مزید2جنگجو نوجوانوں نے تشدد کا راستہ ترک کیا:ایس پی وید
ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مزید2جنگجو نوجوانوں نے تشدد کا راستہ ترک کرکے گھر واپسی کی ۔سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ایس پی وید نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا۔
انہوں نے کہا کہ کم ازکم دو مزید جنگجو نوجوانوں نے ہتھیار چھوڑ کر تشدد کے راستے کو خیر باد کیا ۔انہوں نے کہا ’مزید دو نوجوانوں نے تشدد کا راستہ ترک کرکے گھر واپسی کی۔انہوں نے اِس اقدام کو قابل سراہنا قرار دیا اور گھر واپسی اختیار کرنے والے نوجوانوں کا خیر مقدم بھی کیا۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کشمیر ہاﺅورااور سنگم سے تعلق رکھنے والے 2جنگجو نوجوانوں نے گھر واپسی کی ،تاہم سیکورٹی وجوہات کی بنا ءپر اِن کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ۔یاد رہے کہ جنوبی کشمیر کے اسلام آباد ضلع میں ایک ابھرتے فٹبال کھلاڑی ماجد خان کے جنگجو بن جانے کا ڈرامہ باالآخر انکے سرنڈر کردینے پر ختم ہوگیاتھا اور وہ واپس لوٹ آئے ہیں سے جس انکے والدین نے راحت کی سانس لی ہے۔
ماجد کے سرنڈر کے حوالے سے تاہم ابہام ہے کہ پولس نے نہایت احتیاط بھرتی ہوئی ہے جبکہ کئی سطحوں پر کئی طرح کے بیانات دئے جاچکے ہیں۔اس دوران وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ماجد خان کے ہتھیار چھوڑ دینے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ایک ماں کے پیار کی جیت کہا ہے جبکہ اپوزیشن لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماجد کو تنگ طلب نہ کرکے عام اور پر سکون زندگی گذارنے کا موقعہ دیا جائے گا۔
ماجد خان،جو اپنے علاقے میں فٹبال اور کرکٹ کھیلنے کے علاوہ فرنگیوں کے جیسی اپنی شکل کیلئے مشہور ہیں، گھر سے غائب ہوکر سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر بندوق لیکر ظاہر ہوئے تھے۔ماجد کے لشکر طیبہ کے ساتھ جاملنے کی خبر سے وادی کشمیر سے لیکر دور دور تک سنسنی سی پھیل گئی تھی ۔
کشمیر پولس کے چیف منیر خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ماجد خان کے بارے میں پوچھے جانے پر ماجد کے ساتھ ساتھ سبھی مقامی جنگجووں سے لوٹ آنے کی اپیل کی تھی۔آئی جی کشمیر نے کہا تھا کہ وہ ماجد خان کے گھروالوں کے ساتھ رابطے میں ہیں جو اپنے بیٹے کو واپس لے آنے کیلئے کوشاں ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان کوششوں میں مدد دینگے اور چاہیں گے کہ مذکورہ ہتھیار چھوڑ کر واپس معمول کی زندگی گذارنے کیلئے لوٹ آئے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر مقامی جنگجو سرکاری فورسز کے ساتھ جھڑپ ہونے کے دوران بھی ہاتھ کھڑا کریں تو انہیں بخش دیا جائے گا۔انکے اس بیان کے محض چند گھنٹوں کے بعد ہی ماجد خان کے سرنڈر ہونے کی خبر اسی سنسنی کے ساتھ پھیل گئی کہ جس طرح خود انکے اچانک جنگجو بننے کی نا قابلِ یقین خبر پھیل گئی تھی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فٹبالر سے جنگجو بنکر محض چند دنوں میں شہرت حاصل کرنے کے ساتھ ہی ہتھیار پھینک کر سرنڈر کر چکے جنوبی کشمیر کے ایک نوجوان ماجد خان کو فوج نے اپنے اخراجات پر اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ریاست بھیج دیا ہے تاہم یہ سب چ ±پ چاپ اور رازدارانہ انداز میں کیا گیا ہے۔
Comments are closed.