اسنادجمع کروائیں ،حلف نامہ بھی دیا،پھربھی انتظار

اسنادجمع کروائیں ،حلف نامہ بھی دیا،پھربھی انتظار

ہزاروںاین وائے سی اُمیدواروں کی6سال بعد دوبارہ تعیناتی میں تاخیر

سری نگر:۱۸،جولائی: سال2010کی گرمائی ایجی ٹیشن کے دوران اُسوقت کی عمرعبداللہ سرکارنے این وائے سی اسکیم کے تحت کشمیروادی سمیت پوری ریاست میں لگ بھگ 8ہزارنوجوانوں کی ریاستی یوتھ سروسزاینڈاسپورٹس کے ذریعے مختلف سرکاری محکموں میں تعیناتی عمل میں لائی تھی ،اوران این وائے سیزکوفی کس ماہانہ 2500روپے اُجرت دی جاتی تھی لیکن 2012میں ان سبھی این وائے سیزکوعارضی ملازمت سے نکال باہرکیاگیاکیونکہ اُن کی تعیناتی صرف2سال کیلئے ہی عمل میں لائی گئی تھی ۔کے این این کے مطابق سال 2012میں عارضی ملازمت کھوچکے ہزاروں نوجوانوں کی قسمت اُسوقت پھرجاگی ،جب ریاستی سرکارنے ان سبھی کوایس آرائو520کے تحت دوبارہ عارضی بنیادوں پرتعینات کافیصلہ لیا۔معلوم ہواکہ اس سلسلے میں 29دسمبر2017کوایک سرکاری آرڈریاحکمنامہ زیرنمبرTE/plan/NYC/210/2017جاری کیاگیا۔اسی آرڈرکے تحت ایڈیشنل سیکرٹری حکومت جموں وکشمیرنے 27مارچ2018کوڈائریکٹرجنرل یوتھ سروسزاینڈاسپورٹس ایک خط یاسرکاری حکمنامہ زیرنمبرEdu/plan/NYC/218/2018بھیجاجس میں ثانی الذکرکویہ ہدایت دی گئی کہ وہ این وائے سی کے تحت ماضی میں تعینات کئے گئے اُمیدواروں کی مکمل تفصیلات جمع کرکے ریاستی سرکارکوروانہ کریں ۔اس حکمنامہ میں یہ واضح کیاگیاکہ سال2012میں نکل باہرکئے گئے این وائے سی اُمیدواروں کی دوبارہ تعیناتی عمل میں لائی جارہی ہے ،اسلئے دوروزکے اندراندرایسے سبھی اُمیدواروں سے پہلی تعیناتی کی آرڈرکاپی کے علاوہ اُنکی تعلیمی قابلیت اورسکونت وغیرہ سے متعلق سبھی اسنادحاصل کی جائیں نیزاُن سے ایک حلف نامہ بھی لیاجائے کہ وہ کسی دوسرے محکمے میں تعینات نہیں ہیں یاکہ وہ کسی دوسرے محکمے میں ملازمت نہیں کریں گے ۔ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری کے بھیجے گئے حکمنامے میں ڈائریکٹرجنرل یوتھ سروسزاینڈاسپورٹس پریہ بھی واضح کیاگیاکہ وہ سابق این وائے سیزکی تفصیلات جمع کرتے وقت مقررہ یاطے شدہ رہنماء خطوط کی پابندی کویقینی بنائیں ۔ماضی میں اسٹیٹ یوتھ سروسزاینڈاسپورٹس کے ذریعے 2سال تک عارضی بنیادوں پرسرکاری ملازمت کرچکے این وائے سی اُمیدواروں کے ایک گرو پ نے بتایاکہ سری نگرکے اُمیدواروں کو یوتھ سروسزاینڈاسپورٹس کے ذریعے سال2010میں سری نگرمیونسپل کارپوریشن ،لائوڈااوربعدازاں ٹریفک پولیس میں تعینات کیاگیاجبکہ ریاست کے دیگراضلاع سے تعلق رکھنے والے ایسے اُمیدواروں کودوسرے سرکاری محکموں کیساتھ منسلک رکھاگیا۔انہوں نے کہاکہ سال2010میں تعیناتی کے وقت ہم سے ایک حلف نامہ لیاگیاتھاکہ ہم 2سالہ مدت مکمل ہونے کے بعدمستقل ملازمت کادعویٰ پیش نہیں کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ مارچ2018میں ایس آرائو520کے تحت دوبارہ تعیناتی کاآرڈرجاری ہونے کے بعدسبھی این وائے سی اُمیدواروں نے متعلقہ یوتھ سروسزاینڈاسپورٹس کے دفتر میں جاکراپنی ساری اسنادجمع کرنے کیساتھ ساتھ حلف نامہ بھی دیالیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجودہماری تعیناتی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔اس دورا ن این وائے سی اُمیدواروں نے انکشاف کیاکہ کم وبیش20منظورنظریاسفارشی این وائے سی اُمیدواروں کی تعیناتی عمل میں لائی جاچکی ہے جبکہ باقی اُمیدواروں کونظراندازکیاجارہاہے۔اُنہوں نے ریاستی گورنراین این ووہراسے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں ذاتی مداخلت کرکے ہماری تعیناتی کوجلدسے جلدیقینی بنائیں ۔

Comments are closed.