نہتے شہریوں کو زد وکوب کرنا سرکاری دہشت گردی

جائیداد اور اسباب خانہ کو تہس نہس کرنے کی کارروائیاں دھمکانے کی کوشش:حریت (ع)

سرینگر:١٨،جولائی : حریت(ع) نے جنوبی کشمیر کے شوپیاں کے موچھواڑہ گائوں میں فورسز کی جانب سے مبینہ طور زدکوب کرنے کی کارروائیاں قابل مذمت ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق حریت(ع) نے جنوبی کشمیر کے شوپیاں کے موچھواڑہ گائوں میں فوج اور فورسز کی جانب سے نہتے شہریوں کو زد وکوب کرنے ، اسباب خانہ کو تہس نہس، جائیداد کی توڑ پھوڑ اور درجنوں افراد کو زخمی کئے جانے کی کارروائی کو سرکاری دہشت گردی کا بدترین نمونہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذکورہ گائوں کے نہتے لوگوں کے ساتھ فوج اور فورسز کے اس غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک کا واقعہ سرکار کی جانب سے اخبارات کیلئے جاری اُس بیان کے ایک دن بعد ہی پیش آیا جس میں انہوں نے جنوبی کشمیر میںنوجوانوںکو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور لوگوںکو فورسز کا انسان نواز چہرہ دکھانے کی بات کی ہے ۔بیان میں سوال کیا گیا کہ کیا یہی فورسز کا انسان نواز چہرہ ہے کہ نہتے لوگوںکو زدوکوب کیا جائے انہیں تشدد کے ذریعہ شدید زخمی اور ان کی جائیداد اور اسباب خانہ کو تہس نہس کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میں تعینات فوج اور فورسز کو کالے قوانین کے نام پر حد سے زیادہ اختیارات صرف اسی لئے دیئے گئے ہیں تاکہ وہ یہاں کے مزاحمتی جذبے سے سرشار عوام کے جذبہ حریت کو طاقت اور قوت کے بل پر توڑنے کیلئے ہر غیر جمہوری اور غیر انسانی ہتھکنڈہ بروئے کار لائیں ۔بیان میں کہا گیا کہ کشمیر میںنہتے لوگوں کیخلاف مار دھاڑ ، ظلم و تشدد اور لوگوںکو طاقت کے بل پر زیر کرنا فوج اور فورسز کی معمول کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔بیان میں نیوہ پلوامہ میں نوجوانوں کیخلاف فورسز کی پر تشدد کاررائیوں اور پیلٹ کے بے تحاشہ استعمال جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ فورسز نے نہتے عوام کیخلاف ایک طرح کی جنگ چھیڑ رکھی ہے اور آئے روز انکی عوام دوستی سے عبارت بیانات محض فریب اور گمراہ کن ہیں۔بیان میں گورنر انتظامیہ کی جانب سے کشمیر میں کیبل آپریٹروں کو 30 کے قریب ٹی وی چینلز کو بند کرنے کے احکامات کو حد درجہ حیرت انگیز اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ اس طرح کے فیصلے اظہار رائے کی آزادی پر قدغن کے ساتھ ساتھ لوگوںکو مقامی اور بین الاقوامی صورتحال کی آگاہی سے محروم کرنے کے مترادف ہے اور آج کے تیز رفتار زمانے میں جبکہ ذرائع ابلاغ کی اہمیت کو پوری دنیا میں نہ صرف تسلیم کیا جارہا ہے بلکہ ان کی موجودگی کو دیگر ضروریات زندگی کی طرح لازمی تصور کیا جارہا ہے ۔ایسے میں اس طرح کے فیصلے افسوسناک ہی کہے جاسکتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ حد یہ ہے کہ ان میں بیشتر اسلامی اور کھیل چینلز کو بھی بند کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں جو کہ سراسر آمرانہ طرز عمل کا عکاس ہے ۔دریں اثنا حریت ترجمان نے معروف صحافی خورشید احمد وانی کے والد گرامی غلام حسن وانی ساکنہ دیور ترال کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حریت چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق اور جملہ قیادت کی جانب سے غمزدہ خاندان بالخصوص خورشید احمد وانی کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور اللہ تعالیٰ سے مرحوم کی مغفرت ، جنت نشینی اور پسماندگان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔

Comments are closed.