جموں میں مدرسہ منہدم کرنا قابل مذمت :انجینئر رشید 

لنگیٹ / عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ اور ایم ایل اے لنگیٹ انجینئر رشید نے گول گجرال جموں میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے مدرسہ کو منہدم کرنے کی کاروائی کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ دراصل سرکار ی انتظامیہ میں کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو جان بوجھ کر مختلف فرقوں کے درمیان تلخیاں پیدا کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔
 انجینئر رشید نے قلم آباد لنگیٹ میں ایک تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا ©”ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم کے متعلق ہرگز کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے لیکن اگر ایسا صرف کسی مخصوص فرقہ یا طبقہ کے خلاف کیا جائے تو یہ صرف ناقابل قبول بات ہے بلکہ اس کو ہر حال میں روکنا ہی ہوگا“ ۔
ان کا کہناتھا” نہ صرف کہ متعلقہ مدرسہ کئی دہائیوں سے مذکورہ جگہ پر چل رہا تھا بلکہ سرکاری انتظامیہ نے خود بھی متعلقین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ مدرسہ کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی جائے گی۔ کون نہیں جانتا کہ جموں خطہ میں درجنوں ایسے مندر اور دیگر عبادت گاہوں کے علاوہ کئی تعمیر ات کھڑا کئے گئے ہیں جو سرکاری زمینوں پر بنائے گئے ہیں لیکن آج تک کسی نے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے “۔
 انجینئر رشید نے سرکار پر زور دیا کہ مدرسہ منہدم کرنے والوں کے خلاف نہ صرف فوری کاروائی کی جائے بلکہ مدرسہ کو سرکاری خرچہ سے بغیر کسی تاخیر کے تعمیر کیا جائے ۔انہوں نے مزید کہا ”اس بات سے سبھی باخبر ہیں کہ نہ صرف سیول سیکریٹریٹ جموں میں مندر قائم ہے بلکہ حال ہی میں وزیر اعلیٰ رہائش گاہ کے باہر بھی مندر کی تعمیر کی گئی ہے ۔ اگر چہ کسی کو ایسا کرنے میں کوئی اعتراض نہیں لیکن پوچھا جا سکتا ہے کہ سرینگر اور جموں کے سیول سیکریٹریٹ احاطوں کے اندر مسجد تعمیر کرنے سے کون سی طاقت سرکار کو روک رہی ہے“۔
 انجینئر رشید نے سرکار سے مطالبہ کیا کہ وہ مذید کسی تاخیر کے بغیر سیول سیکریٹریٹ کے اندر جموں اور سرینگر میں مسجد تعمیر کرے تاکہ یہ بات ثابت ہو جائے کہ سرکار تمام فرقوں کا پورا خیال رکھتی ہے ۔

Comments are closed.