پلوامہ کے کاکہ پورہ ، کھدرمو ، مارول ، کوئل سرنو اور نیوا میں جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اُٹھا
مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے ، گولیاں چلنے کی بھی آوازیں سنائی دیں ۔ کولگام میں بھی تلاشی آپریشن
سرینگر؍؍18جولائی: جنوبی ضلع پلوامہ کے نصف درجن گاؤں میں شبانہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اُٹھا ، مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے ۔ مقامی لوگوں نے فوج پر رہائشی مکانات کی توڑ پھوڑ کرنے کا الزام لگایا۔ دریں اثنا کولگام میں بھی دورانِ شب جنگجو مخالف آپریشن کے دوران تشدد بھڑک اٹھا جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے گئے۔ خبر رساں ایجنسی یو پی آئی کے مطابق جنوبی کشمیر میں فوج نے آپریشن آل آوٹ میں تیزی لائی ہے ۔ نمائندے کے درمیان درمیانی رات کو سیکورٹی فورسز نے جنوبی ضلع پلوامہ کے ایک درجن گاؤں کو بیک وقت محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ سرکاری عہدیدار کے مطابق فوج کی 50 راشٹریہ رائفلز نے دوران شب کاکاپورہ پلوامہ نامی بستی کو محاصرے میں لیکر تلاشی کاروائی عمل میں لائی،مقامی لوگوں کے مطابق انہوں نے علاقے میں گولیاں چلنے کی آوازیں بھی سنی تاہم فوری طور یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ گولیاں کیوں اور کہاں سے چلائی گئیں۔اس دوران سیکورٹی فورسز نے کھدمو اور مارول نامی دیہی علاقوں میں بھی شبانہ جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران لوگوں نے فوج کے خلاف نعرے بازی کی پولیس زرائع کے مطابق رات 12 بجے تک جب فوج کا جنگجوؤں کے ساتھ کوئی آمنا سامنا نہیں ہوا تو انہوں نے علاقے کا محاصرہ ختم کرلیا۔ادھر مقامی لوگوں نے فوج پر رہائشی مکانوں کی توڑ پھوڑ اور مکینوں کا زد کوپ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ کے ہی کوئل نامی گاؤں میں فوج نے درمیان رات کو جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا جس دوران گھر گھر تلاشی لی گئی تاہم جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان آمنا سامنا نہ ہونے کے بعد محاصرے کو ختم کیا گیا ۔ علاوہ ازیں فسٹ آر آر ، ایس او جی کولگام اور سی آر پی ایف کی مشترکہ ٹیم نے ریشی پورہ کیموہ کولگام علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ہے۔ نمائندے کے مطابق نماز مغرب کے بعد سیکورٹی فورسز نے ریشی پورہ کیموہ کولگام اور اُس کے ملحقہ علاقوں کو سیل کرکے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تلقین کی ۔ مقامی ذرائع نے بتایا کہ فوج ، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کی بھاری جمعیت نے آس پاس علاقوں کو بھی محاصرے میں لے کر چار دائروں والی سیکورٹی تعینات کی جبکہ جگہ جگہ خصوصی جنریٹر بھی نصب کئے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد گاؤں میں تلاشی آپریشن شروع کیا جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے جا رہے ہیں۔مقامی ذرائع نے بتایا کہ شام دیر گئے نوجوانوں کی ٹولیاں سڑکوں پر نمودار ہوئیں اور سیکورٹی فورسز پر پتھراو کر نا شروع کیا جس کے نتیجے میں علاقے میں سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا۔ یوپی آئ
Comments are closed.