کشمیری اسکالر دھمکیوں کی وجہ سے راجستھان میں کالج چھوڑنے پر مجبور

کشمیری اسکالر شرپسندوں کی طرف سے نازیبہ سلوک کی وجہ کالج چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ساینس اینڈ انجینئرنگ ریسرچ بورڈراجستھان کے تحت فارمیسی میں ریسرچ کررہے کشمیری اسکالرہاشم صوفی کے ساتھ ریاست سے باہرنازیبہ سلوک کرنے کی وجہ سے وہ کالج چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ہاشم کے کپڑوں اور ہوسٹل کے دروازے پر شر پسند عناصر نے نازیبہ الفاظ کا استعمال کیا ہے۔جس کی وجہ سے ہا شم اپنی ڈگری ادھوری چھوڑ کر کشمیر لوٹ آنے پر مجبور ہوگیا۔27سالہ ہاشم کشمیر کے بانڈی پورہ علاقے کا رہنے والا ہے۔ہاشم کا کہنا ہے کہ اس کے کپڑوں اور دروازے پر پر لکھی گئی دھمکیوں نے اسے چونکا دیا ۔جس کے بعد ہاشم نے اپنے استاد اور وارڑن سے اس بارے میں شکایت کی۔ہاشم کا کہنا ہے کہ کالج انتظامیہ کی طرف سے اسے بھر پور حمایت ملی ہے۔لیکن اس کے بعد اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔
ہاشم کا کہنا ہے کہ اس کے والدین نے اس کو وہاں نہ رہنے کا مشورہ دیا ۔جس کے بعد اس کو اپنے گھر آنے پر مجبور ہونا پڑا۔ہاشم کا کہنا ہے کہ وہ ابھی بھی کالج جانے کے لئے تیار ہے لیکن اس کے والدین اب اجازر نہیں دیں گے۔
BITS Pilani managment کے مطابق کالج میں اس حادثے کے خلاف زبر دست کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے اس سلسلے میں کالج کمیٹی کو تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہیں۔
راجستھان میں بی جے پی حکومت میں یہ 48گھنٹوں میں دوسراواقعہ ہے جس میں طالب علموں کو تعلیمی ادارے چھوڑنے پڑے۔ میوار یونیورسٹی میں جمعہ کے روزمقامی باشندوں نے کشمیری طالب علموں پتھر بازوں کے نام سے بدنام کیا اور
حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وزیر اعظم نریندر مودی اور راج ناتھ سنگھ تمام ریاستوں کے وزراء ااعلیٰ سے کشمیری طالب علموں کو تحفظ دینے کی بات کررہے تھے۔ حالانکہ مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں 24گھنٹے ہیلپ لاین نمبرات جاری کئے ہیں
راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھراراجے نے غیر ریاستی طالب علموں کو بھر پورحمایت دینے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے راجستھان پولیس کو غیر ریاستی طالب علموں کوتحفظ دینے کے بھی ہدایات جاری کئے ہیں

Comments are closed.