مسلسل خشک سالی :آب ِشرب نایاب
سرینگر /مسلسل خشک سالی کی وجہ سے اہل وادی کو پینے کے پانی کے حوالے سے سخت مشکلات کا سامنا ہے جس کا اندزاہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کپوارہ سے18کلو میٹر دور گزریال کرالہ پورہ میں پینے کے پانی کی شدید قلت پائی جارہی ہے اور لوگ پانی کی بوند بوند کےلئے ترس رہے ہیں ۔ گزریال کپوارہ کے گنائی محلہ ، بٹ محلہ ،حجام محلہ ،تیری پورہ ،ڈون واری اور شاہ محلہ کے لوگو ں نے بتا یا کہ یہا ں پینے کے پانی کےلئے کوئی بھی وسائل موجود نہیں ہیں ۔ان لوگو ں کا کہنا ہے کہ موسم بہار کے چند ایک مہینو ں میں جنگلو ں سے جو برف پگھل جاتی ہے ، وہ اس پانی کو ندی نالو ں سے حاصل کر کے استعمال کرتے ہیں ،تاہم موسم گرما شروع ہوتے ہیں یہ ندی نالے سوکھ جاتے ہیں اور آ بادی کو پینے کے پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترسنا پڑ تا ہے ۔ایک مقامی شہری بشیر احمد لون نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتا یا کہ کئی سال قبل سرکار نے لوگو ں کو پینے کا پانی فراہم کرنے کے لئے ایک بور ویل بنایا اور بعد میں ایک سروے کر کے سرکار کو یہ رپورٹ دی گئی کہ ایک وقت میں اس بور یل کے پانی سے 10ہزار سے زائد آ بادی استفادہ حاصل کر سکتی ہے جس کے بعد فوری طور سرکار نے گزریال کے وسط میں پرانی مسجد نامی مقام پر پانی جمع کر نے کے لئے ایک حوض تعمیر کیا جس میں اڑھائی لاکھ لیٹر پانی جمع ہوسکتاہے ۔مقامی لوگو ں نے مزید بتایا کہ رقو مات کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس بور ویل کاکام رک گیا لیکن وزیر اعلیٰ کے حالیہ کپوارہ دورے کے دوران گزریال کا ایک وفد ان سے ملاقی ہوا اور انہیں پینے کے پانی سے متعلق جانکاری فراہم کی ۔وزیر اعلیٰ نے اولین ترجیح دیکر گزریال بور ویل کے لئے 30لاکھ روپیہ واگزار کر کے انتظامیہ کو دو مہینے کا وقت دیا ۔مقامی لوگو ں نے اپنی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بتا یا کہ ضلع انتظامیہ اور محکمہ آ ب رسانی نے آ ج تک اس بور ویل پر کام شروع نہیں کیا جس کی وجہ سے آئے روز لوگو ں کو پینے کے پانی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے ۔لوگوں نے الزام لگایا کہ انہو ں نے لوگو ں کو پینے کا پانی فراہم کر نے کے لئے سرینگر سے کپوارہ تک محکمہ آ ب رسانی اور ضلع انتظامیہ کے دفاتر کے چکر کا ٹے لیکن وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے احکامات کو بالائے طاق رکھ کر اس مسئلہ کو طول دینے کی کوشش کی گئی ۔لوگو ں کا کہنا ہے کہ سوئم پورہ کے 30چولہو ں نے اس بور ویل کے پانی کو حوض میں جمع کرنے کے لئے رکاوٹ ڈال کر500چولہو ں پر مشتمل آ بادی کو پینے کے پانی سے محروم کر دیا ہے لیکن ضلع انتظامیہ اس بور ویل کے ذریعے لوگو ں کو پینے کا پانی فراہم کر نے میں ناکام ہو چکی ہے ۔اس سلسلے میں چیف انجینئر محکمہ آ ب رسانی کشمیر کے دفتر سے حال ہی میں ایک حکمنامہ جاری کیا گیا جس میں سپرانٹنڈنگ انجینئر کپوارہ ہندوارہ کو واضع کیا گیا کہ وہ فوری طور گزریال میں پینے کے پانی کے حوالہ سے ایک رپورٹ پیش کریں لیکن ایک ہفتہ گزر جانے کے با وجود بھی محکمہ لوگو ں کی مشکلات کا حل نکالنے میں نام ہو چکا ہے۔مقامی لوگو ں نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے فوری طور مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس بور ویل پر کام شروع کیا جائے۔
Comments are closed.