گئی بابری مسجد کی برسی کی وجہ سے اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنﺅ اور دیگر مسلم اکثریتی اضلاع میں بھی پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کئے ہیں۔
علاوہ ازیں دارالحکومت نئی دہلی، تلنگانہ، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، آندھراپردیش، کرناٹک اور چند دوسری ریاستوں میں بھی بابری مسجدکی شہادت کی 25 ویں برسی کے موقع پر مختلف مسلم اور سیکولر تنظیمیں احتجاج کررہی ہیں اور یوم سیاہ کا انعقاد کررہی ہیں جبکہ شدت پسند ہندو تنظیمیں ا?ج کے دن کو’شوریہ دیوس‘کے طور پر منا رہی ہیں۔
تین گنبدوں والی یہ قدیم مسجد شہنشاہ ”بابر“کے دور میں اودھ کے حاکم ”میرباقی اصفہانی“نے ۹۳۵ھ /۱۵۲۸ءمیں تعمیر کرائی تھی۔مارچ27، 1932ءکو گﺅ کشی کے نام پر ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجد کو نشانہ بناکر پہلی مرتبہ ہنگامہ برپا کیا تھا اور مسجد میں گھس کر ان بلوائیوں نے توڑ پھوڑ کی تھی۔
ابتدائے تعمیر سے بابری مسجد میں نماز پنج گانہ اور جمعہ ہوتا رہا ہے، عدالتی کاغذات سے معلوم ہوتا ہے کہ ماضی قریب یعنی 1858ءسے فرائض انجام دئیے، 1901سے 1930ءکے عرصہ میں یہ خدمت مولوی عبدالقادر کے سپرد رہی، اور 1930ءسے 1939ءمسجد کے قرق ہونے کی تاریخ تک مولوی عبدالغفار کی اقتدائ میں مسلمان اس مسجد میں نماز پنج وقتہ اور جمعہ ادا کرتے تھے۔قرق ہونے کی تاریخ تک مولوی عبدالغفار کی اقتداءمیں مسلمان اس مسجد میں نماز پنج وقتہ اور جمعہ ادا کرتے تھے۔
بابری مسجد کے مصارف کے لئے عہد مغلیہ میں مبلغ ساٹھ روپے سالانہ شاہی خزانے سے ملتے تھے، نوابان اودھ کے دور میں یہ رقم بڑھا کرتین سو دو روپے تین آنہ چھ پائی کردی گئی تھی۔ برطانوی اقتدار میں بھی یہ رقم بحال رہی، پھر بندوبست اول کے وقت نقد کی بجائے دو گاو ¿ں بھورن پور اور شولاپور متصل اجودھیا اس کے مصارف کے لئے دئیے گئے، غرض کہ اپنی ابتداء تعمیر ۹۳۵ھ/ ۱۵۲۸ءسے ۱۳۶۹ھ / ۱۹۴۹ءتک یہ مسجد بغیر کسی نزاع و اختلاف کے مسجد ہی کی حیثیت سے مسلمانوں کی ایک مقدس و محترم عبادت گاہ رہی اور مسلمان امن وسکون کے ساتھاس میں اپنی مذہبی عبادت ادا کرتے تھے۔
مستند تاریخوں سے پتہ چلتا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر سے صدیوں قبل مسلمان اجودھیا میں آباد تھے، اور یہاں کے ہندو مسلم پوری یک جہتی اور یگانگت کے ساتھ رہتے سہتے تھے۔ ۱۸۵۵ئ / ۱۲۷۲ھ سے پہلے کسی مذہبی معاملہ میں یہاں کے باشندوں کے درمیان کوئی تنازعہ رونما ہوا یا باہمی ٹکراو ¿ کی نوبت آئی ہو صحیح تاریخوں اور مذہبی نوشتوں سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔
لیکن جب اس ملک پر انگریزوں نے حکمرانی شروع کی اور ان کا یہاں عمل دخل بڑھا تو انھوں نے اپنی بدنام زمانہ پالیسی ”لڑاو ¿ اورحکومت کرو“کے تحت یہاں کے لوگوں میں باہمی منافرت اور تصادم پیدا کرنے کی غرض سے مسجد، مندر، جنم استھان وغیرہ کا خود ساختہ قضیہ چھیڑ دیا جس کے نتیجہ میں ۱۸۵۵ء/ ۱۲۷۲ھ میں اجودھیا کے اندر زبردست خونریزی ہوئی، جس کی تفصیلات منظرعام پر اس سے قبل لائی جا چکی ہے۔ اسی وقت سے اختلاف کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔
اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ شاطر انگریزوں نے سب سے پہلے ”جنم استھان“اور”سیتا کی رسوئی“کا افسانہ ترتیب دیا اور ایک بدھسٹ نجومی کو پہلے سے سکھا پڑھا کر ان دونوں مقامات کی جگہ معلوم کی، اس نے طے شدہ سازش کے مطابق زائچہ کھینچ کر بتادیا کہ ”جنم استھان“اور ”سیتا کی رسوئی“بابری مسجد سے متصل احاطہ کے اندر ہے، پھر اپنے زیر اثر ہندوو ¿ں کو اکسایا کہ ان دونوں ”پوتر استھانوں“کو حاصل کرو۔
”نقی علی خاں“جو نواب واجد علی کا خسر اور وزیر تھا، انگریزوں کی اس سازش میں ان کا مو?ید اور طرف دار تھا،اس نے اپنے اثر و رسوخ کے ذریعہ ناعاقبت اندیش نواب کو اس بات پر راضی کرلیا کہ بابری مسجد سے باہر مگر اس کے احاطہ کے اندر جنم استھان و سیتا کی رسوئی کے لئے جگہ دیدی جائے، چنانچہ مسجد کے مسقف حصہ کے بالمقابل احاطہ مسجد کی دیوار سے متصل داہنی سمت ”سیتا کی رسوئی“کے لئے اور صحن مسجد سے باہر بائیں پورب کی جانب جنم استھان کے نام سے ۲۱/فٹ لمبی اور ۱۷/ فٹ چوڑی جگہ دیدی گئی، جس پر اسی وقت سے پوجاپاٹ کا سلسلہ بھی شروع کردیاگیا۔
حالانکہ جس وقت یہ افسانہ مرتب کیاگیا اس سے برسہا برس پہلے سے قلب شہر میں جنم استھان کا مندر موجود تھا اور آج بھی موجود ہے۔اس وقت مسجد اور جنم استھان کے درمیان حد فاصل قائم کرنے کی غرض سے صحن مسجد کے ارد گرد آہنی سلاخوں کی باڑھ کھڑی کردی گئی،اسی منحوس تاریخ سے اجودھیا میں مذہبی کش مکش شروع ہوگئی اور یہاں کے ہندومسلم، مندر مسجد کے نام پر آپس میں دست گریباں ہوگئے۔۱۸۵۷ءمیں جب کہ ہندوستان کے مسلمانوں اور ہندوو ¿ں نے متحد ہوکر بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کا بگل بجایا۔
ضلع فیض آباد کے گزیٹر سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت باہمی اتفاق و یگانگت کو مستحکم کرنے کی غرض سے اجودھیا کے مسلم رہنما امیر علی اور ہندو رہنما بابا چرن داس نے رام جنم استھان اور بابری مسجد کے تنازعہ کو ہمیشہ کے واسطے ختم کرنے کی غرض سے ایک معاہدہ کیا کہ رام جنم استھان کی مخصوص متنازعہ اراضی ہندوو ¿ں کے حوالہ کردی جائے اور ہندو بابری مسجد کی عمارت سے دست کش ہوجائیں، چنانچہ اس معاہدہ پر فریقین خوشی خوشی راضی ہوگئے۔
دو سال سے اختلاف کی جو آگ بھڑک رہی تھی وہ ٹھنڈی ہوگئی، مگر انگریزوں کو یہ ہندومسلم اتحاد گوارہ نہ ہوا، انھوں نے بابارام چرن داس اور امیر علی دونوں کو ایک ساتھ املی کے پیڑ پر لٹکاکر پھانسی دیدی اور مندر مسجد کے نزاع کو از سر نو زندہ کرنے کی غرض سے متنازعہ رام جنم استھان اور بابری مسجد کے درمیان ایک دیوار کھینچ دی، دونوں کے راستے بھی الگ الگ بنادئیے اور مسجد کے شمالی دروازہ سے مسجد میں داخلے پر پابندی عائد کردی۔
نیز جذباتی ہندو ¿ں کو اکسایا کہ وہ اس تقسیم کو مسترد کرکے پوری مسجد پر دعویٰ کریں، اسی کے ساتھ مسلمانوں کو بھی برانگیختہ کیا کہ وہ مسجد کی اراضی کے اس بٹوارہ کو تسلیم نہ کریں چنانچہ یہ کشاکش پھر شروع ہوگئی جس کا ایک طویل سلسلہ جاری رہا۔
۱۹۴۸ءمیں جب کہ ملک فرقہ وارانہ تشدّد کی آگ میں جل رہا تھا،اور پورے ہندوستان میں افراتفری مچی ہوئی تھی ۲۲،۲۳/دسمبر ۱۹۴۹ءکی۔درمیانی رات میں ہنومان گڑھی کے مہنت ”ابھے رام داس“نے اپنے کچھ چیلوں کے ساتھ مسجد میں گھس کر عین محراب کے اندر ایک مورتی رکھ دی۔جس کے خلاف اس وقت ڈیوٹی پر مقرر کانسٹبل ”ماتوپرشاد“نے صبح کو تھانہ میں حسب ذیل رپورٹ درج کرائی۔
”ابھے رام داس، سدرشن داس اور پچاس ساٹھ نامعلوم لوگوں نے مسجد کے اندر مورتی استھاپت (نصب) کرکے مسجد کو ناپاک کردیا ہے۔ جس سے نقص امن کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔“اس رپورٹ کو بنیاد بناکر فیض آباد کے سٹی مجسٹریٹ نے دفعہ ۱۴۵ کے تحت مسجد اوراس سے ملحق گنج شہیداں کو قرق کرکے مقفل کردیا۔
پریہ دت رام چیرمین کو اس کی حفاظت کے لئے رسیور مقرر کردیا، نیز فریقین کے نام نوٹس جاری کیا کہ اپنے اپنے دعویٰ پر ثبوت پیش کریں۔سٹی مجسٹریٹ کا یہ غیرمنصفانہ عمل زبان حال سے بتارہا ہے کہ مسجد میں بت رکھنے کی کارروائی گہری سازش کے تحت عمل میں لائی گئی تھی،ورنہ ایک قدیم جمعہ وجماعت سے آباد مسجد کے بارے میں ثبوت طلب کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ کرنا تویہ چاہئے تھا کہ ماتوپرشاد کانسٹبل کی رپورٹ کے مطابق مجرمین کو قرار واقعی سزا دی جاتی اور مسجد سے مورتی نکال کر اس مسئلہ کو ختم کردیا جاتا، مگر حیرت ہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمة الل? عل??، مولانا ابوالکلام آزاد رحمة الل? عل?? اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمة الل? عل?? نے آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کو اس سنگین معاملہ پر توجہ دلائی۔
انھوں نے یوپی کے وزیراعلیٰ گووند بلبھ پنت کو لکھا کہ اس مسئلہ کو فی الفور حل کریں، پھر بھی اس سلسلے میں کوئی مثبت کارروائی نہیں کی گئی،اور مذہبی جانبداری و اقتدار سیکولرزم اور قانون و انصاف پر غالب رہا، گویا ملک کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربانیوں کا اولین صلہ آزاد ہونے کے بعد یہ دیاگیا کہ ان کی قدیم متبرک عبادت گاہ میں مورتیاں رکھ دی گئیں اوراس کے منبر ومحراب جو اب تک رکوع و سجود سے آباد تھے مقفل کردئیے گئے۔
اس سانحہ کے بعد ۱۶/جنوری ۱۹۵۰ءکو گوپال سنگھ نامی ایک شخص نے ظہور احمد، حاجی محمد فائق، حاجی پھیکو، احمد حسن عرف اچھن،محمد سمیع، ڈی، ایم سٹی مجسٹریٹ اور سرکار اترپردیش کو پارٹی بناکر یہ دعویٰ دائر کردیا کہ مسجد جنم استھان ہے، ہم یہاں پوجا پاٹ کرتے ہیں مگر مسلمان او ر ضلع حکام اس میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، لہٰذا اس رکاوٹ کو ختم کرکے ہندو ¿ں کو اس میں پوجا پاٹ کی باضابطہ اجازت دی جائے، اس مقدمہ کے دائر ہونے کے تیسرے دن یعنی ۱۹/جنوری ۱۹۵۰ءکو عدالت نے ایک حکم امتناعی کے ذریعہ ہندومسلمان دونوں کا داخلہ مسجد میں ممنوع قرار دے دیا۔
پھر ۱۳/مارچ ۱۹۵۱ءمیں عدالت نے پجاری کو مسجد کے اندر جاکر پوجا اور بھوگ کرنے کی اجازت دیدی، مگر مسلمان اپنی عبادت گاہ میں خدائے وحدہ لاشریک کا نام لینے سے محروم رہے۔تاریخ شاہد ہے کہ جب ظلم و ناانصافی کو طاقت و حکومت کی پشت پناہی حاصل ہوجاتی ہے تو آئین و قانون اور عدالت سب اس کے آگے سربسجود ہوجاتے ہیں۔
دعویٰمذکورہ کی جواب دہی کرتے ہوئے فیض آباد کے ایس پی کرناسنگھ نے یکم جون ۱۹۵۰ءکو جو جواب دعویٰ عدالت میں داخل کیا اس میں لکھا تھا کہ ”زمانہ قدیم سے بابری مسجد مسجد ہے اس میں مسلمان ہمیشہ سے نماز پڑھتے چلے آرہے ہیں ہندو ¿ں کا اس سے کوئی واسطہ اور سروکار نہیں ہے۔“
ڈپٹی کمشنر فیض آباد نے اسی مقدمہ سے متعلق یکم جولائی ۱۹۵۰ءکو جو حلف نامہ داخل کیا تھا اس میں بھی ”بابری مسجد“کی مسجدیت کا اعتراف و اقرار موجود ہے۔مذکورہ بالا مقدمہ کے علاوہ ۱۹۶۱ءمیں دو مزید مقدمات دائر کئے گئے ایک رام چندر داس کی جانب سے اور دوسرا نرموہی اکھاڑہ کی طرف سے، جس کے جواب میں جمعیة علماءہند اور یوپی سنی سنٹرل وقف بورڈ کی جانب سے بھی مقدمات قائم کئے گئے جن میں کہا گیا تھا کہ یہ بابری مسجد مسلمانوں کی مسجد ہے جس میں وہ ۱۵۲۸ءسے برابر عبادت کرتے آ رہے ہیں لہٰذا یہ مسجد انھیں واپس دے دی جائے اور نماز وغیرہ میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے۔
تقریباً ۳۵/ سال کے طویل عرصہ تک یہ مقدمات عدالت میں زیرالتوارہے، …. ان سے متعلق کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی، اس دوران پولیس اوررسیور کی نگرانی کے باوجود مسجد کے اندر اور باہر خلاف قانون بہت سی تبدیلیاں کردی گئیں، مثلاً مسجد کے صدر دروازہ پر جلی حرفوں میں ”اللہ“کندہ تھا جسے کھرچ دیاگیا، دروازہ پر جنم استھان مندر کا بورڈ لگادیا گیا، احاطہ کی شمالی چہار دیواری اور مسجد کی درمیانی جگہ میں سفید و سیاہ سنگ مرمر کا فرش بنایا گیا جسے پری کرما کا نام دیاگیا۔ صحن مسجد میں شمال جانب ایک ہینڈ پائپ نصب کردیاگیا۔
مسجد سے باہر مشرقی سمت میں ایک سفالہ پوش مندر اور مندر کے پجاری کے لئے ایک کمرہ تعمیر کرلیاگیا۔ جنوب کی طرف نام نہاد جنم استھان کے چبوترہ پر بھی ایک مندر بنالیاگیا اور مسجد کے درمیانی گنبد پر ایک بھگوا جھنڈا لگادیا گیا یہ ساری تبدیلیاں ۱۹۶۷ئ اور ۱۹۸۶ئ کے درمیانی عرصہ میں کی گئیں مگر رسیور، انتظامیہ اور عدالت کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔
واقعہ بھی یہی ہے کہ بغیر مضبوط سیاسی پشت پناہی کے عدالت کو اس طرح سے قانون و انصاف کی دھجیاں اڑانے کی جر?ت نہیں ہوسکتی تھی۔
مسلمان ابتدائ ہی سے یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ ہمیں عدالت اور اس کے نظام قانون پر یقین واعتماد ہے، ملک کے ہر شہری کو ملک کی عدالت اوراس کے نظام قانون وانصاف پر اعتماد رکھنا ہی چاہئے، لیکن سنگھ پریوار ہمیشہ سے یہی کہتا رہا کہ یہ عقیدہ اور آستھا کا معاملہ ہے عدالت اس کے بارے میں فیصلہ کی مجاز نہیں ہے، لہٰذا عدالت جو چاہے فیصلہ کرے جنم استھان مندر ہم جہاں چاہتے ہیں وہیں بنے گا۔
بابری مسجد تاریخی حقائق کے تناظر میں
سن 1528 : ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر نے یہ مسجد تعمیر کروائی تھی ، جس کی وجہ سے اس کو بابری مسجد کے نام سے جانا جاتاہے۔
سن 1853 :ہندوو?ں کا الزام کہ بھگوان رام کے مندر کو توڑ کر مسجد کی تعمیر ہوئی اور اس سلسلے میں ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان پہلی
مرتبہ تنازع ہوا۔
سن 1859: برطانوی حکومت نے تاروں کی ایک باڑھ کھڑی کرکے اندرونی اور بیرونی احاطہ میں مسلمانوں اور ہندووں کو الگ الگ عبادت کیاجازت دی۔
سن 1885: پہلی بار معاملہ عدالت میں پہنچا۔ مہنت رگھوبر داس نے فیض ا?باد عدالت میں بابری مسجد سے متصل ایک رام مندر کی تعمیر کی اجازت کیلئے عرضی دائر کی۔
سن 1949 ، 23 دسمبر : تقریبا 50 ہندوو?ں نے مسجد کے مرکزی مقام پر بھگوان رام کی مورتی رکھ دی۔ اس کے بعد اس مقام پر ہندو وں نے پوجا ارچنا شروع کردی ، جبکہ مسلمانوں نے نماز پڑھنی بند کر دی۔
سن 1950 ، 16 جنوری : گوپال سنگھ وشارد نے فیض ا?باد عدالت میں ایک اپیل دائر کر کے رام للا کی پوجا کی خصوصی اجازت مانگی۔انہوں نے وہاں سے مورتی ہٹانے پر عدالتی روک کی بھی کوشش کی۔
سن 1950 ، 5 دسمبر: مہنت پرم ہنس رام چندر داس نے پوجا جاری رکھنے اور بابری مسجد میں رام مورتی رکھنے کے لئے عرضی داخل کی۔ مسجد کو ‘ڈھانچہ کا نام دیا گیا۔
سن 1959 ، 17 دسمبر: نرموہی اکھاڑا نے بابری مسجد کی منتقلی کا مقدمہ دائر کیا۔
سن 1962 ، 18 دسمبر: اتر پردیش سنی وقف بورڈ نے بابری مسجد کی ملکیت کا مقدمہ دائر کیا۔
سن 1984: وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے بابری مسجد کا تالا کھولنے اور مندر کی تعمیر کے لئے مہم شروع کی۔ ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
یکم فروری، 1986: فیض آباد ضلع جج نے ہندووں کو پوجا کی اجازت دی۔ تالا دوبارہ کھولا گیا۔ مسلمانوں نے بابری مسجد ایکشن کمیٹی کی تشکیل کی۔
جون 1989: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے وی ایچ پی کی باضابطہ حمایت کرنی شروع کردی۔
یکم جولائی 1989: بھگوان رام للا براجمان نام سے پانچواں مقدمہ دائر کیا گیا۔
نومبر9، 1989: اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے بابری مسجد کے نزدیک سنگ بنیاد کی اجازت دی۔
ستمبر 1990: بی جے پی صدر لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ سے اتر پردیش کے ایودھیا تک رتھ یاترا نکالی، جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔
نومبر 1990: اڈوانی کو بہار کے سمستی پور میں گرفتار کر لیا گیا۔ بی جے پی نے اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ کی حکومت سے حمایت واپس لے لی۔
وی پی سنگھ نے بائیں بازو کی جماعتوں اور بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنائی تھی، بعد میں انہوں نے استعفی دے دیا۔
اکتوبر 1991: اترپردیش میں کلیان سنگھ حکومت نے بابری مسجد کے اردگرد کی 2.77 ایکڑ زمین کو اپنے قبضے میں لے لیا۔
بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینیئر رہنما لال کرشن اڈوانی نے گجرات کے سومناتھ مندر سے رام مندر کے لیے رتھ یاترا نکال کر سیاسی طوفان کھڑا کر دیا۔
سن 1991 میں کانگریس ایک بار پھر دہلی میں بر سر اقتدار آئی اور پی وی نرسمہا راو ¿ وزیر اعظم بنے لیکن رام مندر کی تحریک کے طفیل ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں پہلی بار کلیان سنگھ کی قیادت میں بی جے پی کی حکومت بنی۔
کلیان سنگھ حکومت نے متنازع کیمپس کے قریب مجوزہ رام پارک کی تعمیر کے لیے وی ایچ پی کو 42 ایکڑ زمین دے دی تھی۔ملک بھر سے آنے والے کارسیوکوں کے قیام کے لیے متازع احاطے سے ملحق شامیانے اور ٹینٹ لگائے گئے تھے۔ انھیں لگانے کے لیے کدال، بیلچے اور رسیاں بھی لائی گئیں جو بعد میں مسجد کے گنبد پر چڑھنے اور اسے توڑنے کے کام میں آئیں۔
مجموعی طور پر متنازع مقام کے آس پاس کے علاقے پر کار سیوکوں کا ہی قبضہ تھا۔ ان لوگوں نے چار پانچ دن قبل ہی بعض قریبی مزاروں کو نقصان پہنچا کر اور مسلمانوں کے مکانوں کو آگ لگا کر اپنی جارحیت کا اظہار کر دیا تھا۔
اس کے باوجود سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مبصر ضلعی جج پریم شنکر گپتا کہہ رہے تھے کہ علامتی کار سیوا پر امن طور پر کرانے کے لیے سارے انتظام اچھی طرح سے کیے گئے ہیں۔
6 دسمبر 1992: ہزاروں کی تعداد میں کار سیوکوں نے ایودھیا پہنچ کر بابری مسجد مسمار کردی ، جس کے بعد بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات ہوئے۔ وزیر اعظم پی وی نرسمہا راو? نے مسجد کی تعمیر نو کا وعدہ کیا۔
سولہ دسمبر 1992: مسجد کے انہدام کی جانچ کے لئے ایم ایس لبراہن کمیشن کی تشکیل عمل میں ا?ئی۔
جنوری 2002: وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی نے اپنے دفتر میں ایک ایودھیا محکمہ شروع کیا ، جس کا کام تنازع کو حل کرنے کے لئے ہندوو?ں اور مسلمانوں سے گفت و شنید کرنا تھا۔
اپریل 2002: ایودھیا کے متنازع مقام پر مالکانہ حق کو لے کر ہائی کورٹ کے تین ججوں کی بنچ نے سماعت شروع کی۔
مارچ اگست 2003: الہ ا?باد ہائی کورٹ کی ہدایت پرمحکمہ ا?ثار قدیمہ نے ایودھیا میں کھدائی شروع کی۔
ستمبر 2003: عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مسجد کو منہدم کرنے کیلئے اکسانے والے سات ہندو لیڈروں کو سماعت کے لئے طلب کیاجائے۔
اکتوبر 2004: اڈوانی نے ایودھیا میں مندر کی تعمیر کےبی جے پی کے عزم کا اعادہ کیا۔
جولائی 2009: لبراہن کمیشن نے قیام کے 17 سال بعد وزیر اعظم منموہن سنگھ کو اپنی رپورٹ سونپی۔
اٹھائیس ستمبر 2010: سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کو متنازع معاملہ میں فیصلہ دینے سے روکنے والی عرضی خارج کرتے ہوئے فیصلہ سنانے کی راہ ہموار کردی۔
ستمبر 2010: الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ نے تاریخی فیصلہ سنایا، جس میں زمین کا بندر بانٹ کردیا گیا۔
دسمبر2017 : فی الحال یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور کل سے اس کی یومیہ بنیاد پر سماعت شروع ہوگئی ہے۔
Comments are closed.