آرٹیکل 35 اے کے دفاع میں احتجاجی ریلیاں برآمد
سرینگر: وادی کے تاجروں،سول سوسائٹی اراکین اور سرکاری ملازمین نے آئین ہند کی دفعہ 35 اے کے خلاف ہورہی مبینہ چھیڑ چھاڑ کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں ،جن میں بڑی تعدا دمیں تاجران،ملازمین اور سیول سو سائٹی کے نمائندوںنے شرکت کی۔ریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر نے کی کو ششوں کے خلاف وادی بھر کی تاجر برادی، سیول سو سائٹی انجمنوں کے نمائندوں اور سرکاری ملازمین نے گھنٹہ گھر ،پرتاپ پارک اور دیگر مقامات پر جمع ہو کر الگ الگ ریلیاں نکال کر 35اے کے حق میں اپنی آواز بلند کی ۔
کشمیر اکنامکس الائنس کے بینر تلے تاجروںاور صنعت کاروں کی ایک خاصی تعداد تاریخی گھنٹہ گھر لالچوک کے نزدیک جمع ہوئے ،جہاں انہوں نے 35اے کے حق میں احتجاجی دھرنا دیا ۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ اٹھا کر رکھے تھے ،جن پر 35اے کے حق میں نعرے درج تھے ۔یہاں کئی گھنٹوں تک دھرنے دےنے کے بعد تاجروں ،صنعت کاروں اور سیول سوسائٹی اراکین نے ایک ریلی نکالی اور پریس کالونی سرینگر تک مارچ نکالا۔ احتجاجی مارچ میں شامل تاجر وں اور سیول سو سائٹی اراکین نے مزاحمتی قیادت کی جانب سے آرٹیکل 35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے خلاف 30اور31اگست کو دی گئی ہڑ تال کال کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔
مقامی تاجر وصنعت کاروں کی تنظیموں نے مشترکہ طور ریاست کو حا صل خصوصی درجہ کے ساتھ کسی بھی چھیڑ چھاڑیا مداخلت کونا قابل قبول قرار دیتے ہو ئے کہا کہ اگر اس خصوصی قانون کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تو وہ اس کے خلاف اپنے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہیں۔
اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے چیئرمین اور کشمیر ٹریڈرس اینڈ مینو فیکچرس کے صدر محمد یاسین خان نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کو خصوصی آئینی حق حا صل ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی طرح کی چھڑ چھا ڈ کو بر داشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ آف انڈیا میں دفعہ35اے کی منسوخی سے متعلق دائر عرضیوں کو فوری طور پر مسترد کیا جائے۔ان کا کہناتھاکہ دفعہ35اے کے دفاع کے لئے ہم اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لئے تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم یہاں اس لئے جمع ہو ئے ہیں اور ہمارے احتجاج کر نے کا مقصد یہ ہے کہ ریاست جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کو زک پہنچانے کی کوشش نہ کی جائے۔انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ کو چاہئے کہ وہ دفعہ35اے کی منسوخی سے متعلق دائر عرضیوں کو فوری طور پر مسترد کرے۔
احتجاج میں شامل تاجر انجمنوں کے دیگرلیڈران نے بتایا کہ دفعہ35اے کے خلاف کسی بھی سازش کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔احتجاجی مظاہرین نے ’یہ ملک ہمارا ہے ،اس کا فیصلہ ہم کریں گے ،دفعہ35اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ منظور نہیں منظور نہیں ‘نے نعرے بلند کرتے ہوئے حکومت ہند کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر کے اسٹیٹ سبجیکٹ قانون کی منسوخی کے ایسے بھیانک نتائج برآمد ہونگے ،جس کا وہم گمان بھی بھارت کو نہیں ہوگا۔
ادھر محکمہ سریکلچر کے ملازمین نے پرتاپ پارک میں دفعہ 35 اے کے حق میں احتجاجی دھر نا .اس احتجاجی دھرنے کی قیادت ملازم انجمن کے صدر گو ہر حبیب گنائی نے کی .
انہوں نے کہا کہ دفعہ 35 اے کے ساتھ کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کو برداشت نہیں کیا جائیگا .مشترکہ مزاحمتی قیادت احتجاج کے دوسرے مرحلے پر 30اور31اگست کو ریاست گیر ہڑتال کی کال دی ہے ۔ممکنہ طور پر 31اگست کو دفعہ35اے معاملے کی سماعت سپریم کورٹ میں ہو رہی ہے ۔
Comments are closed.