وادی میں خشک موسم کے چلتے برقی رئو کا بحران , 18سو کے بر عکس محض 12سو میگاواٹ بجلی دستیاب
سری نگر؍٥، دسمبر ؍ /
وادی میں خشک موسم کے چلتے ہی برقی رئو کا بحران پیدا ہوا ہے،جبکہ بجلی کی پیداوار اور طلب کا فرق50 6سو میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے۔اس دوران محکمہ کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب 18سو میگاواٹ سے زیادہ ہے جبکہ صرف 1200میگا واٹ بجلی دستیاب ہورہی ہے۔ماہرین نے ریاست میں بجلی کی قلت کیلئے این ایچ پی سی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی طرف سے بجلی پروجیکٹوں پر قاؓض رہنے کی وجہ سے وادی میں بجلی بحران ہے۔اطلاعات کے مطابق موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی وادی میں پانی کی سطح کم ہونے کے سبب بجلی کی پیداوار میں کمی آئی ہے جبکہ وادی میں قائم کئی ایک بجلی پروجیکٹ پانی نہ ہونے کے سبب ایک میگاواٹ بجلی بھی فراہم نہیں کر رہے ہیں۔محکمہ بجلی کے ایک افسر نے بتایاکہ وادی کو اس وقت 18سو میگاواٹ بجلی کی ضرورت ہے اور محکمہ اشد ضرورت کے موقعہ پر صرف 11سو سے12سو میگاواٹ ہی بجلی فراہم کر پاتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اس وقت صرف3سے 4 گھنٹوں کیلئے اشد ضرورت کے موقعہ پر صارفین کو 245لاکھ یونٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے ۔محکمہ بجلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی میں قائم6بجلی پروجیکٹ اس وقت صرف 76میگا واٹ بجلی پیدا کررہے ہیں۔پانی کم ہوجانے کی وجہ سے لور جہلم بجلی پروجیکٹ جہاں گرمیوں میں 105میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے وہیں آج 35میگاواٹ بجلی فراہم کر پاتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ اپر سندھ یکم، جس کی صلاحیت 22.6میگاواٹ ہے ، اس وقت 5میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔ا پر سندھ دوئم،کنگن 105میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔لیکن آجکل اشد ضرورت کے وقت یعنی 6سے 10بجے رات تک یہ صرف 35میگاواٹ بجلی ایک ٹربائن کے ذریعے ہی فراہم کر پاتا ہے۔اسی طرح پہلگام کا 3میگاواٹ اور کرناہ کا 2میگاواٹ کے بجلی پروجیکٹ آدھا ،آدھا میگاواٹ ہی فراہم کر رہے ہیں اور کبھی یہ بیکار بھی ہو جاتے ہیں۔محکمہ کے ایک اعلیٰ افسرنے بجلی پروجیکٹوں سے پیداوار میں کمی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وادی کے پروجیکٹوں سے کم مقدار میں بجلی پیدا ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم وادی کو 12سو میگاواٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں جبکہ وادی کی ضرورت 18سو میگاواٹ ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وادی کے پروجیکٹوں سے ہر دن شام کے وقت صرف 70سے 80میگاواٹ بجلی فراہم ہو رہی ہے جبکہ ان ہی پروجیکٹوں سے گرمیوں میں اڑھائی سو میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی تھی۔ لداخ میں 9چھوٹے بجلی پروجیکٹ چل رہے ہیں جہاں پانی کی سطح میں کمی کے سبب یہ پروجیکٹ کم مقدار میں بجلی فراہم کر رہے ہیں۔دریائے چناب پر چلنے والا 22.30میگاواٹ کی صلاحیت رکھنے والا چنینی صرف 10میگاواٹ بجلی پیدا کررہاہے۔چنینی دوم، 2میگاواٹ بجلی پروجیکٹ صرف ایک میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ وادی میں 480میگا واٹ صلاحیت والا اوڑی فسٹ پروجیکٹ بھی ہے، جو ، این ایچ پی سی کے زیر قبضہ ہے ،اس وقت صرف 150 میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔پانی کی قلت کے سبب اوڑی دوئم، جس کی پیدا واری صلاحیت 240میگاواٹ ہے، صرف 30سے 35میگاواٹ بجلی پیدا کر رہا ہے، لیکن یہ دونوں پروجیکٹ این ایچ پی سی کے پاس ہیں لہٰذا پوری ریاست کیلئے ان پروجیکٹوں سے صرف رائلٹی کی 12فیصد بجلی مہیا کی جاتی ہے۔ ادھر صارفین کا کہنا ہے کہ وادی میں پانی کے قدرتی ذخائر موجود ہونے کے باوجود ان سے ریاست کو استفادہ دلانے کی کوشش کبھی نہیں کی گئی البتہ اس کا فائدہ ’’این ایچ پی سی ‘‘کو دلانے کیلئے نہ صرف دفعہ 370کی دھجیاں اڑائیں گئیں بلکہ دیگر قوانین کی بھی مٹی پلید کی گئی۔اس بات کا پہلے ہی انکشاف ہوچکا ہے کہ این ایچ پی سی اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بجلی پروجیکٹوں کی تعمیر کے سلسلے میں کوئی بھی تحریری معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ صرف زبانی طور پر معاہدے طے پائے گئے اور ریاست کے پانی کو کھوٹے سکوں کے عوض فروخت کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ’’این ایچ پی سی‘‘مرکزی وزارت بجلی اور ریاستی سرکار کے پاس اس قسم کی کوئی بھی دستاویز موجود نہیں ہے جو قانونی اور آئینی طور پریہ ثابت کرے کہ بجلی پروجیکٹ قانونی طور پر این ایچ پی سی کو تعمیر کرنے کیلئے دئے گئے ہیں۔ان ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ریاستی عدلیہ اور حق اطلاعات قانون کے ذریعے بھی این ایچ پی سی اور مرکزی وزارت بجلی اور ریاستی سرکار سے دستاویزات مانگے گئے تاہم دستاویزات این ایچ پی سی کے پاس ہیں نہ ہی مرکزی وزارت بجلی کے پاس موجود ہیں، ریاستی سرکار کے پاس بھی کوئی ایسا ثبوت نہیں جو یہ بتا دے کہ ریاست کے پاور پروجیکٹ این ایچ پی سی کو آئینی اور قانونی طور پر دئے گئے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق دفعہ 370، جسکی بدولت ریاست کو بھارت کی آئین میں خصوصی پوزیشن حاصل ہے،کی رو سے بیرون ریاست کا وہی شخص ریاست کی زمین حاصل کر کے اْس پر پروجیکٹ تعمیر کر سکتا ہے جسے کسی قانون کے تحت یہ زمین منتقل کی گئی ہو۔ جموں وکشمیر سٹیٹ الیکٹر سٹی ایکٹ کی رو سے بھی این ایچ پی سی کے پروجیکٹ غیر قانونی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں۔اس قانون کے تحت کسی بھی بجلی پروجیکٹ پر کام شروع کرنے سے قبل ریاستی سرکار سے لائسنس لینا ضروری ہوتا ہے اور اْس کیلئے کمپنی کو ریاستی سرکار کو فیس بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔
Comments are closed.