مرحوم شیخ محمد عبداللہکے 112ویں یوم پیدائش پر نسیم باغ میں تقریب
مرحوم شےخ محمد عبداللہ کے 112وےں ےوم پےداےش پرتقرےب
ڈاکٹر فاروق عبداللہ ،عمر عبداللہ اور دےگر زعماءنے گلباری اور فاتحہ خوانی ادا کی
سرےنگر// مرحوم شےخ محمد عبداللہ کے 112وےں ےوم پےداےش پر اُن کے مقبرہ واقعہ نسےم باغ حضرت بل مےں کارکنان نےشنل کانفرنس ، مختلف سےاسی ، سماجی اور دےنی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ صبح صادق سے ہی مرحوم کے مرقد پر گُلباری اور فاتحہ خوانی ادا کی گئی ، جبکہ صبح 9بجے سے قرآن خوانی کی مجلس آراستہ ہوئی جس مےں مختلف اےمہ مسجد، نعت خوان اور علمائے کرام نے شرکت کی۔
پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور کارگذار صدر عمر عبداللہ نے صبح ساڑھے 11بجے ہی مزار قائد پر آکر فاتحہ خوانی اور گلباری انجام دی۔ اس کے بعد مرحوم کے مرقد پر اجتماعی فاتحہ خوانی ادا کی گئی، جس میں پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال اور صوبائی صدر ناصر اسلم وانی ، سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، چودھری محمد رمضان، شریف الدین شارق، محمد اکبر لون، نذیر احمد خان گریزی، میر سیف اللہ، قیصر جمشید لون، پیر آفاق احمد، شیخ اشفاق جبار، عرفان احمد شاہ، سکینہ ایتو، شمیمہ فردوس، الطاف احمد کلو، عبدالمجید لارم، علی محمد ڈار، محمد سعید آخون، ڈاکٹر بشیر احمد ویری، جاوید احمد ڈار، ایڈوکیٹ شوکت احمد میر، غلام نبی بٹ، حاجی غلام رسول صوفی، میر غلام رسول ناز، ڈاکٹر محمد شفیع، شیخ محمد رفیع، تنویر صادق، ترجمان جنید عظیم متو، سلمان علی ساگر، عمران نبی ڈار، شبیر احمد میر، غلام محی الدین میر، ایڈوکیٹ نذیر احمد ملک، ڈاکٹر سجاد اوڑی، سمیر اقبال بٹ، کے علاوہ تمام سرکردہ لیڈران، عہدیداران، ضلع اور بلاک صدور نے فاتحہ خوانی اور گُلباری مےں شرکت کی جبکہ ےوتھ اور خواتےن ونگ کے لےڈران بھی موجود تھے۔
اِس سے قبل مرحوم کے تارےخ ساز سےاسی، سماجی خدمات پر روشنی ڈالی گئی۔ جبکہ صبح سوےرے سے ہی رےاست کی مختلف مساجد، زےارتگاہوں ، خانقاہوں مےں مرحوم رہنما کے حق مےں کلمات ، دعائے مغفرت اور قرآن خوانی ادا کی گئی۔ شےر کشمےر بھون جموں، لےہہ ، کرگل اور رےاست کے دےگر صدر اور تحصےل مقامات پر مرحوم بابائے قوم جناب شےر کشمےر شےخ محمد عبداللہ کو خراج عقےدت پےش کےا گےا۔
مرحوم شےخ محمد عبداللہ کے112وےں ےوم پیدائش پر مرحوم کو خراج عقےدت ادا کرنے کی غرض سے مزار قاےد نسےم باغ میں ایک تقریب کا انعقاد ہوا۔ تقریب سے پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے خطاب کرتے ہوئے موجودہ دور ریاست کی تاریخ کا سیاہ ترین دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن پر ہر سمت سے حملے جاری ہیں جبکہ اندرونی سطح پر حکومت اور انتظامیہ مکمل طور پر مفلوج ہوچکی ہے۔
ان کا کہناتھا لوگوں زبردست مسائل و مشکلات سے دوچار ہیں اور حکمرانوں نے عام آدمی کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ایسے حالات میں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم لوگوں کی آواز بن کر اُن کے مسائل و مشکلات اور اُن کے مطالبوں کو اجاگر کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہمےں شےر کشمےر کے اُن خوابوں خصوصاً نےا کشمےر کے اُن پروگراموں کو مکمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے جو مرحوم نے اِس رےاست کے لوگوں کی تقدےر بدلنے کے سلسلے مےں دےکھے تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ نےشنل کانفرنس اےک سےسہ پلائی ہوئی دےوار ہے اور اِس کو ابتدا سے ہی برابر آج تک زک پہنچانے کی مزموم کوششےں ہوتی رہی لےکن کشمےری عوام نے اِس جماعت کے دشمنوں کی چالوں اور سازشوں کو خاک مےں ملادےا۔
انہوں نے کہا کہ اِس مےں کوئی شک نہےں کہ اِس جماعت کے اےماندار، مخلص اور غرےب کارکنوں نے وقت وقت پر مصائب ، مشکلات ، غربت اور افلاس کی زندگی بسر کی مگر ہل والے جھنڈے کو اُونچھا رکھنے اور شےر کشمےر کے اصولوں اور ارشادات پر عمل کرکے اِس پارٹی کا وجود قائم دائم رکھا۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم شےخ محمد عبداللہ نے عوام راج باگ ڈور سنبھالتے ہی سب سے پہلے تعلیم کی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کروائی ،جب یہاں کی خاص کر مسلمانوں کی خواندگی 7فیصدی تھی ، اورریاست میں مفت تعلیم کو عام کیا، جس کی بدولت ہی عام اور غریب عوام بھی تعلیم کے نور سے فیضیاب ہوئے۔ اسی طرح مرحوم شےخ محمد عبداللہنے 80فیصد لوگوں کو زمین پر مالکانہ حقوق فراہم کئے، انہوں نے کہا کہ بولنے اور سننے میں یہ چھوٹی بات لگتی ہے لیکن اس اقدام سے یہاں کے 80فیصدی لوگ خودکفیل ہوگئے ، جن کو اس سے قبل ان زمینوں کی فصلوں کے تھوڑے سے حصے سے گزارا کرنا پڑتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اگر شیخ محمد عبداللہ نے اس وقت یہ انقلابی اور تاریخی اقدام نہ کیا ہوتا تو آج بھی ہماری حالت ویسی ہی ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اصلاحات اور لینڈ ٹو ٹیلر کی بنیاد بھی اسی مردِ مجاہد کی دین ہے حالانکہ ابھی بھی دنیا کے اکثر ممالک میں ایسا نہیں ہوا ہے۔
پارٹی کے سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر نے مرحوم شیخ محمد عبداللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے زندگی کا لمحہ لمحہ کشمیری قوم کی عزت و آبرو، عزت نفس، خود اعتمادی اور خدا اعتماد کیلئے جدوجہد کی اور اس دوران زندگی کے سنہری ایام جیل خانوں میں گزارے۔مرحوم شےخ محمد عبداللہ نے عمر بھر ہندوستان اور پاکستان کی دوستی کے لئے پل کا کام کیا اور آخری لمحہ تک اس دوستی کو پائیدار بنانے میں دام بخشتا گیا۔ مشکلات اور مصائب خود جھیلے لیکن عوام کو مشکلات میں نہ ڈالا۔
انہوں نے کہا کہ شیر کشمیر کی ان تھک کوششوں سے ہی دفعہ370اور دفعہ35اے جیسی دفعات کا آئین ہند میں اندراج ہوا اور ریاست اور اہل ریاست کو خصوصی مراعات اور خصوصی پوزیشن حاصل ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ان دفعات کیخلاف اس وقت سازشیں رچائی جارہی ہیں اور وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست کے لوگ ایک ہوکر ان سازشوں کا مقابلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ریاست کی خودمختاری ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔
اس موقعے پر پارٹی کے سینئر لیڈران مبارک گل، سکینہ ایتو، ڈاکٹر محمد شفیع، غلام حسن راہی، جگدیش سنگھ آزاد نے خطاب کرتے ہوئے شیخ محمد عبداللہ کی تارےخ ساز اور ناقابل فراموش تحرےک حرےت کشمےر کے سلسلے مےں مرحوم کی عظےم قربانےوں پر روشنی ڈالی گئی اور کہا کہ اِن کی کوششوں کی بدولت طوےل جدوجہد اور بے پناہ مشکلات کی بدولت اہل کشمےر کو شخصی راج سے نجات ملا، 80 فےصدی دےہی آبادی کو زمےن پر مالکانہ حقوق حاصل ہوئے، مفت تعلےم حاصل ہوئی، سود خواری ، چکداری، بے گاری اور کشمےرےوں کو نجات ملی اور مرحوم کی عظےم قربانےاں تا قےامت اہل کشمےر کے دلوں مےں ےاد رہی گی۔
ادھر مدینہ منورہ کے ایک ہوٹل میں بھی ایک تقریب کا انعقاد ہوئی جس میں مرحوم شیخ محمد عبداللہ کے ایثال ثواب کیلئے قرآن خوانی، کلمات اور دعائے مغفرت ادا کیا گیا اور اس موقعے پر پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمان شریف الدین شارق نے مرحوم لیڈران کے تاریخ ساز کارناموں، انقلابی اور تاریخی فیصلے پر روشنی ڈالی اور مرحوم کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔
Comments are closed.