ویڈیو: کشمیر تنازع کے حل کی راہ میں بھارت کے غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل رکاوٹ : میرواعظ
سرینگر / 21دسمبر:جموں وکشمیر کے دیرینہ تنازع کے حل کی راہ میں حکومت ہندوستان کے غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ اگر حکومت ہندوستان یہ سمجھتی ہے کہ اس مسئلہ کو طاقت سے ، تشدد سے ، فوجی قوت یا مار دھاڑ سے حل کیا جاسکتا ہے تو وہ شدید غلط فہمی کی شکار ہے۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں ظلم و جبر ، مار دھاڑ اور قتل و غارت کی انتہا ہو گئی ہے ۔ پلوامہ کے حالیہ دلخراش اور خونین واقعہ میں پوری قوم کو غمزدہ اور افسردہ کردیا اور کس طرح سے نہتے شہریوں اور نوجوانوں کا قتل کیا جارہا ہے ۔ دنیا کی کسی دوسری برسر جدوجہد قوم پر اتنا ظلم و جبر نہیں ڈھایا گیا جتنا کشمیری عوام پر روا رکھا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ارباب سیاست کی یہ سوچ کہ مسئلہ کشمیر کو طاقت اور فوجی قوت سے حل کیا جاسکتا ہے غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اب تو بھارت اور پاکستان کے سیاستدان ، دانشور اور دونوں ممالک کے سابقہ فوجی جنرل بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ہے بلکہ اس مسئلہ کو صرف سیاسی طور ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حریت کانفرنس اور تحریک نواز قیادت اول روز سے یہ کہہ رہی ہے کہ جموں وکشمیر کا مسئلہ ایک انسانی اور سیاسی مسئلہ ہے جس کو کشمیر میں لاکھوں کی تعداد میں ہتھیار بند فوجی تعینات کرنے سے حل نہیں کیا جاسکتابلکہ اس طرح کے طرز عمل سے یہاں بھارت کیخلاف عوامی غم و غصے میں اضافہ ہوگا اور حالات اسی طرف اشارہ کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء کشمیر کی یہ تیسری نسل ہے جو سڑکوں پر آکر اپنے جائز حق خودارادیت کے حصول کیلئے اپنی جانیں قربان کررہی ہے ۔جموں وکشمیر میں ہوئے حالیہ نام نہاد بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے جناب میرواعظ نے کہا کہ بھارت کے کچھ اداروں نے حکومت ہندوستان کو یہ رپورٹ دی ہے کہ ان نام نہاد بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات میں جو اعداد و شمار سامنے آئے ہیں اس کے مطابق صرف 5% لوگوں نے ان میں شرکت کی اور اکثر جگہیں تو ایسی تھیں جہاں کوئی امیدوار میسر نہیں تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک لاحاصل مشق کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہندوستان اس طرح کے نام نہاد انتخابات کا ڈھونگ رچا کر یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ یہاں کے عوام بجلی ، سڑکوں ، ٹھیکوں وغیرہ کیلئے پریشان ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے یہاں کے عوام اپنے پیدائشی حق ، حق خودارادیت کے حصول کیلئے برسر جدوجہد ہے اور جب تک حکومت ہندوستان اس بات کا اعتراف نہیں کرتی اور حکومت پاکستان اور کشمیری عوام کو اعتماد میں لیکر اس مسئلہ کے حل کیلئے سودمند کوششیں نہیں کی جاتیں تب تک اس طرح کا عمل ایک لاحاصل کوشش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ حریت پسند قیادت اور کارکنوں کو جیلوں میں بھرنے سے ان پر جھوٹے الزامات عائد کرنے سے NIA اورED جیسے حربوں سے کشمیری عوام کو خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا حکومت ہندوستان کو یہ مشورہ ہے کہ اس سے قبل کہ یہاں کے عوام کا غصہ اپنی انتہا کو چھو جائے وہ اس مسئلہ کو ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے حل کرنے کیلئے اقدامات کرے اور حریت پسند قیادت اس طرح کے عمل میں ہر طرح کا تعاون دینے کیلئے تیار ہے ۔اس دوران پلوامہ میں حالیہ خونین سانحے اور وہاں کے لوگوں کو عذاب و عتاب کا نشانہ بنانے، حریت پسند قائدین اور کارکنوں کی گرفتاری اور جھوٹے مقدمات کے تحت ان کو جیلوں میں مقید کرنے کیخلاف نماز جمعہ کے بعد مرکزی جامع مسجد سرینگر میں حریت کانفرنس اور عوامی مجلس عمل کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے ان زیادتیوں کیخلاف پر امن مظاہرے کے ذریعہ صدائے احتجاج بلند کیا اور اس کی مذمت کی۔دریں اثنا حریت ترجمان نے مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد ہوئے پر امن مظاہرے فورسز اور پولیس کی جانب سے تشدد آمیز کارروائیوں، لاٹھی چارج، ٹیئر گیس شیلنگ اور پیلٹ کے بے تحاشا استعمال جس کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سرکاری دہشت گردی کا کھلا مظاہرہ قراردیا اور اسکی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
Comments are closed.