جموں کشمیر یتیم ٹرسٹ کا پینتالیسواں سالانہ اجلاس
شہر سرینگرپہلی اقامت گاہ برائے طالبات ہے کا افتتاح
سرینگر؍25نومبر/ سی این ایس/ جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ نے اپناپینتالیسواں یومِ تاسیس و سالانہ کانفرنس ہفتہ کوکو مرکزی دفتر باراں پتھر ہفت چنار سرینگر کی آڈیٹوریم میں نہایت ہی پُر وقار انداز میں منایاگیا۔ یہ تقریب ٹرسٹ کے بانی سرپرست مرحوم ٹاک زینہ گیری کے تیئں خراج عقیدت ادا کرنے کی خاطر بھی منعقد کی گئی۔ اس تقریب کی خصوصی بات ٹرست کے بارہویں تیم خانے ، جو کہ ٹرسٹ کا چوتھا اور شہر سرینگرپہلی اقامت گاہ برائے طالبات ہے، کا افتتاح تھا۔تقریب میں جموں و کشمیر کے اطراف و اکناف سے آئے ہوے لاتعداد ممبران اور رضاکاراں کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی مقتدر شخصیات نے اپنی شمولیت سے مجلس کی رونق بڑھائی۔ جسٹس بشیر احمد کرمانی صاحب بطورمہمان خصوصی جبکہ جناب(پروفیسر علی محمد شاہ اسلامک یونیورسٹی)، محمد ہارون (ڈپٹی کمشنر بڈگام) اور چیرمین سید السادات فاونڈیشن اننت ناگ بطورِ مہمانِ ذی وقار شامل رہے۔تقریب کی صدارت ٹرسٹ کے سرپرست جناب ظہور احمد ٹاک صاحب نے انجام دی۔ مجلس کا آغاز قران کریم کی چند مقدس آیات کی تلاوت بشمول ترجمہ کے ساتھ ساتھ نعت نبیﷺ سے ہوا یہ مبارک اور متبرک فریضہ ٹرسٹ کے زیر کفالت معصوم سی بچیوں نے اپنی پر اثر، میٹھی اور درد بھری آواز میں انجام دیکر سامعین کے من موہ /لئے۔ادب، ایڈمنسٹریشن اور سماجی خدمات میں نمایاں اور فقیدالمثال کارکردگی کے اعتراف میں بالترتیب پروفیسر علی محمد شاہ صاحب، محمد ہارون صاحب اورسید السادات فاونڈیشن سماجی تنظیم کو ٹاک زینہ گیری میموریل ایوارڈ برائے سال٢٠١٧۔٢٠١٦ سے نوازا گیا۔ اسکے علاوہ ٹرسٹ کے گیارہ یتیم خانوں میں زیرِ کفالت ٣٣ بچوں اور بچیوں کو ڈسپلن صفائی اور تعلیم میں نمایاں اور امتیازی کارگردگی کی بناء پر اسناد اور تحائف سے نوازکر ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ پروفیسر علی محمد شاہ صاحب نے شکریہ کے ساتھ ایوارڈ حاصل کرتے ہوے ٹرسٹ کی پینتالیس سالہ بے لوث خدمتِ محتاجگاں کی ستائش کی۔ انہوں نے مستحق طلباء کی اعلیٰ تعلیمی کاوشوں میں اپنا تعاون دینے کی یقین دہانی کرتے ہوے جموں کشمیر یتیم ٹرسٹ کو اسکی فلاحی کوششوں میں ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ چیرمین سید السادات فائونڈیشن نے انکی تنظیم کو سماجی خدمات میں ٹاک زینہ گیری ایوارڈ کے انتخاب کیلئے شکریہ ادا کرتے ہوے کہاکہ وہ مرحوم ٹاک زینہ گیری کی ان دردمندانہ سماجی خدمات سے بہت حد تک متاثر رہے ہیں۔جن سے انہیں خود بھی غریبوں،محتاجوں اور بیواؤںکو مدد پہنچانے کیلئے زبردست تحریک ملی۔ پچھلے پینتالیس سالوں سے مفلوک الحال، مسکینوں و بیواؤں، اور دیگر مستحقین کی دلجوئی کرنے پر جموں و کشمیر یتیم ٹرسٹ کے موجودہ سرپرست ظہور احمد ٹاک کی تعریف کرتے ہوئے موصوف چیرمین نے ٹرسٹ کیلئے نیک دعاؤں اور تمناؤں کا اظہار کیا۔مقرریں نے مرحوم ٹاک زینہ گیری کے تیئں گلہائے عقیدت نچھاور کرتے ہوے فرمایا کہ مرحوم ریاست اور بلا امتیازا سکے عوام کیلئے ایثار و خلوص کے پیکر تھے۔یوں تو ایک سرکاری آفیسر کی حیثیت سے انہوں نے انتظامیہ میں بھی لگن ، محنت اور دیانت سے کام کیا لیکن سماجی خدمت کے حوالے سے انہوں نے ایسی چھاپ چھوڑی جو ہر ایک ذی شعور کے دل میں مرتے دم تک نقش رہے گی۔جلسے کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے2016-17 کے لئے ٹرسٹ کی تمام فلاحی سرگرمیوں کا خاکہ اور مکمل تفصیل سالانہ رپورٹ کی صورت میں پیش کیا۔اور سامعین کو ان تمام پروگراموں کی جانکاری دلائی ۔اپنے مخصوص انداز میں جسٹس بشیر احمد کرمانی حاحب نے ٹرسٹ کی پینتالیسواں سالہ سماجی خدمات کو سراہتے ہوے ٹرسٹ کے بانی مرحوم عبدالخالق ٹاک زینہ گیری کے تئیں خراج عقیدت پیش کیا۔انہوں نے زکوٰۃ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوے اصحاب ثروت پر زوردیا کہ اہ اپنے صدقات و زکوٰۃ ادا کرکے ٹرسٹ کے خیراتی و فلاحی کاموں میں شرکت کریں تاکہ دکھی انسانیت کا بھلا ہو۔اپنے صدارتی خطبے میں ٹرسٹ کے سرپرست اعلیٰ جناب ظہور احمد ٹاک صاحب نے شرکائے مجلس کا شکریہ ادا کرتے ہوے قران و حدیث کی روشنی میں سماجی خدمت کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اپنے منفرد اور پرکشش انداز میں سامعین اور عوام الناس سے یتیموں، بیواؤں اور محتاجوں کی خدمت کی خاطر ٹرسٹ کیلئے دست تعاون مانگا۔ ٹرسٹ سے وابستہ رضاکاروں اور ان کے جذبۂ ایثار و ہمدردی کیلئے شکریہ ادا کرتے ہوے انہوں نے واضح کیا کہ ہمیں فرصت سے بیٹھے رہنے اور خوش فہمی سے اجتناب کرتے ہوے عجز و انکساری سے فلاحی کاموں کو سرگرمی سے انجام دینے کی فکر کرنی چاہیئے۔اور اس سلسلے میں کسی بھی زہر آلودہ تنقیس سے پریشان ہوے بغیر خدمت خلق میں منہمک رہنا چاہئے۔
Comments are closed.