مشترکہ مزاحمتی قیادت کا عالمی انسانی حقوق تنظیموں کے نام مکتوب
سرینگر /مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں کے نام ایک خط ارسال کرکے کشمیر میں ہورہی مبینہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں ۔
ارسال کردہ خط میں مزاحمتی قیادت نے بتایا ”پولیس اپنے رویے پر پردہ ڈالنے کےلئے ایک پیدائشی معذور شخص پر وہ الزامات عائد کررہی ہے جن کا ارتکاب کسی صحت مند انسان کےلئے بھی مشکل نظر آتا ہے“۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اِن انسانی حقوق پامالیوں کا نوٹس لیں۔
مشترکہ مزاحمتی قائدین سید علی گیلانی ،میرواعظ محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ،اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے نام مکتوب کرکے معذور تنویر احمد وار ولد محمد شعبان وار ساکنہ اولڈ ٹاو ¿ن بارہمولہ جو آج بھی دوسری مرتبہ لگایا گئے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت اسیر ہیں کی حالت زار کی جانب توجہ مبذول کرنے کا مطالبہ ۔
مشترکہ خط کا متن میں بتایا کہ ۵۳ برس کے جوان سال تنویر احمد وار ولد محمد شعبان وار ساکنہ اولڈ ٹاﺅن بارہمولہ ‘ پیدائشی طور پر معذور ہونے کی وجہ سے چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ معذوری کے ساتھ ساتھ یہ شخص مزید کئی بیماریوں میںبھی مبتلا ہے اور لگاتارادویات لینے پر مجبور ہے۔
خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ حیران کن طور پر سرکاری حکام ایک جسمانی طور پر معذور و مجبور قیدی کو امن و امان کےلئے اس قدر خطرناک مانتے ہیں کہ ہائی کورٹ کی جانب سے اس پر عائد سیفٹی ایکٹ کو بار بار کالعدم قرار دئے جانے کے باوجود اسے رہا نہیں کیا جارہا ہے۔
خط میں مشترکہ قائدین نے عالمی انسانی حقوق تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ کہ وہ ان معاملات کا نوٹس لیں ۔ ان کا کہناتھا ’ہم پرامید ہیں کہ آپ کی بروقت مداخلت جسمانی طور پر ناخیز تنویر احمد وار کی زندگی میں مثبت تبدیلی لاسکتی ہے اور اس کے زندگی کو لاحق بدقسمت ایام کا ضرور خاتمہ ہوگا۔‘
Comments are closed.