جیلوں میں مقید اسیران کی حالت انتہائی نا گفتہ بہہ

قیدی کی موت قابل مذمت،مسلسل نظر بندی انتقام گیری پر مبنی:صحرائی

سرینگر:١٨،جولائی : / تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کہا ہے کہ جیلوں میں مقید اسیران کی حالت زار قابل تشویش ہے ۔انہوں نے کوٹ بھلوال جیل میں مقید غلام حسن ملک کی موت کو قابل ِمذمت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمتی لیڈران وکارکنان کی مسلسل نظر بندی انتقام گیری پر مبنی ہے ۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق تحریک حریت کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے لیڈروں محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، شکیل احمد یتو، میر حفیظ اللہ، غلام محمد تانترے، عبدالسبحان وانی، محمد امین آہنگر، جاوید احمد پھلے، نثار احمد نجار اور محمد حسین وگے کو گزشتہ 2سال سے مسلسل جیلوں میں قید رکھنے اور بار بار پبلک سیفٹی ایکٹ لگانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی منتقمانہ پالیسی ہے کہ آزادی پسند سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو جان بوجھ کر عذاب وعتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 2برسوں سے مسلسل ان لیڈروں اور کارکنوں پر کالے قانون PSAکا نفاذ اور فرضی الزامات کے تحت FIRدرج کئے جارہے ہیں۔ حالانکہ ان پر لگائے گئے پولیس الزامات کو عدالتوں نے مسترد کردیا ہے اور جو بھی FIRاُن کے خلاف درج کئے گئے اُن کی ضمانتیں عدالتوں سے حاصل کرکے پولیس اسٹیشنوں میں پیش کی جاچکی ہیں، مگر ان تمام قانونی لوازمات کو پورا کرنے کے باوجود اُن کی رہائی عمل میں نہیں لائی جاتی ہے۔ محمد یوسف فلاحی اور شکیل احمد ایتو پر جو بھی انتظامیہ کی طرف سے الزامات عائد کئے گئے اُن کی ضمانتیں پولیس کو فراہم کی جاچُکی ہیں، مگر پولیس اس کے باوجود اُن کو نت نئے کیسوں میں پھنسا رہے ہیں۔ محمد یوسف فلاحی کی صحت بُری طرح متاثر ہوچکی ہے اور اُن کو عدالتوں میں بھی پیش نہیں کیا جاتا ہے، جبکہ شکیل احمد ایتو کی گرفتاری سے قبل ہی سرجری ہوچکی تھی۔ اسی طرح عبدالغنی بٹ اور میر حفیظ اللہ بھی مختلف عارضوں میں مبتلا ہیں، غلام محمد تانترے اور اس کے بیٹے محمد یٰسین کو بھی انتقام گیری کا نشانہ بنایا گیا، وہ دونوں باپ بیٹے جبرم بے گناہی کے نتیجے میں جیل کاٹ رہے ہیں، جبکہ اس سے قبل اس کے ایک اور بیٹے کو ایک سال تک جیل میں بند رکھا گیا۔محمد اشرف صحرائی نے بشیر احمد ملک ارن ہال اسلام آباد کو 2ماہ قبل گرفتار کرکے بجبہاڑہ تھانے میں حبس بے جا میں رکھنے کو ظالمانہ اقدام قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بشیر احمد ملک کے عمر رسیدہ ولد غلام نبی ملک (76)گزشتہ 2سال سے مہلک بیماری کینسر میں مبتلا ہیں اور اس مہلک بیماری کی وجہ سے وہ بستر مرگ پر ہیں۔ ایسے حالات میں اُن کا واحد سہارا بشیر احمد ہی ہے جو اپنے بیمار والد کے علاج ومعالجہ اور خدمت کے فرائض انجام دے رہا تھا، مگر انسانیت سے عاری انتظامیہ نے اُن کا یہ واحد سہارا بھی چھین لیا۔ اسی طرح اشفاق احمد لون ولد عبدالمجید ہاوورہ کولگام پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگانے اور مٹن جیل منتقل کرنے کی مذمت کی۔محمد اشرف صحرائی نے کہا جموں کشمیر کے عوام کے خلاف ایک جنگ چھیڑی گئی ہے اور ہر طرح سے عوام کو عذاب وعتاب کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ چھاپے، تلاشیاں، محاصرے، گرفتاریاں، گولیاں اور پیلٹ اب کشمیریوں کا مقدر بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا فورسز اور پولیس کی زیادتیوں کی وجہ سے یہاں کے عوام کا امن وسکون غارت ہوچکا ہے اور انہی کی زیادتیوں کی وجہ سے جوان پُرخطر راستے اختیار کرنے پر مجبور ہورہے ہیں۔محمد اشرف صحرائی نے تمام سیاسی نظربندیوں کی رہائی پر زور دیا۔دریں اثناء محمد اشرف صحرائی نے کوٹ بھلوال جیل میں مقید غلام حسن ملک عرف نور خان بارہ مولہ کی وفات پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غلام حسن ملک کو 22؍جنوری 2018؁ء کو بارہ مولہ پولیس اسٹیشن طلب کرکے 7دن تک تھانے میں حبس بے جا میں رکھ کر جعلی کیس میں پھنسا کر پبلک سیفٹی ایکٹ لگاکر پہلے سینٹرل جیل اور پھر کوٹ بھلوال جیل منتقل کردیا گیا۔ کوٹ بھلوال جیل میں اس کی صحت بُری طرح سے بگڑ گئی اور اُن کا خاطر خواہ علاج ومعالجہ نہیں کرایا گیا، یہاں تک اس کی حالت اور زیادہ بگڑ گئی۔ اس کے بعد موصوف کو جموں میڈیکل کالج منتقل کیا گیا، جہاں وہ خالق حقیقی سے جاملا۔انہوں نے کہا کہ غلام حسن ملک کی زندگی کے ساتھ کھیلنا جیل حکام اور انتظامیہ کی کھلی لاپرواہی کا نتیجہ ہے کہ موصوف کو بروقت اور موثر علاج نہ ملنے کی وجہ سے ہی جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ محمد اشرف صحرائی نے کہا دہلی سے لے کر کشمیر تک کے سارے جیلوں میں عمر رسیدہ اور بیمار سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کا معقول طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے اُن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ حکومت جان بوجھ کر اُن کے علاج ومعالجہ میں لاپرواہی برت رہی ہے۔محمد اشرف صحرائی نے ICRCاور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں ایشیاء واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے اپیل کی کہ وہ جیلوں میں مقید سیاسی لیڈران اور کارکنوں کی زندگیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے میں اپنا رول ادا کریں اور غلام حسن ملک کی جیل میں بیماری کی حالت میں وفات پانے کی تحقیقات کی جانی چاہئیے۔

Comments are closed.