سرسبز جنگلوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے گورنر انتظامیہ سے مداخلت کا عوامی مطالبہ
سرینگر؍؍18جولائی: وادی کشمیر کو ا ﷲ تعالیٰ نے اپنے بے پناہ حسن سے نوازا ہے اور اس کی خوبصورتی کو دوبالا کرنے کیلئے اسے گھنے اور سرسبز و شاداب جنگلوں سے نوازا ہے مگر قدرت کی جانب سے عطا کئے گئے اس انمول اور نایاب تحفے کو جنگل اسمگلر اپنے حقیر مفادات کی خاطر زک پہنچا رہے ہیں جبکہ جنگلوں میں لگنے والی آگ نے بھی تشویشناک صورتحال پیدا کردی ہے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق جنوبی کشمیر میں جنگل اسمگلر نامساعد حالات کا فائدہ اٹھا کر کئی ہرے بھرے جنگلوں میں گھس کر غروب آفتاب سے لے کر طلوع آفتاب تک سرسبز شاداب پیڑوں کی کٹائی کرتے ہیں اور تازہ کاٹی گئی لکڑی کو گھوڑوں اور دیگر ذرائع سے خفیہ ٹھکانوں پر پہنچانے کے بعد حاجتمند صارفین کو فروخت کرکے دولت کی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ اگر جنگل اسمگلروں کی ان سرگرمیوں پر قدغن لگانے کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو یہاں ہرے بھرے جنگلوں کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔ عوامی حلقوں کے مطابق سرسبز شاداب پیڑوں کی کٹائی اور جنگلوں میں پیش آنے والی آگ کی واردات کو روکنے کیلئے اگر موثر اور کارگر اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو ہاں کے جنگل مٹی کے ٹیلوں میں تبدیل ہوتے رہ جائینگے۔ لوگوں نے محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحفظ جنگلات کو ہر سطح پر یقینی بنانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں۔ عوامی حلقوں نے گورنر این این ووہرا سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوبی کشمیر میں سرسبز سونے کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے فوری طورپر اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ محکمہ جنگلات میں تعینات بعض ملازمین کے حوصلے اتنے بلند ہو گئے ہیں کہ وہ دن کے اجالے میں سرسبز جنگلوں کو اسمگلروں سے ملی بھگت کرکے لوٹ رہے ہیں۔
Comments are closed.