ماجد خان کو فوج نے حصول تعلیم کیلئے بیرون کشمیر بھیج دیا
سری نگر، 2 دسمبر (یو ا ین آئی) وادی کشمیر میں فٹ بالر سے لشکر طیبہ جنگجو بننے والے 20 سالہ ماجد خان عرف شان پولاک جس نے 16 نومبر کی شام قصبہ اننت ناگ کے ایک فوجی کیمپ میں خودسپردگی اختیار کی، کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور اسپورٹس میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے وادی سے باہر بھیج دیا گیا ہے۔
فوجی ذرائع نے یو این آئی کو بتایا ’ماجد کے گھر والوں کو اعتماد میں لینے کے بعد ہی ماجد کو اعلیٰ تعلیم اور فٹ بال میں اپنا کیریئر بنانے کے لئے ریاست سے باہر بھیجا گیا ہے‘۔ فوج کی ویکٹر فورس کے جنرل آفیسر کمانڈنگ (جی او سی) میجر جنرل بی ایس راجو نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے یو این آئی کو بتایا ’جی ہاں۔ فوج نے ماجد کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے ریاست سے باہر بھیجا ہے‘۔ تاہم میجر جنرل راجو نے سیکورٹی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے مزید معلومات فراہم کرنے سے معذرت ظاہر کی۔
ماجد کی گھر واپسی کے فوراً بعد بھارت کے مشہور فٹ بالر اور سابق کپتان بائچنگ بھوٹیا نے ماجد کو نئی دہلی میں واقع بائچنگ بھوٹیا فٹ بال اسکول میں داخلہ دینے اور فٹ بال کی ٹریننگ فراہم کرنے کی پیشکش کردی تھی۔ ویکٹر فورس کے جی او سی نے بتایا ’جب ماجد کامیابی کے ساتھ اپنے کیریئر کو آگے بڑھائے گا، تو یہ دوسرے جنگجوو ¿ں کے لئے ایک مثال ثابت ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ وہ بھی اسی کے نقش قدم پر چلیں گے‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ’فوج اور حکومت اور میں سے کون ماجد کی ایجوکیشن کو سپورٹ کررہاہے‘ تو بی ایس راجو کا جواب ’ماجد کے گھر والے‘ تھا۔
جی او سی نے بتایا کہ جنوبی کشمیر میں کچھ دن پہلے ایک اور جنگجو نے خودسپردگی اختیار کی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مزید تفصیلات منکشف نہیں کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا ’سیکورٹی وجوہات کی بناءپر اب خودسپردگی اختیار کرنے والے جنگجوو ¿ں کی تفصیلات منکشف نہیں کی جائیں گی‘۔
جی او سی ویکٹر فورس نے بتایا کہ خودسپردگی اختیار کرنے والے جنگجوو ¿ں کو ان کی دلچسپی اور صلاحیتوں کے عین مطابق بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی جنگجوو ¿ں کو ماجد خان کے نقش قدم پر چلنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا ’خودسپردگی اختیار کرنے والے مقامی جنگجوو ¿ں کا خیال ہم رکھیں گے‘۔ قابل ذکر ہے کہ ماجد خان نامی فٹ بالر نے 16 نومبر کی شام کو ضلع اننت ناگ کے کھنہ بل میں واقع 1 راشٹریہ رائفلز (آر آر) کے کیمپ میں خودسپردگی اختیار کی۔
ماجد کے والدین نے اسے ویڈیو پیغامات کے ذریعے واپس گھر آنے کی اپیل کی تھی۔ لشکر طیبہ کی صفوں میں شمولیت کے بعد ماجد خان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں اسے ایک اے کے 47 رائفل کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ تاہم جب یہ اطلاع ماجد کی والدہ عاشیہ بیگم کو ملی تو اس نے کھانا پینا چھوڑ دیا تھا۔ عاشیہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنی آنکھوں کے نور (ماجد خان) کے واپس آنے تک بھوکی رہے گی۔ وہ اپنے گھر آنے والے ہر ایک شخص سے کہتی تھی کہ وہ ’ماجد‘ کو واپس لانے میں اپنے طور پر مدد کرے۔ اس دوران ماجد کے والد ارشاد احمد خان کو 14 نومبر کو اس وقت دل کا دورہ پڑا جب اسے کہیں سے معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا ضلع کولگام میں سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنس گیا ہے۔
تاہم ماجد کے سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے کی خبر صحیح نہیں تھی۔ ماجد خان کے والد اور والدہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد کشمیر کے بیشتر سوشل میڈیا صارفین نے ماجد سے اپیل کی تھی وہ اپنے گھر کو واپس لوٹ آئیں۔ بعض صارفین نے ماجد کو اللہ اور اس کے رسول (ص)کا واسطہ دیکر اپنے گھر کو واپس لوٹنے کی اپیل کی تھی۔ جنوبی کشمیر کے قصبہ اننت ناگ میں کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ ڈگری کالج اننت ناگ میں بی کام سال دوم کے طالب علم ماجد نے اپنے ایک قریبی دوست یاور نثار کی ہلاکت کے بعد جنگجوو ¿ں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔ نثار نے جولائی 2017 ءمیں عسکری صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی اور اسے گذشتہ ماہ سیکورٹی فورسز کے ساتھ ایک مسلح تصادم میں جاں بحق کیا گیا۔( یو این آئی)
Comments are closed.