بینک ڈکیتی: ذاکر موسیٰ اور اسکے دو ساتھی ملوث:پولیس
ترال نور پورہ ترال میں دن دہاڑے بنک لوٹے جانے کی ایک سنسنی خیز واردات کے دوران نقاب پوش مسلح افراد نے جموں کشمیر بنک کی مقامی شاخ سے بندوق کی نوک پر قریب ایک لاکھ روپے کی رقم لوٹ لی۔ اسلحہ برداروں نے بنک کے سامان کی توڑ پھوڑ اور جاتے وقت ہوائی فائرنگ بھی کی جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ واردات القاعدہ سے منسلک انصارغزوة الہند کے سربراہ ذاکر موسیٰ اور اسکے دو ساتھیوں نے انجام دی ہے۔ ترال سے کے ا یم این نمائند ے نے اطلاع دی ہے کہ قصبہ کے نور پورہ علاقے میں اُس وقت اتھل پتھل مچ گئی جب 3 نقاب پوش اسلحہ بردار اچانک نمودار ہوئے اور جموں کشمیربنک کی مقامی شاخ میں زبردستی داخل ہوگئے۔فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ بنک میں حفاظتی اہلکار موجود تھے یا نہیںاور آیاانہوں نے کسی قسم کی مزاحمت کی؟پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے بنک عملے اور وہاںموجود کچھ گاہکوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنایااور بنک میں موجود رقم اڑالینے میں کامیابی حاصل کی۔پولیس کے ایک آفیسر نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتایا کہ یہ واردات بعد دوپہر 2بجکر10منٹ پر بنک میں کھانے کے وقفے کے دوران انجام دی گئی جس دوران مسلح لٹیرے بنک سے97256 روپے کی رقم اڑا لے گئے۔انہوں نے کہا کہ اسلحہ برداروں نے بنک میں موجود کمپیوٹر وں اور کچھ سامان کی توڑ پھوڑ بھی کی۔عینی شاہدین کے مطابق مسلح افراد واردات انجام دینے کے فوراً بعدفرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور انہوں نے جاتے ہوئے ہوامیں گولیوں کے کئی راﺅنڈ بھی فائر کئے کی جس کی وجہ سے علاقے میں اتھل پتھل کے بیچ لوگوں کو محفوظ مقامات کی جانب بھاگتے دیکھا گیا۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور فوج سے وابستہ اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد علاقے میں نمودار ہوئی اور آس پاس کے علاقوں کو محاصرے میں لیکر بنک لٹیروں کی تلاش شروع کردی۔فوری طور پر اگر چہ بنک لوٹنے والوں کی شناخت نہیں ہوسکی تاہم پولیس کاکہنا ہے کہ یہ واردات علاقے میں سرگرم جنگجوﺅں نے انجام دی ہے۔ایس ایس پی اونتی پورہ محمد زاہد ملک نے بتایا کہ یہ واردات القاعدہ سے منسلک انصارغزوة الہند کے چیف ذاکر موسیٰ اور اسکے دو ساتھیوں نے انجام دی ہے اور ان کی تلاش شروع کردی گئی ہے۔واقعہ کے بعد ترال کی طرف جانے والی سڑکوں پر ناکے بٹھائے گئے جہاں گاڑیوں اور مسافروں کی سخت تلاشی کا سلسلہ شام دیر گئے تک جاری رہا۔واردات کی نسبت کیس درج کرلیا گیا ہے اور پولیس نے وسیع پیمانے پر تحقیقات شروع کردی ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنوبی کشمیر میں گزشتہ چند مہینوں کے دوران بنک لوٹنے کی وارداتوں میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ گزشتہ برس پرانے نوٹوں پر پابندی کے بعد جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں میں بنک ڈکیتی کے متعدد واقعات پیش آئے۔(کے ایم این)
Comments are closed.