عرضی پر عرضی۔ عرضی پر عرضی۔۔۔ اب برداشت نہیں : چیف جسٹس
سپریم کورٹ میں آج اس وقت عجیب و غریب حالات پیداہوگئے جب چیف جسٹس دیپک مشرا نے معروف این جی او سوراج انڈیا ٹرسٹ کے صدر راجیو دھیا کو کورٹ سے باہر نکالنے کا حکم دیا۔چیف جسٹس کا حکم سنتے ہی کورٹ میں تعینات سیکورٹی نے مسٹر دھیا کو کورٹ سے باہر نکال دیا۔
دراصل غیر اہم معاملوں کو داخل کرنے اور کورٹ کا وقت ضائع کرنے کے الزام میں سپریم کورٹ نے راجیو دھیا پر25لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ دھیا نے سپریم کورٹ سے اس فیصلے کو واپس لینے کی عرضی داخل کی تھی۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنے فیصلے کوواپس نہیں لیں گے، یہ سنتے ہی دھیا کہنے لگے کہ ہمارے معاملے پر مناسب سماعت نہیں کی گئی یعنی ان کے معاملے پر صحیح طریقے سے غور نہیں کیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا ریکارڈ کافی خراب رہا ہے اور آپ 64 مرتبہ ایسی عرضیاں داخل کرچکے ہیں۔ ان غیر ضروری عرضیوں سے عدالت کا وقت ضائع ہوتا ہے۔
ہم اپنے فیصلے کو واپس نہیں لیں گے۔ دھیا پھر سے واپس لینے کی گزارش کرنے لگے جس پر چیف جسٹس ناراض ہوگئے اوران سے واضح لفظوں میں کہا کہ ہمارا وقت برباد نہ کریں۔
واضح رہے کہ گزشیہ یکم مئی کو سپریم کورٹ نے سوراج انڈیاٹرسٹ اور اس کے صدر راجیو دھیا پر مفاد عامہ سے متعلق غیرضروری عرضیاں داخل کرنے کے الزام 25کے تحت لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا تھا۔
سوراج انڈیا ٹرسٹ نے گزشتہ دس سال میں 64 عرضیاں داخل کی تھیں جس میں سے زیادہ تر معاملے خارج کردئے گئے تھے۔
آج سے پہلے بھی سابق چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے 21اگست کو راجیو دھیا کی سخت سرزنش کی تھی اور مارشل بلاکر انہیں حراست میں لینے کا حکم دیا تھا لیکن شکر تھا کہ انہوں نے اپنا فیصلہ فورا واپس بھی لے لیا۔
اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی صدارت والی بنچ نے این جی او اور اس کے صدر راجیو دھیا پر عرضی داخل کرنے پر ہمیشہ کے لئے روک لگادی تھی۔
Comments are closed.