خفیہ ایجنسیاں کشمیر اور آسام سمیت بھارت میں کہیں پر بھی کسی بھی کمپوٹر کے ڈیٹا کی جانچ کرسکتے ہیں

10مرکزی ایجنسیوں کے پاس اختیارات،تعاون نہ کرنے والے کو 7سال قید اور جرمانے کی سزا بھی ہوسکتی ہے

سرینگر21دسمبر: مرکزی سرکار نے 10مرکزی خفیہ ایجنسیوں کو اختیارات دیئے ہیں کہ وہ کسی بھی شخص یا ادارے سے منسلک کمپوٹر کے ڈیٹا کی جانچ کرسکتی انٹلی جنس بیور سے لے کر این آئی تک دس سینٹرل ایجنسیاں اب کسی بھی کمپیوٹر میں موجود ، ریسیو اور اسٹورڈ ڈیٹا سمیت کسی بھی جانکاری کی نگرانی ، انٹرسپیٹ اور ڈکرپٹ کرسکتی ہیں۔اس دوران ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے عدالت عظمیٰ سے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ہے کہ سپریم کورٹ اس فیصلے کو سنجیدگی سے لیکر معاملے کی تہہ تک جائے گی جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے جمعہ کو اْمید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اْس آرڈر پر نظر ثانی کرائے گا جس کے ذریعے تحقیقاتی ایجنسیوں کو بے پناہ اختیارات دئے گئے ہیں اور جس کے ذریعے اْنہیں کسی بھی کمپیوٹر تک رسائی حاصل ہوگی یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے جج بھی اس ذمرے میں لائے گئے ہیں۔وزارت داخلہ نے دس حفاظتی اور سراغرساں ایجنسیوں کو کمپیوٹر مانیٹرنگ، انٹرسیپشن اور کسی بھی قسم کی انفارمیشن تک رسائی کیلئے مامور کیا ہے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق انٹلی جنس بیور سے لے کر این آئی تک دس سینٹرل ایجنسیاں اب کسی بھی کمپیوٹر میں موجود ، ریسیو اور اسٹورڈ ڈیٹا سمیت کسی بھی جانکاری کی نگرانی ، انٹرسپیٹ اور ڈکرپٹ کرسکتی ہیں۔ وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک حکم کے مطابق 10 ایجنسیوں کے پاس اختیار ہے کہ وہ کسی بھی کمپیوٹر کے ڈیٹا کو چیک کرسکتی ہیں۔ان ایجنسیوں میں انٹلی جنس بیور ، نارکوٹکس کنٹرول بیورو ، ای ڈی ، سینٹرل ٹیکس بورڈ ، ریوینیو انٹلی جنس ڈائریکٹویٹ ، مرکزی جانچ بیورو ، قومی تفتیشی ایجنسی ، کابینہ سکریٹریٹ ( آر اینڈ ارے ڈبلیو ) ڈائریکٹوریٹ آف سگنل انٹلی جنس ( جموں و کشمیر ، نارتھ ایسٹ اور آسام کے علاقوں کیلئے ) اور پولیس کمشنر ، دہلی کا نام شامل ہے۔ایجسنیاں ریاست جموں و کشمیر آسام اور دیگر ریاستوں میں کسی بھی شہری یا ادارے سے منسلک کمپوٹر کو اپنی تحویل میں لیکر اس کے ڈیٹا کی جانچ کرسکتے ہیں ۔ خفیہ ایجنسیوں کو اختیارات حاصل ہوگا کہ وہ کسی بھی شخص چاہئے وہ کوئی بھی منسٹر، وزیر ، پولیس آفسیر ، فوجی آفیسر ، صحافی یا کوئی بھی شخص کیوں نہ ہو کے ذاتی یا دفتری کمپوٹر کو بلا پیشگی اطلاع کے جانچ کرسکتے ہیں ۔ خفیہ اداروں کے ساتھ تعاون نہ کرنے اور کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سات برس کی سزا اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے ۔اس حکم کے مطابق سبھی سبسکرائبر یا سروس پرووائیڈر اور کمپیوٹر کے مالک کو جانچ ایجنسیوں کو تکنیکی تعاون دینا ہوگا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ، تو انہیں سات سال کی سزا کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔دریں اثناء نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ نے اس فیصلے پر اپنے تبصرے کااظہار کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ انہوںنے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ عدالت عظمیٰ مرکزی سرکار کے اس فیصلے پرسنجیدگی سے غور کرے گی اور فیصلہ کو کاالعدم قراردی گی۔جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبد اللہ نے جمعہ کو اْمید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اْس آرڈر پر نظر ثانی کرائے گا جس کے ذریعے تحقیقاتی ایجنسیوں کو بے پناہ اختیارات دئے گئے ہیں اور جس کے ذریعے اْنہیں کسی بھی کمپیوٹر تک رسائی حاصل ہوگی یہاں تک کہ سپریم کورٹ کے جج بھی اس ذمرے میں لائے گئے ہیں۔وزارت داخلہ نے دس حفاظتی اور سراغرساں ایجنسیوں کو کمپیوٹر مانیٹرنگ، انٹرسیپشن اور کسی بھی قسم کی انفارمیشن تک رسائی کیلئے مامور کیا ہے۔

Comments are closed.