بابری مسجد معاملہ : آج سے یومیہ بنیاد پر سماعت شروع

نئی دہلی  سپریم کورٹ آج سے ایودھیا میں متنازعہ بابری مسجد۔رام جنم بھومی معاملے کی یومیہ بنیادپر سماعت کرے گا۔
تین ججوں پر متشمل بنچ اس مقدمے کی سماعت کرے گی جس میں چیف جسٹس دیپک مشرا بھی شامل ہیں۔ یہ بنچ 13 اپیلوں پر ایک ساتھ سماعت کرے گی نیز الہ آباد ہائی کورٹ کے 2010 کے فیصلوں کا جائزہ بھی لے گی۔
یہ بنچ 2.77 ایکڑ متنازع زمین جسے الہ آباد ہائی کورٹ نے تین حصوں (سنی وقف بورڈ ، نرموہی اکھاڑہ اور رام للا) میں تقسیم کردیا تھا پر بھی فیصلہ کرے گی۔
واضح رہے کہ آج سے 25سال قبل 6 دسمبر 1992 کو کارسیوکوں نے بابری کو منہدم کر دیا تھا۔ سخت گیر ہندو تنظیم اور بابری مسجد کی مسماری میں کلیدی کردار ادا کرنے والا وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) متنازعہ مقام پر اگلے برس اکتوبر میں رام مندر کی تعمیر شروع کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔
مرکز اور اتر پردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومتوں نے اس مسئلے پر خاموشی اختیار کر رکھا ہے اور اس معاملے پر انہیں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔
اس سے قبل 30 دسمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں فیصلہ سنایا تھا جس کے مطابق متنازع علاقے کی دو تہائی زمین ہندوں اور ایک تہائی مسلمانوں کو دینے کی بات کہی گئی تھی۔
تاہم اس فیصلے سے دونوں فریق متفق نہیں تھے جس کے بعد دونوں فریق نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ ہائی کورٹ میں یہ معاملہ آٹھ سال چلا تھا جس کی شروعات 2002 میں ہوئی تھی۔

Comments are closed.