پونچھ: فوجی اہلکارحادثاتی فائرنگ میں زخمی
پونچھ مینڈھر پونچھ میں حد متارکہ پر تعینات ایک فوجی اہلکارحادثاتی طور اپنی ہی بندوق سے نکلنے والی گولی کا شکار ہوکر بری طرح سے زخمی ہوا۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ پیر کی شب فوج کا ایک اہلکار اُس وقت زخمی ہوگیا جب اسکی بندوق سے اچانک اور غیر متوقع طور گولی چلی۔یہ واقعہ مینڈھر پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے منکوٹ سیکٹر میں پیش آیا۔ذرائع کے مطابق فوج کی20کماﺅں سے وابستہ کرشنا کمار نامی اہلکار کی سروس رائفل سے اچانک گولی نکل گئی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا۔اسے فوری طور پرراجوری کے فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت اب مستحکم بتائی جاتی ہے۔فوج کے ایک ترجمان نے واقعہ کی تصدیق کی ہے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرکے چھان بین شروع کردی گئی ہے جبکہ فوج اپنی سطح پر واقعہ کی تحقیقات کرے گی ۔ادھرپونچھ میںلائن آف کنٹرول کے کئی سیکٹراُس وقت دھماکوں کی گھن گرج سے لرز اٹھے جب گھنے جنگلات میںبھیانک آگ بھڑکنے سے زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگیں یکے بعد دیگرے خوفناک دھماکوں کے ساتھ پھٹ گئیں، تاہم کسی قسم کے جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ روزپونچھ میں حد متارکہ کے نزدیک جنگلات میں نمودار ہوئے آگ کے شعلوں نے وسیع جنگلات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ان علاقوں میںمینڈھر بیلٹ کے سابرا گلی،لنجوٹ اور کئی دیگر علاقے شامل ہیں۔پونچھ میں بالاکوٹ اور بلنوئی سیکٹر کے کئی جنگلات بھی بھیانک آگ کی لپیٹ میں ہیں۔آگ کے دوران کنٹرول لائن کے کئی نزدیکی علاقے اُس وقت دہل اٹھے جب وہاں زیر زمین نصب بارودی سرنگوں کے پھٹنے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ذرائع کے مطابق آگ اس قدر بھیانک تھی کہ جنگلات کا ایک وسیع علاقہ اس کی لپیٹ میں آگیاجس کے نتیجے میں چھوٹے بڑے درختوں کے ساتھ ساتھ جھاڑیوں کی ایک بڑی تعداد بھی خاکسترہوگئی۔پولیس کے ایک آفیسر نے آگ کے نتیجے میںکئی بارودی سرنگیں پھٹنے کی تصدیق کی۔ ان واقعات میں اگر چہ کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے ،البتہ حد متارکہ کی کئی نزدیکی بستیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں میں سہم کر رہ گئے ۔فوج، پولیس، محکمہ جنگلات اور فائر سروس کے اہلکار آگ پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ قابل ذکر ہے کہ کنٹرول لائن پر دراندازی مخالف اقدام کے بطور فوج کی طرف سے زیر زمین بارودی سرنگیں بچھائی جاتی ہیں جو بعض اوقات حادثوں کا سبب بھی بن جاتی ہیں اور ان کی زد میں فوجیوں کے ساتھ ساتھ عام شہری بھی آجاتے ہیں۔
Comments are closed.